مبارکاں!
- تحریر علی اصغر عباس
- سوموار 21 / اگست / 2023
دوست احباب کو اللہ کی کرم نوازی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں اتنی کامیابیاں،اعزازات اور نوازشات کی خوشیاں ملیں کہ سبھی کے لئے کالم لکھنا بنتے تھے۔ مگر سوئے اتفاق کہ کوئی جگہ ہی میسر نہ تھی کہ احباب کا یہ قرض چکا سکتا ۔
اللہ بھلا کرے محترم المقام بزرگ برادر جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کا جنہوں نے اپنے مؤقر جریدے کے لئے لکھنے کی میری درخواست کو پذیرائی بخشی۔ اور آج میں ان سطور کے ذریعے دوستوں کی نذر وہ حرف سپاس کررہا ہوں جس کے سب کے سب بجا طور پرمستحق ہیں۔ ان میں سرفہرست محبی سرور حسین نقشبندی ہیں جو ماشاء اللہ سے اب پروفیسر ڈاکٹر سرورحسین نقشبندی بن چکے ہیں ۔ یہ منصب انہیں اس در اقدس سے عطا ہوا ہے جس کی دریوزہ گری بادشاہوں کے لئے بھی احساسِ تفاخر لئے ہوتی ہے۔ سرور حسین نقشبندی کی اولین شناخت نعت خوان کے طور پر نمود یافتہ ہوئی تو خوش نصیبی سے اس خوش گلو،خوش گفتار،خوش شکل،خوش پوش اور خوش اخلاق نوجوان کو ابتدا میں ہی ایک ایسی عظیم المرتبت شخصیت کی مصاحبت میسر آئی جسے دنیا ”مجدد نعت“ کے لقب سے نواز چکی تھی یعنی حضرت حفیظ تائب علیہ رحمہ۔جو ہمہ وقت حالتِ حضوری میں رہتے تھے۔ اور ان کے حلقہ ارادت میں شامل ہونا اپنی جگہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا ۔
ہمارے محبی سرور حسین نقشبندی کو جب یہ سعادت نصیب ہوئی تو وہ گھڑی بارگاہِ نبوی میں اذنِ باریابی کی متبرک ساعت تھی جس نے نوجوان نعت خوان کی قسمت میں مدح خوان ِ رسول کا وہ رتبہ بلند مرقوم کر دیا جو ہرکس و ناکس کی تقدیر نہیں بنتا۔اور ”نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں“والی صورت عملاً سرور حسین نقشبندی کے ساتھ پیش آئی کہ یہ مدح خوان رسول نعت خوانی کرتے کرتے نعت گو ئی کے شرف سے مشرف ہوا ۔اور یہیں سے اس کی زندگی میں وہ بہار آئی جسے کبھی کسی خزاں کا خوف یا زمستاں کا ڈر نہیں رہا ۔ آج یہ سدا بہار نہالِ گلشنِ نعت حدیقہ مدحِ رسالت کا وہ سرو قامت سرسبز و شاداب عطر بیز شجرِ سایہ دار بن کر لہلہا رہا ہے جس سے اس پُر آشوب دور میں بادِ صر صر بادِ بہاری بنی ہر قریہ روح کو مہکا رہی ہے۔
ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے جدید نعت نگاری میں حضرت حفیظ تائب کے نقوشِ تخلیق کو رہنما مان کر نعت نگاری کے جس معیار کو قائم رکھنے کی سعی کی ،اسے مزید وسعت دینے کے لئے جدید نعت کے فنِ تنقید کو متعارف کرانے کا حوصلہ بھی کیا اور حلقہ اربابِ ذوق کی پون صدی کی تاریخ میں پہلی بار نعت کے تنقیدی زاویوں پر مبنی مضمون کو برائے تنقید پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ یوں عصر موجود میں نعت گوئی کے چلن میں ان نقائص و عیوب کی نشاندہی کی جو اس نازک اور حساس صنف ادب میں غیر معیاری نگارشات کے پھیلاؤ کا باعث بن کر کم فہم مسلمانوں کے ایمان کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کے ڈاکٹریٹ کے مقالے کا عنوان بھی نعت نگاری کے فن کو معیاری ادب کی کسوٹی پر جانچنے کے رہنما اصولوں کے تعین کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انہوں نے ”اردو نعت نگاری میں اسلوبیاتی اور معنوی تشکیلِ جدید“ کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کا یہ مقالہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر مصطفی کی نگرانی میں مکمل کر کے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ اسلامی فکر و تہذیب کی جانب سے سندِ فضیلت حاصل کی۔ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی کی علمی و ادبی و فنی خدمات سے استفادے کے لئے منہاج یونیورسٹی لاہور نے فوری پیش قدمی کی اور جامعہ منہاج میں ممتاز ماہر تعلیم اور نعت گو شاعر ڈاکٹر فخر الحق نوری کی سربراہی میں قائم ”حسان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ ان نعت لٹریچر“ میں انہیں اس تحقیقی ادارے کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کردیا۔ جو یقینا فروغِ نعت کے مشن کی کامیابی کے لئے کلیدی کردار کا حامل ثابت ہو گا۔
ممتاز شاعر پروفیسر ناصر بشیر بھی ایک عرصے سے فروغِ ادب کے ساتھ ساتھ علمی و تحقیقی کام میں بے شمار طالبان علم کی رہنمائی کے مشن پر گامزن ہیں۔ یہ درویش طبع انسان علمی و ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ خدمتِ خلق کے بے شمار کام بھی فی سبیلِ اللہ انجام دینے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے ۔اسی لئے شاید درجنوں طلبہ کو پی ایچ ڈی کروانے کے باوجود اپنی ذات کی طرف دھیان دینے میں سنجیدہ نہ ہو سکا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ موصوف نے اپنی نثری و شعری خدمات پر ایم فل کے تین مقالے لکھوانے میں طلبہ کی رہنمائی کی ،تب جاکے خیال آیاکہ لگے ہاتھوں خود بھی ایم فل کر لیا جائے۔ اور یوں 55 برس کی عمر میں ہمارے اس ممدوح نے ایم فل کی ڈگری بڑے اعزاز کے ساتھ حاصل کرلی کہ ان کے حاصل کردہ نمبروں کا تناسب 3.97 اور اے گریڈ کے ساتھ گولڈ میڈل کے حقدار بھی قرار پائے۔
موصوف نے یہ اعزازمنہاج یونیورسٹی کی طرف سے حاصل کیا اور اب ریٹائرمنٹ سے پہلے ڈاکٹریٹ بھی یہیں سے کرنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں۔ ہم علمی مدارج میں ترقی کی مبارکباد دیتے ہوئے مستقبل میں ان کی مزید ظفر یابی کے لئے دعا گو ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)