جڑانوالہ سانحہ، اقلیتوں کی بجائے انتہا پسندی کو دبائیں
- تحریر مظہر چوہدری
- ہفتہ 19 / اگست / 2023
مملکت خداداد پاکستان میں توہین مذہب کے واقعے پر قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایک بار پھرمشتعل ہجوم نے قانون ہاتھ میں لینے کی روایت کو دوہراتے ہوئے اقلیتوں کو دبانے اور شدید خوف زدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
اگرچہ ماضی کے برعکس اب مبینہ یا غیر مبینہ توہین کے واقعات میں قانون ہاتھ میں لے کر خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بننے والوں کے خلاف فوری کاروائیاں کی جانے لگی ہیں تاہم انتہا پسندی کے منبع کو کمزور یا ختم کرنا ابھی ریاست کی ترجیح نہیں بن سکا۔اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ توہین سے جڑے سارے واقعات میں ریاست کا ردعمل ایک جیسا نہیں رہتا۔ ریاست توہین سے جڑے کچھ واقعات میں فوری اور سخت ترین ردعمل دیتی ہے۔ سری لنکن شہری کے قتل اور آسیہ بی بی کی رہائی کے معاملے میں ریاست کی جانب سے دو ٹوک اور سخت ترین ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے معاملے میں بھی ریاست نے کوئی لچک نہ دکھائی۔ تاہم اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ توہین سے جڑے بیشتر معاملات و واقعات میں ریاست انتہا پسندوں کے آگے دانستہ یا غیر دانستہ سرنڈر کرتی دکھائی دیتی رہی ہے۔ریاست کے اس طرح کے دوہرے معیارات کی وجہ سے توہین مذہب کے مبینہ یا غیر مبینہ واقعات پر انفرادی واجتماعی سطح پر خود ہی مدعی، منصف اور جلاد بننے کی خطرناک روش ختم نہیں ہو سکی۔
ماضی میں توہین سے جڑے واقعات کی طرح جڑانوالہ واقعے کے پس منظر میں ذاتی چپقلش، سماجی رنجش اور مالی و سیاسی مفادات کا حصول بھی کارفرما ہو سکتا ہے۔جائے وقوعہ پر ملنے والے مبینہ توہین زدہ اوراق کے ساتھ مبینہ بے حرمتی کرنے والے باپ اور بیٹے کی تصویر کی موجودگی بتانے کے لیے کافی ہے کہ ماضی کی طرح توہین کی آڑ میں یا تو کسی نے انفرادی سطح پر کسی سے بدلہ چکانے کی کوشش کی ہے یا پھر یہ کسی گروہ کی جانب سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق کل17چرچ کو مکمل یا جزوی طور پر جلا یا گیا اور 85گھروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔اس واقعے کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ جڑانوالہ کے اس وقت کے اسٹنٹ کمشنر کا تعلق بھی مسیحی برادری سے تھا۔اس واقعے کی ابتدا میں چند مشتعل افراد اسسٹنٹ کمشنر سے اوراق کی مبینہ توہین کرنے والے باپ اور بیٹے کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں،اسسٹنٹ کمشنر گرفتاری کے لیے کچھ وقت مانگتا ہے، اسی دوران علاقے میں مشتعل افراد کی تعداد بڑھنے لگتی ہے اور ہجوم کے ہاتھوں جان لیوا تشدد کے خطرے کے پیش نظر مبینہ بے حرمتی کرنے والا باپ بیٹاخاندان کے ہمراہ روپوش ہو جاتے ہیں۔بعد ازاں مشتعل افراد کے دباؤ پر اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ کو تبدیل بھی کر دیا گیا۔اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ توہین کے الزامات پر کسی کو خود ہی مدعی، جج اور جلاد بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔دیگر معاملات کی طرح توہین کے کیسز میں بھی انصاف کے تقاضوں (مقدمہ قائم ہونے، تفتیش، عدالتی ٹرائل) کو پورا کرنا بنتا ہے۔
اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں توہین کے تحت قائم ہونے والے زیادہ تر مقدمات شواہد کی کمی کی وجہ سے برسوں چلتے رہتے ہیں۔نچلی عدالتوں کے ججز مذہبی شدت پسندوں کے دباؤ یا دھمکی کے باعث ایسے مقدمات میں نامزد افراد کو بری نہیں کر پاتے، ہاں البتہ انتہا پسندوں کے دباؤ یا دھمکی کے باعث نچلی عدالتوں میں مبینہ توہین میں ملوث افراد کو سزائیں ضرور ہو جاتی ہیں۔ اعلی عدالتوں میں اپیل کرنے کی صورت میں توہین کے مقدمات میں سزا پانے والے کئی ایک افراد کی سزائیں ختم ہوتی رہی ہیں۔اس حوالے سے آسیہ بی بی کا کیس گذشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ زیر بحث رہا۔آسیہ بی بی کو سیشن عدالت اور ہائی کورٹ نے موت کی سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے آسیہ کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ٹی ٹی پی نے پورے ملک میں شدید قسم کی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کیا تھا جس کی پاداش میں اسے کالعدم بھی ہونا پڑا تھا۔جڑانوالہ واقعے میں لوگوں کو مشتعل کرنے اور توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے کے حوالے سے گرفتار ہونے والے افراد میں بھی تحریک لبیک کے لوگ شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تحریک لبیک کے سوا قریبا ًساری سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اہم حکومتی و غیر حکومتی شخصیات نے جڑانوالہ واقعے کو سانحہ قرار دیتے ہوئے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کوئی شک نہیں کہ جڑانوالہ میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کی ریاستی وحکومتی اور مذہبی و سماجی سطحوں پر دو ٹوک مذمت دیکھنے میں آئی ہے لیکن اب مذمت سے کہیں آگے جاکر ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔انفرادی سزاؤں سے وقتی طور پر انصاف کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں لیکن انتہا پسندی کے منبع کو کمزور یا ختم نہ کرنے کے باعث تھوڑے عرصے بعد پھر سے ایسے واقعات رونما ہونے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں پہلے سے دباؤ کا شکار اقلیتیں مزید دب کے رہ جاتی ہیں۔ہم لاکھاپنی مذہبی اقلیتوں کو برابرکے حقوق دینے کا دعوی کرتے پھریں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے معاملے میں پہلی ناانصافی تو ہم نے قرارداد مقاصد کی صورت میں ہی کر دی تھی جب کہ رہی سہی کسر 73کے آئین میں پوری کر دی۔بہر حال یہ لمبی بحث ہے، اس پر پھر کبھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔ سردست اتنا ہی کہ ریاست کے بڑوں کے پاس اب دوہی آپشن ہیں۔یا تو ایک ہی دفعہ ہمت کر کے ملک کی اساس(مذہبی سے سیکولر) تبدیل کر دیجئے یا پھر انتہا پسندی کو ترویج دینے والے چشموں کے آگے مضبوط قسم کا کوئی بند باندھ دیجئے۔انتہا پسندی کو فروغ دینے والے بیانیوں پر کاربند رہ کر اور انتہا پسندوں کے آگے بار بار گھٹنے ٹیکنے کے نتیجے میں جہاں ایک طرف ملک اور معاشرے میں بدامنی اور انتہا پسندی گھمبیر صورت اختیار کر گئی ہے وہیں ملک کی مذہبی اقلیتیں دیوار کے ساتھ لگ گئی ہیں۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی مذہبی اقلیتیں نہ صرف مذہبی وسماجی سطح پر دباؤ کا شکار ہیں بل کہ تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی عام پاکستانیوں سے پیچھے ہیں۔کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں مذہبی اقلیتوں کا کردار نمایاں رہاہے۔انہیں سیاست سمیت ہر میدان اور شعبے میں یکساں مواقع اور حقوق دئیے جائیں تو یہ ملک کو آگے کی سمت میں لے جانے میں مزید اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔