یہ تو ہونا ہی تھا
- تحریر فہیم اختر
- ہفتہ 19 / اگست / 2023
زندگی میں کچھ باتیں اتفاق سے ہوتی ہیں اور کچھ اتفاق طے شدہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر فلاں نے چوری کی اور پولیس کو شکایت موصول ہوتے ہی پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرتی ہے اور جج سے سزا کی درخواست کرتی ہے۔
لیکن وہیں کچھ چوری یوں ہوتی ہے کہ اس کا نہ توکوئی اتا پتا ہوتا بلکہ ایک واقعہ کی کہانی گھڑی جاتی اور پھر کسی شخص کو اس میں مجرم بنا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور جج بحالتِ مجبوری یا گمراہی میں اپنا فیصلہ سنا دیتا ہے جس کے بعد وہ بے قصور شخص جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔
حال میں اسی طرح کا ایک خبر پوری دنیا میں گردش کرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنے اپنے انداز میں اس خبر کوشئیر کرنے لگے۔ جی ہاں، پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں جج نے تین سال کی سزا سنائی ہے۔ خیر یہ تو ہونا ہی تھا۔ آپ کو تو یاد ہی ہوگا جب مئی کے مہینے میں عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ایسا ہنگامہ ہوا کہ مت پوچھیے۔ سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ ہنگامہ کس نے اور کیوں کیا۔ حکمراں جماعت نے سیدھے سیدھے عمران خان کی پی ٹی آئی پارٹی کے ورکر پر الزام تھوپ دیے جن کی وجہ سے ہنگامہ ہوا تو وہیں پی ٹی آئی نے اس میں حکومت اور اعلیٰ فوجی افسران کی ملی بھگت بتائی جو کہ ایک منظم سازش کے تحت عمران خان کو بدنام کرنے کی چال تھی۔
اس کے بعد عمران خان کی پارٹی کے لیڈران یکے بعد دیگرے پارٹی چھوڑنے لگے۔ دھڑا دھڑعام لوگوں کی گرفتاریاں ہونے لگیں اور ملک میں عجیب و غریب سا خوف کا ماحول پیدا کر دیا گیا۔ یعنی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ بالواسطہ طور پر مارشل لاء جیسا نظام جاری ہوگیا ہو۔ جو لوگ حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے وہ راتوں رات خاموش ہوگئے اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ پاکستان ایک " ون پارٹی" والا ملک بن گیا ہو۔
اس بار عمران خان کے گرفتار ہونے کے بعد نہ پچھلی بار جیسا کوئی احتجاج دیکھا گیا اور نہ ہی کوئی ہنگامہ ہوا۔ جس کی ایک وجہ شاید عمران خان نے خود ہی لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پر امن احتجاج کریں۔ جس سے ایک بات تو عیاں ہے کہ مئی میں توڑ پھوڑ اور ہنگامے سے عمران خان کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ پاکستان میں نظام فوج کا ہی چلتا ہے۔ اور اس بات کا اندازہ بھی حکمراں جماعت کی نا اہلی اور بے بسی سے دکھنے لگتا ہے۔
تھوڑی دیر کے لئے اگر ہم برصغیر کے تین ممالک ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی بات کریں تو دیکھا جارہا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے وہاں حزب اختلاف سے بدلہ لینے کے لئے حکومت بن رہی ہے۔ جو بھی حکومت میں آیا وہ عوام کی سیوا کرنے کی بجائے اسی بات میں لگ جاتا ہے کہ کیسے اپوزیشن کے لیڈر یا ورکر کو ڈرا دھمکا کر ایک ایسا ماحول بنا دے کہ وہاں لوگ خوف زدہ ہو کر خاموشی اختیار کر لیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے کئی برسوں سے خوف زدہ کرنے کی روایت کو کبھی سیاسی لیڈران تو کبھی فوجی جنرل اپنی طاقت کی بنا پرحکومت بناتے چلے آرہے ہیں۔ یعنی کہ حکومت میں آتے ہی ملک کی ترقی کو بالائے طاق رکھ کر صرف الزام تراشی کرکے بات عدالت تک پہنچ جاتی ہے اور پھر عدالت حکومت کی دباؤ میں آکر جلد بازی میں فیصلہ سنا دیتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام کا غصہ بھڑک اٹھتا ہے۔
اسی طرح فوجی جنرل بھی جب عاجز آجاتے ہیں تو وہ بھی اپنی بندوق تان کر ملک کی سلامتی کا بہانہ بنا کر حکومت کی باگ ڈور سنبھال لیتے ہیں۔ گویا کہ پاکستان کی کمزور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے سب اپنی اپنی مرضی سے حکومت پر قبضہ کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان نے بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیا ہے۔ جس میں ضروری اشیا کی مہنگائی، دہشت گردی کے حملوں میں اضافہ اور وزیر اعظم عمران خان کی پارلیمانی ووٹ میں عدم اعتماد کی منصوبہ بندی سے بر طرفی شامل ہے۔ اسی دوران یہ بات بھی کہی جانے لگی کہ عمران خان کے کچھ قومی اسمبلی کے ممبران نے بھاری رقم کی عوض میں اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہاتھ ملا کر عمران خان کی حکومت کو بے دخل کر دیا۔ جس کے بعد عمران خان نے مسلسل تحریک چلاتے ہوئے حکومت کو نشانہ بناتے رہے۔
بڑے بڑے جلسوں کا اہتمام ہوا اور لوگ بھاری تعداد میں عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔ لیکن عمران خان بار بار یہ دہراتے رہے کہ حکومت انہیں گرفتار کرنے کے لئے عدالت اور فوج کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور انہیں اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ کہیں ان کی جان نہ لے لی جائے۔ کہیں نہ کہیں اس بات کا اندازہ ہورہا تھا کہ عمران خان گرفتار ہوں گے اور ان پر حملہ بھی ہوگا۔ تاہم کچھ مہینے قبل ایک جلسے کو خطاب کرتے ہوئے چند نوجوانوں نے عمران خان پر گولی بھی چلائی تھی۔ جس سے عمران خان زخمی ہوگئے تھے۔
آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ اس مسئلے کا کوئی حل ہے۔ کیونکہ برصغیر کی سیاست اتنی کرپٹ ہوچکی ہے کہ جو بھی حکومت سنبھالتا اسے اسی بات کی پرواہ رہتی ہے کہ کس طرح اپوزیشن کو ہراساں کرنے کے لئے ان پر مقدمات چلائے جائیں اور انہیں اس کی سزا ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیاستدانوں کے بدلہ لینے اور ماحول کو خوف زدہ کرنے کی کوشش میں بیچارے عوام نہ اِدھرکے اور نہ اُدھر کے رہتے ہیں۔ الزام تراشی کایہ طریقہ اتنا آسان ہوگیا ہے کہ ان ممالک میں سوائے اپوزیشن سے بدلہ لینے کے علاوہ اور کچھ رکھا ہی نہیں ہے۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ کہہ رہا ہے۔
میں نے اس بات کو محسوس کیا ہے کہ بدلے کی سیاست میں بیچار عوام ہی گھاٹے میں رہتے ہیں جو انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تاکہ آنے والی حکومت ان کے مسائل کو حل کرے گی اور ملک ترقی کرے گا۔ ایسی حکومتیں تمام پالیسیوں ناکام ہوتی ہیں اور ملک کی معاشی صورتِ حال تباہ و برباد ہوجاتی ہے اوراس کے عوض میں عوام کو مہنگائی، بدحالی، بے روزگاری، غربت اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
عمران خان کو تین سال کی سزا سنا کر جیل میں ڈال گیا ہے۔ اب دیگر پارٹیاں راحت کی سانس لے رہی ہیں اور جلد ہی الیکشن کا اعلان بھی ہوجائے گا۔ یعنی حکمراں جماعتیں ایک بار پھر اکثریتی ووٹ سے حکومت بنا نے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ لیکن کہیں یہ خواب ہی نہ رہ جائے۔ کیونکہ اگر پاکستانی عوام خاموشی سے بڑی تعداد میں عمران کان کی پی ٹی آئی کو ووٹ دے کر ایک بار پھر موقعہ دیتے ہیں تو سارے ارادے اور خواب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گے۔ اور پھر عمران خان ایک بار پھر پاکستان کے مقبول ترین لیڈر بن کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لیں گے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب پاکستانی عوام کو اپنے حق کا استعمال بنا کسی دباؤ کے کرنے دیا جائے گا۔
خیر اب تو آنے والا وقت ہی بتا ئے گا کہ عمران خان رہا ہو کر ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے یا کسی گہری سازش کا شکار ہو کر سیاست سے ہٹ کر جیل میں ہی اپنا وقت گزاریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عوامی طاقت کون سی کروٹ لے گی اور کون عظیم ملک پاکستان کی باگ ڈور سنبھالے گا۔ تاہم عمران خان کی گرفتاری اور سزا پر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ " یہ تو ہونا ہی تھا"۔