جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا جڑانوالہ کا دورہ، مسیحی برادری سےاظہار یکجہتی

  • ہفتہ 19 / اگست / 2023

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کا دورہ کیا اور توہین مذہب کے مبینہ الزامات کے بعد ہونے والے فسادات کے حوالے سے مقامی مسیحی برادری سے صورتحال دریافت کی۔

واضح رہے کہ 16 اگست  کو ہجوم نے مسیحی برادری کے کم از کم 86 گھروں اور 19 گرجا گھروں کو نذر آتش کر دیا تھا۔ پنجاب پولیس نے 1470 بلوائیوں میں سے کم از کم 145 شرپسندوں کو گرفتار کیا ہے، جن میں 2 اہم ملزمان بھی شامل ہیں۔ ملزموں کے خلاف  پانچ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

توڑ پھوڑ اور آتش زنی نے ملک بھر سے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ متعدد علما نے واقعے کی مذمت کی اور مجرموں کو سزا دینے پر زور دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج اپنی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متاثرین سے ملاقات کی اور نذر آتش عمارتوں کا جائزہ لیا۔

متاثرین سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گرجا گھروں پر حملے کرتا ہے تو مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حملہ آوروں کو پکڑیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وہ اپنے پیشےکی وجہ سے صحافیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ان کے لیے خوراک کے پیکٹ لائے ہیں۔ یہ اگرچہ ’سمندر میں ایک قطرے‘ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ایسا ہی کریں۔ سب سے بڑی ذمہ داری مسلمان پر ہے۔ انہیں اس موقع پر مسیحی برادری کی مدد کرنی چاہیے۔

انہوں نے دریافت کیا کہ سب کچھ ریاست پر کیوں چھوڑدیا جاتا ہے؟ ریاستی مشینری کی ’ٹینڈر وغیرہ‘ جاری کرنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسیحی رہنما سے کہا کہ دیکھیں کہ مالی حیثیت کے مطابق سب سے زیادہ امداد کی ضرورت کس کو ہے اور اسی حساب سے اشیا تقسیم کی جائیں۔

بعدازاں انہوں نے رہائشیوں کے ساتھ دوسرے علاقوں میں مدد کی ضرورت کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہاں لے جایا جائے۔

جڑانوالہ کے دورے کے بعد جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ جڑانوالہ میں ایک مسیحی بستی عیٰسی نگر میں گمراہوں کے ایک بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجاگھر اور مسیحی آبادی کے مکانات جلائے اور برباد کیے۔ یہ جان کر مجھے ایک پاکستانی اور ایک انسان کی حیثیت سے نہایت گہرا دلی صدمہ پہنچا اور شدید دکھ ہوا۔

مسلمان ہونے کے ناطے قرآن شریف پر عمل کرنا ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے۔ گرجا گھروں پر حملہ کرنے والوں نے قرآن پاک کے احکامات کی خلاف ورزی کی، اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کو کسی بدلے یا انتقام کا نام دے کر جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس قاضی فائز عیٰسی نے کہا کہ قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ آئین پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کی گئی ہے۔ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی سزا دس سال قید اور جرمانہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو پہنچنے والے نقصان کی ہر ممکن تلافی کی جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیٰسی نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 اور 295۔اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے اور کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال تک قید اور جرمانے کی سزائیں ہیں۔ ہر مسلمان کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جانوں، اموال، جائیداد، عزت اور عبادت گاہوں کی حفاظت کریں اور ان پر حملہ کرنے والوں کو روکیں اور ان کو پہنچنے والے نقصان کی ہر ممکن تلافی کریں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ناسمجھی کی انتہا یہ ہے کہ ’اسلام‘ جس کے مفہوم میں امن ہے اور جو اپنے پیروکاروں کو یہ تلقین کرتا ہے کہ لوگوں سے ملتے وقت ان کے لیے سلامتی کی دعا کیا کریں، اس مذہب کے چند ماننے والوں اور خود کو مسلمان کہنے والوں نے اپنے مذہب کی تعلیمات پامال کرتے ہوئے اتنی وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا۔