مسیحی عبادت گاہوں اور آبادیوں پر حملے کیوں؟

جڑانوالہ انگریز دور میں آباد ہونے والا شہر یا قصبہ ہے جو لائلپور(فیصل آباد) کی تحصیل ہے یہ شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور فیصل آباد کا ایک طرح سے سنگم ہے۔

قدیم دور میں یہاں کوئی کنواں تھا جس کے ساتھ بڑ کا بڑا سا درخت اپنے گھنے سایہ کے ساتھ موجود تھا جس کے نیچے مسافر آرام کرتے اور پانی پیتے اس بڑ کی چونکہ بڑی بڑی جڑیں تھیں جو اوپر بھی لٹک رہی ہوتیں اس نسبت سے اس آبادی کا نام جڑانوالہ کھوہ سے جڑانوالہ شہر بنا۔ ہمارا پنجابی لوک قصہ مرزاں صاحباں بھی اسی سرزمین سے متعلقہ ہے اور اس سے بڑھ کر انگریز سرکار کے خلاف لڑنے والے معروف کریکٹر بھگت سنگھ کا بھی یہ شہر ہے۔ بھگت سنگھ کی حویلی اسی نام کے ساتھ آج بھی یہاں موجود ہے بہت سے انڈین زائرین جو ننکانہ صاحب تشریف لاتے ہیں، ان میں سے کچھ ادھر کی یاترا کو بھی آتے ہیں۔

پارٹیشن سے قبل یہاں مسلمان ہی نہیں مسیحیوں، ہندوؤں اور سکھوں کی بھی بڑی آبادی موجود تھی۔ آج بھی یہاں مساجد کے ساتھ چرچز، گورودوارے اور مندر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ جس طرح آج یہاں مسیحیوں کے گرجاگھروں پر حملے ہوئے ہیں دسمبر92 میں اسی طرح بابری مسجد کے ریفرنس سے مندروں پر بھی حملے ہوئے تھے۔ بالخصوص مین سٹی کے بڑے مندر کو خاصا نقصان پہنچا تھا۔ آج جس طرح ہمیں سترہ اگست ضیاء الحق کے کریش کی خبردیتا ہے اسی طرح پندرہ اگست اس خطے کے دردناک بٹوارے کے زخموں کو بھی کریدتا ہے۔ اسی روز ہماری ہمسائیگی میں افغانستان ایک مرتبہ پھر طالبانی جبر کے اندھیروں میں چلا گیا۔

تاریخی طور پر 16اگست 1946 کو جناح کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو پورے خطۂ ہند بالخصوص بنگالیوں پر قیامتِ صغریٰ بن کر ٹوٹا تھا۔ اب البتہ جڑانوالہ کے مسیحیوں پر حملے کی حیثیت سے بھی یاد۔کیا۔جائے گا، جہاں ابتدائی سرکاری رپورٹ کے مطابق 86 گھروں اور 19گرجا گھروں کو آگ لگائی گئی جس سے نہ صرف سوکے قریب بائیبل یا انجیلوں کے نسخے جل گئے۔ اور دیگر مسیحی لٹریچر اور املاک کو بھی بھسم کرڈالا گیا۔ ان کی مقدس صلیبیں توڑی گئیں اور پھر قبرستانوں میں پہنچ کر ان کی قبروں اور وہاں رکھی اشیا کو بھی جلایا گیا۔ مسیحی آبادیوں میں کتنے گھر لوٹے گئے اور کتنے جلائے گئے ان کی تفاصیل سوشل میڈیا پر ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ جونہی بلووں کی فضا بن رہی تھی اور مسجدوں میں اعلانات کے بعد لوگ اکٹھے ہونا شروع ہورہے تھے، ان کی خبرمسیحی آبادیوں تک بھی پہنچ گئی۔ یوں سیدنا عیسیٰ مسیحؑ کے نام لیوا مرد و خواتین اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانیں بچانے کے لیے فوری طور پر اپنے گھروں سے نکل بھاگے جس کو جہاں پناہ ملی وہیں جا چھپا۔ کچھ نے تو مضافاتی کھیتوں اور فصلوں میں رات گزاری۔ یوں ان مظلوموں کی جانیں تو بچ گئیں البتہ گھر اُجڑ گئے اس پر مسیحی خواتین کے بہتے ہوئے آنسو ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

ایک مسیحی روتے ہوئے بتارہا تھا کہ یہ بٹوارے کا ہی منظر تھا۔ 47 کی پارٹیشن کے بہت سے دلخراش مناظر اس لیے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ گئے کہ تب کیمروں کی اتنی دستیابی نہ تھی جبکہ آج میڈیا میں ترقی کی وجہ سے نہ صرف لوگ بروقت باخبر ہونے پر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے بلکہ فوٹیج میں ہم مسیحی املاک کو آگ لگانے اور صلیبوں کو توڑنے کے مناظر بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ نفرت، حقارت اور غصے کے ملے جلے جذبات کے ساتھ جلاؤ گھیراؤ کے یہ واقعات کیونکر وقوع پذیر ہوئے، اس پر جتنے منہ اتنی باتیں کی جارہی ہیں۔ اور اصل حقائق بھی سب پر واضح ہیں فی الحال ہمارے لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہورہے ہیں کہ جتنی جہالت، جنونیت اور عدم برداشت ہماری مسلمان قوم میں پائی جاتی ہے، دنیا کی کوئی دوسری قوم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ 16اگست کو جس نوع کی واردات حسبِ معمول یہاں ہمارے پاکستان میں ہوئی ہے، سینے پر ہاتھ رکھ کر کہیے کہ اگر ایسی ہی کوئی حرکت ہماری مسلمانی کے حوالے سے انڈیا میں ہوئی ہوتی یا کسی مغربی ملک میں روا رکھی گئی ہوتی تو اب تک یہاں احتجاجی جلوس تھمنے کا نام نہ لے رہے ہوتے۔ ان کے سفارت خانوں پر حملے ہورہے ہوتے اور علما و دانشور گلے پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہے ہوتے ان کے سفیر کو ملک بدر کرو۔ ہمارے جذبات، ہمارے جذبات۔۔۔۔۔

کیا دنیا میں صرف ہمارے ہی جذبات ہیں ؟ یا ہم ہی انسان ہیں؟ کیا دوسرے لوگوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں آپ کو اپنی مذہبی علامات بڑی پیاری ہیں، کیا دوسروں کو اپنا مذہب پیارا نہیں ہے؟ کیا ان کو اپنی مذہبی علامات عزیز نہیں ہیں؟ جب آپ ان کی مورتیاں توڑتے ہو اور فخر سے بتاتے ہو کہ ہمارے فلاں صاحب نے اتنے بتوں کو توڑ دیا اور خود کو بت شکن کہتے ہوئے فخر کا اظہار کرتے ہو، تو پھر سویڈن یا ڈنمارک میں اگر کوئی سرپھرا اس نوع کی حرکت کرتا ہے تو رونا پیٹنا کیوں شروع کردیتے ہو؟ وہ تو وہاں کے اِکا دُکا اشخاص کا انفرادی فعل ہوتا ہے بلکہ اگر اصلیت تک پہنچا جائے تو شاید ہمارے ہی بھاگے ہوئے یا زخم خوردہ لوگ ہوتے ہیں۔ جیسے کہ حال ہی میں ایک عراقی عرب نے کیا۔ وہاں یوں متشدد جتھے قرآن جلانے کب نکلے ہیں؟ آخر ہماری اس نوع کی روایتی مسلم سائیکی یا ہمارا یہ مسلم مائنڈ سیٹ کس نے تشکیل دے رکھا ہے جو ذرا سا اعلان ہونے پر یوں جمع ہوجاتا ہے اور بھڑک اُٹھتا ہے پھر جو سامنے آئے اس کی خیر نہیں۔ اس کی تکابوٹی بھی کردیتا ہے۔ اگر ان جنونی جتھوں کو آگے سے دوسرے مذاہب والے نہ مل پائیں تو یہ ذہن ان کے مقدسات کو روندتے ہوئے ذرا شرم محسوس نہیں کرتا۔ ان کی املاک کو لوٹ لیتا ہے یا جلا ڈالتا ہے۔ جبکہ ان کو بھڑکانے والے خود پیچھے بیٹھے میٹھی میٹھی باتوں سے سب کو بہلا رہے ہوتے ہیں۔ کچھ آیات و احادیث کا ورد شروع کردیتے ہیں کہ دیکھیں یہاں تو یہ لکھا ہوا ہے لیکن جب بھڑکاؤ بنانا ہوتا ہے تب اس کے متضاد لکھا اس سے کہیں زیادہ کثرت میں مل جاتا ہے۔

اس میٹھی گردان میں بھی سچیار بنے یہ بھڑکاؤ لوگ کیا انداز اختیارکرتے ہیں، دیکھیں ہمارا دین تو اس کی اجازت نہیں دیتا گویا مسلمان جو کچھ کرتے ہیں وہ دین سے اجازت یا پرمشن لے کر کرتے ہیں اور یہ کہ کوئی مسلمان تو اس نوع کی گری ہوئی حرکت کر ہی نہیں سکتا۔ تو پھر یہ حملہ آور کون لوگ ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ یہ اصل میں ہمارے دین کے خلاف گہری سازش ہے۔ آج ہی کے جنگ میں کسی علامہ صاحب کی یہ ہیڈنگ ملاحظہ کی جاسکتی ہے کہ ”یہ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی گہری سازش ہے“ جو یقیناً صلیبیوں نے خود تیار کی ہوگی یہود و ہنود کے ساتھ مل کر۔ کیونکہ ہمارا دین تو اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر کوئی منصف ذہن انسان کیا کہے؟

آپ کا دین اس کی اجازت نہیں دیتا اور کوئی مسلمان اس نوع کی مکروہ حرکت کر نہیں سکتا تو پھر یہ سب کچھ جو آئے روز ہوتا ہے اس کے مجرم کون ہیں؟ کوئی دل جلا اگر یہ پوچھے اچھا جی یہ سازش کس کی ہے؟ تو جواب ملے گا کہ را کی، انڈیا کی سازش ہے وہ تو گرمیوں میں جب بارشیں زیادہ ہوتی ہیں تو سازش کرتے ہوئے پانی اور بادل بھی ہماری طرف زیادہ بھیج دیتا ہے۔ جب آپ کو مجرم کا علم ہے تو پھر آپ آرام سے کیوں بیٹھے ہیں؟ اُٹھیں آئیں الحمدللہ آپ ایٹمی طاقت کے مالک ہیں انڈیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، انڈیا کو سبق سکھلادیں۔ لیکن یہ ایسی ڈھیٹ گھناؤنی ذہنیت ہے کہ اس کے لیے نہیں اٹھے گی، سامنے کوئی طاقتور کھڑا ہو تو بولتی بند ہوجاتی ہے۔ ہمیشہ سے کمزور اور نہتے لوگوں پر ہی حملہ آور ہوتے ہیں۔ انڈیا پر چار مرتبہ یلغار کرکے سواد چکھ لیا ہے۔ دانت توڑے ہیں انہوں نے۔ پارٹیشن کے بعد سے آج تک کوئی ایک انچ زمین بتاؤ جو تم نے انڈیا سے چھینی ہو؟

حضور جب تک مسلم شاونزم کی یہ سائیکی اور مائنڈسیٹ قائم ہے، اس نوع کے سانحات نہیں روکے جاسکتے۔ حرمت و تقدس کے نام پر یہ جو اتنا بڑا کراؤڈ نکلتا ہے جسے دیکھ کر پولیس بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ براہِ کرم اس ذہنیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ سب اسلام سے والہانہ عقیدت کے ساتھ آتے ہیں۔ ان کے سہولت کاران بھی عاشقانِ رسولؐ ہوتے ہیں۔ جب آپ اس حقیقت کو مان لیں گے تو پھر اس کے انسداد کا حل بھی نکل آئے گا اور وہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اکیسویں صدی میں پہنچ کر ہماری نوجوان نسل میں اتنا شعورآجانا چاہیے کہ وہ عصری زمانی و انسانی حقائق کو سمجھنے کا ادراک حاصل کرلے۔ جنونیت اور شعور کے فرق کو پہچان لے۔ یہ سمجھ لے کہ پوری انسانیت قابلِ محبت ہے۔ مذاہب کی حقیقت کیا ہے اور کچھ لوگ کس طرح اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لیے مذہبی جذبات کو بطور نعرہ استعمال کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس سے انہیں کس طرح دیگر مفادات مال و دولت کے علاوہ لیڈری و قیادت کا تقدس بھی ملتا ہے۔

یہ لوگ اور کچھ نہیں پڑھ سکتے تو کم از کم یو این ہیومن رائٹس چارٹر ہی سمجھ لیں۔ جو اتنی موٹی موٹی کتابیں حفظ کرسکتے ہیں ان کے لیے یہ چند صفحے کون سا لوڈ ہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی مساجد کے مولوی صاحبان سے مطالبہ کریں کہ ہمیں لمبے چوڑے بھاشن دینے کی بجائے سوال جواب کی نشست رکھا کریں۔ اگر کوئی مولوی یہ کہتا ہے کہ دین میں عقل کا استعمال نہیں تو اس کے ساتھ بحث کریں کہ انسان اور حیوان میں تو فرق ہی عقل و شعور کی بنیاد پر ہے ۔ درویش کی ساری زندگی ان کے ساتھ گزری ہے۔ یہ لوگ علم و عرفان سے فارغ اور عقل و شعور سے کھوکھلے ہوتے ہیں صرف جذبات بھڑکانا جانتے ہیں۔ ان سے ہمارے ایک عام پڑھے لکھے انٹرنیٹ پر بیٹھے نوجوان کا نالج زیادہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ عقیدت کی بجائے شعور کو استعمال میں لائے۔ کل ایک مولوی اپنے بھاری وزن کے ساتھ چرچ میں چلا رہا تھا کہ مسیحی گرجا گھروں پر حملوں سے میرے دین کی بدنامی ہورہی ہے، میں تمام مسیحی برادری سے معافی مانگتا ہوں۔ کوئی اس سے پوچھے کہ تو کس حیثیت میں یہ ڈرامے کررہا ہے، اگر کوئی اس سے اتنا ہی پوچھ لے کہ کیا صلیب یا مورتیاں توڑنا تمہارے عقیدے کے مطابق گناہ ہے۔ اور تمہارے بڑوں نے اگر یہ توڑی ہیں تو کیا تم ان کی مذمت کرتے ہو؟ تو اس کا نشہ وہیں اُتر جائے گا۔ حقیقتیں اور بھی بڑی تلخ ہیں لیکن ابھی ہمارے لوگوں میں انہیں سننے کا حوصلہ و یارا نہیں۔