جڑانوالہ کے مسیحی صرف انصاف چاہتے ہیں!

ایک ماہ سے کم مدت  میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج اپنی اہلیہ کے   ہمراہ  جڑانوالہ کی  مسیحی آبادی کا دورہ کیا،  تباہ شدہ مکانات کا جائزہ لیا اور متاثرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا۔  اس موقع پر  وہ اس سانحہ میں گھر بار اور تمام وسائل سے محروم ہونے والے لوگوں کے لئے خوراک کے پیکٹ بھی لے کر گئے اور  اعتراف کیا کہ یہ  عطیہ سمندر میں ایک قطرے کے مترادف ہے اور متاثرین کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک انسان کے طور  پر اور ملک میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا یہ اقدام بلاشبہ قابل تحسین و تقلید ہے۔    درحقیقت یہ کام ملک کے  انتظامی حکمرانوں اور سیاسی لیڈروں کوکرنا چاہئے تھا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ یا کسی وفاق  کے  نگران سیٹ اپ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے والے کسی شخص کو بیانات سے بڑھ کر کوئی قدم اٹھانے کی توفیق  نہیں ہوئی۔  اس حد تک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے   اقلیتی  فرقے کے لوگوں کی مصیبت میں ان  سے ملاقات اور اظہار ہمدردی کو ضرور خوش  آئیند کہنا چاہئے۔  تاہم  جلد ہی چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والا ایک شخص    جب لاقانونیت کا شکار ہونے والے ایک گروہ سے ملتا ہے، ان کے بارے میں اچھے کلمات  کہتا ہے اور تباہی و بربادی کا مشاہدہ کرکے افسوس کا اظہار کرتا ہے تو  یہ سوال بھی  ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ایک اعلیٰ عدالتی عہدے پر سرفراز ایک شخص کیوں غیر جانبداری کا لبادہ اتار کر  ظلم کا شکار ہونے والی اقلیت سے ملنے چلا آیا؟

ہمارے معاشرے میں یہ کوئی عجوبہ نہیں ہے کہ جب کسی چھوٹے علاقے یا طبقے کو کسی مشکل و پریشانی کا سامنا ہوتا ہے تو بعض لوگ ضرور ان سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں اور ظلم و جبر  سے  لاتعلقی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں  ہوتی جو  کسی پر آئی ہوئی اس مصیبت کو اپنے مقاصد کی تکمیل  اور شہرت کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان عناصر کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ مصیبت زدہ لوگوں پر کیا بیت رہی ہے بلکہ وہ اس صورت حال کو  رائے عامہ میں اپنا مقام بنانے کے لئے  استعمال کرنا ضروری سمجھتےہیں۔

جڑانوالہ میں مسلمان اکثریتی گروہ کی جانب سے ایک چھوٹی سی اقلیت کے گرجا گھروں اور مکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور وہاں لوٹ مار کی گئی۔ اس لاقانونیت، شدت پسندی اور جنونیت کا مظاہرہ محض ایک افواہ یا کسی کی پلانٹ کی ہوئی خبر کی بنیاد پر ہؤا ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگوں کی بستی ویرانہ بن گئی، لوگوں کو گھروں سے بھاگ کر جان بچانا پڑی۔  اور  اب  سر  پر چھت یا روزگار سے محروم ہونے والے لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ جو لوگ باعزت طریقے سے  اپنا روزگار پیدا   کرکے زندگی بتا رہے تھے، اب امداد  کے محتاج اور حکومت یامخیر حضرات کی اعانت کے  دست نگر ہیں۔  اپنے ہی گھر، اپنے ہی وطن اور اپنے ہی ملک میں یوں دہشت  و  ظلم کا نشانہ بننے والے یہ لوگ  جو محسوس کررہے ہیں  یا بھگت رہے ہیں،  کوئی دوسرا اس  کا اندازہ بھی نہیں کرسکتا۔

لیکن اس کی  حالت زار پر بیان بازی کے علاوہ اس  پر سیاست کرنے کا طریقہ مسلسل دیکھنے میں  آرہا ہے۔  دین کے جو سوداگر ملک میں  مذہبی دہشت گردی کا ماحول پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں ، وہ بھی مذمت کرتے دکھائی  دیتے ہیں۔ جو حکومت اس صورت حال کو کنٹرول کرنے اور  اپنے ہی شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہی ہے ، وہ بھی    ڈھٹائی کے ساتھ    ملزموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کررہی ہے۔ اور جن سیاست دانوں نے  اپنی سیاست چمکانے کے لئے مسلسل مذہب کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا اور  عوام کے  ذہنوں میں اقلیتوں کے خلاف زہر گھولنا اپنے مقاصد کی تکمیل سمجھا ، وہ بھی  اسے معاشرے کی  تباہی کا سبب بتا کر سرخرو ہونے کی  کوشش کررہے ہیں۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے  کہ نہ  اس سانحہ سے ملکی تاریخ میں کسی سیاہ باب کا اضافہ ہؤا ہے، نہ  ریاست کی کوئی ریڈ لائن عبور ہوئی ہے اور نہ کسی  قابل ذکر لیڈر کو جڑانوالہ  جانے  کی توفیق ہوئی۔ حتی کہ  فیصل آباد ہی سے تعلق رکھنے والے رانا ثناللہ جو چند روز پہلے ہی وزیر داخلہ کے عہدے سے سبک دوش ہوئے ہیں، کو بھی اپنے  ہی  زیر اثر علاقے  جڑانوالہ جاکر متاثرہ مسیحی آبادی سے اظہار یک جہتی کرنے کا  وقت نہیں  ملا ۔

 لاقانونیت برداشت نہ کرنے کے بیانات تو نگران وزیر اعظم، آرمی چیف ، نگران وزیر اعلیٰ اور دیگر کی طرف سے تواتر سے سنائی دیے ہیں لیکن کسی اخبار میں ایسی کوئی خبر دیکھنے میں نہیں آئی کہ ذمہ دار حکام نے اس سانحہ سے سبق سیکھ کر کچھ  اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سانحہ شدید مذہبی منافرت اور تعصب کا شاخسانہ ہے۔ یہ نفرت  و تعصب پروان چڑھانے کے لئے  معاشرے کے ہر طبقے نے مقدور بھر کردار ادا کیا ہے۔  درسگاہوں کے نصاب، اخباروں کے تبصروں اور سیاسی لیڈروں کے بیانات کے علاوہ اداروں کی حکمت عملی میں اس سازش کے تانے بانے  تلاش کئے  جاسکتے ہیں جس کے تحت   سرزمین شاد باد کو ’قہر آباد  ‘میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ کیا جڑانوالہ کے سانحہ نے ریاست اور اس کے والیوں کو یہ سبق سیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے کہ مذہب کو ہتھکنڈا  بنانےاور  کسی ملک کی اکثریت کو مذہبی گھمنڈ میں مبتلا کرنے  کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کیا  اب اس حکمت عملی کے نتیجہ میں سامنے آنے والی تباہی  ہمیں اپنا طرز عمل تبدیل کرنے پر مجبور کرسکے گی؟ بظاہر اس کا جواب  ’نہ‘ میں ہے۔

کوئی اعلیٰ عہدیادار یا سیاست دان یا عالم دین یا پیر و شٰخ تو  جڑانوالہ نہیں پہنچا لیکن سپریم کورٹ کے یک  جج نے بہر حال وہاں جاکر ایک انسانی فرض ضرور ادا کیاہے۔ لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیا محض  انسانی جذبے سے  مغلوب ہوکر جڑانوالہ گئے اور مسیحیوں کو مدد فراہم کرنے کے علاوہ  ان سے اظہار یک جہتی ضروری سمجھا،  لیکن اپنے عدالتی عہدے کے وقار کا خیال رکھتے  ہوئے میڈیا سے باتیں کرنے سے گریز کیا۔  تاہم  انہیں بھی خبر ہوگی کہ اس دورہ کو پورے ملکی میڈیا میں دکھایا جائے گا۔ ان کی تصاویر اور ویڈیو نشر  و شائع ہوں گی اور ملک کے شہری اس  بارے میں اپنی صوابدید اور سیاسی و مذہبی وابستگی کے مطابق  نتائج اخذ  کریں گے۔ کیا  جلد ہی ملک کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کاعہدہ سنبھالنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنے اس دورہ اور اس حوالے سے جاری کئے گئے بیان کی حساسیت  و اہمیت کا احساس ہے؟

یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ  اعلیٰ عدلیہ میں پڑنے والی دراڑیں اب عام لوگوں کو بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔ جن منصفوں کو مشترکہ اثاثہ اور صرف انصاف کی علامت ہونا چاہئے، ان کے بارے میں سیاسی وابستگی کے الزامات سننے میں آتے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ بھی اس سے مبرا نہیں ہیں۔ ان کے بارے میں  ملک کا ایک  بہت بڑا طبقہ خوش گمانی میں مبتلا ہے تو ایک گروہ کو  ان سے  یک طرفہ یا متعصبانہ سلوک کا اندیشہ بھی ہے۔ تحریک انصاف کے دور  میں ان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس لایا گیا تھا  جو کامیاب نہیں ہوسکا۔ عمران خان کی حکومت میں شامل متعدد وزرا نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی دیے تھے۔  اب جبکہ وہ جلد ہی ملک کے چیف جسٹس بننے والے ہیں اور عمران خان سمیت  تحریک انصاف سے وابستہ لوگ ریاستی  جبر کا نشانہ بن رہے ہیں تو یہ سوال بے حد اہمیت رکھتا ہے کہ بطور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا طرز عمل کیا ہوگا؟ اس پس منظر میں قاضی عیسیٰ کا دورہ جڑانوالہ    اپنے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی یہ نیت نہ ہو لیکن انہیں اپنی پوزیشن کے تناظر میں سامنے آنے والے ان شبہات اور قیاسات کا قبل از وقت اندازہ کرنا چاہئے تھا۔

جڑانوالہ کی  مسیحی اقلیت اکثریتی جبر کا شکار ہوئی ہے۔ اب وہ انصاف  کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔  ملک کا نظام انصاف اس حد تک ناقص و ناکارہ ہے کہ وہ ایسے کسی سانحہ کے بعد دعوؤں اور اعلانات کے برعکس کبھی بھی توقعات پر پورا نہیں اترا۔   جڑانوالہ میں اتاری گئی قیامت کے بعد پولیس نے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ  لوگوں کے خلاف مقدمے قائم کئے ہیں ۔ ایک سو سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہ چنگاری لگانے والے چند لوگ ہوں گے۔ کیا سینکڑوں لوگوں کے خلاف مقدمے قائم کرنے سے ان چند لوگوں کی گرفت ہوسکے گی ؟ یا پولیس، انتظامیہ اور عدالتی نظام  پر کام کا بوجھ بڑھا کر   پس پردہ  اس لاقانونیت کا سبب بننے والے عناصر کو تحفظ فراہم کیا جائے گا؟ ایسے میں جڑانوالہ کی مسیحی برادری کو خاص طور  پر اور ملک کی تمام اقلیتوں کو  عام طور سے یہ امید ہے کہ اس بلوہ کے اصل ذمہ داروں کو سزا  دے کر ایک مثال قائم کی جائے گی تاکہ مستقبل قریب میں  اقلیتوں پر حملوں کی ترغیب دینے والے عناصر کا قلع قمع اور حوصلہ شکنی ہو۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جلد ہی ملک کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ اس پوزیشن میں وہ ملک بھر کے نظام انصاف کے ذمہ دار ہوں گے۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ پولیس اور زیریں عدالتوں کی نگرانی کرتے ہوئے جڑانوالہ کے مسیحیوں کو انصاف دلا  سکیں۔ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے غور کیا کہ  ان کا یہ اقدام جڑانوالہ جاکر لوگوں کو دلاسہ دینے اور خواراک کے  پیکٹ  تقسیم کرنے سے زیادہ اہم ہوتا۔  اگر وہ ایسا نہیں کرپاتے تو   انہوں نے جڑانوالہ میں جو باتیں کی ہیں، ان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔

  مستقبل کے چیف جسٹس  کے منہ سے اگر ایسی باتیں ادا ہوئی  ہیں، جن پر وہ تمام تر قانونی اختیار کے باوجود عمل درآمد نہ کرواسکے  تو ان کا یہ دورہ  ان کے نام  اور کیرئر پر بدنما داغ  بن جائے گا۔