صدارتی اختیار پر حملہ: صرف ایک افسر کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے

نگران حکومت کی اس وضاحت کے بعد کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور  آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل ،  بالترتیب 11 اور 17 اگست کو مؤثر ہوگئے تھے ۔ صدر عارف علوی نے بلوں پر دستخط نہیں کئے  تھے لیکن  ان بلوں کو کسی اعتراض کے ساتھ واپس بھی نہیں بھیجا گیا تھا ، اس لئے دس دن کی مدت گزرنے کے بعد  صدر کے دستخط کے بغیر ہی یہ دونوں بل قانون کی حیثیت اختیار کرگئے۔ دوسری طرف صدر عارف علوی نے گزشتہ روز اللہ کو  گواہ بنا کر ان دونوں بلوں پر دستخط نہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ ابھی تک یہ وضاحت نہیں کرسکے کہ     آئینی شق 75 کے تحت ان بلوں  کو اعتراض کے ساتھ واپس کیوں نہیں کیا گیا۔

صدر نے گزشتہ روز ایکس  پر ایک چونکا دینے والے   بیان میں اپنے عملے پر ان کی ہدایات و احکامات نہ ماننے کا الزام عائد کیا تھا۔  آج ایوان صدر نے صدر کے سیکرٹری وقار  احمد کی  خدمات فوری طور سے  اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کرتے  ہوئے  وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے اپنی پسند کی ایک افسر کو نئی سیکرٹری مقرر کرنے کی  درخواست  بھی کی ہے۔  صدر مملکت کی طرف سے   سیکرٹری کو فارغ کرنے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ  یہ اقدام  صدر کے گزشتہ روز کے  قطعی بیان کے بعد ضروری ہوگیا تھا۔  ایوان صدر سے سامنے آنے والے اس بیان کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ صدر عارف علوی اس کوتاہی کی ساری ذمہ داری   اپنے سیکرٹری وقار احمد  پر عائد کررہے ہیں۔ لیکن ایسا سنگین الزام عائد کرنے کے باوجود صدر نے اس اعلیٰ سرکاری افسر کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے یا  قانونی ایکشن لینے کا اقدام  نہیں کیا۔ یوں صدر عارف علوی بظاہر ایک افسر کو قربانی کا بکرا بنا کر خود سرخرو ہونا چاہ رہے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا وہ اس مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اگر صدر   کو اپنے سیکرٹری کی وفاداری پر شبہ تھا یا انہیں اندیشہ تھا کہ وہ ان کے احکامات بجا نہیں لاتے تو انہوں نے اس افسر کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے سوشل میڈیا پر اللہ  کا واسطہ دے کر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی؟  ہوسکتا ہے کہ زیر بحث دو بلوں  کو واپس بھیجنے کے معاملہ سے پہلے صدر کو کبھی سیکرٹری وقار احمد کے ’ہتھکنڈوں‘ کا علم ہی نہ ہؤا ہو۔  اس کے باوجود ایک نہایت حساس معاملہ میں براہ راست متعلقہ شخص کی سرزنش کرنے اور اس کی کوتاہی یا حکم عدولی پر اسے سزا دلوانے کا طریقہ اختیار کرنے  کی بجائے، صدر کو سوشل میڈیا کے ذریعے  اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کیوں کرنا پڑی؟  ان دو بلوں کے حوالے سے گزشتہ روز سامنے آنے والی صدارتی وضاحت  بھی بلوں  کے  قوانین بننے  کے سرکاری اعلان کے دو روز بعد سامنے آئی تھی۔ گزشتہ روز صدر کے  انحرافی بیان کے بعد  سینیٹ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک نوٹی فکیشن میں ان دونوں بلوں کے قانون بننے کا باقاعدہ اعلان  بھی سامنے آیا تھا۔ اس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ صدر نے نہ دستخط کئے اور نہ ہی  کوئی اعتراض کیا۔ اس لئے دونوں بل قانون بن گئے۔

صدر عارف علوی تقریباً پانچ سال سے اس عہدے پر فائز ہیں۔ شہباز حکومت کے سولہ ماہ کے دوران انہوں نے درجنوں بل اعتراض لگا کر واپس کئے تھے۔ گزشتہ ہفتہ ہی کے دوران میں انہوں نے درجن بھر بل مسترد کئے تھے اور آئینی طریقہ کے مطابق ان پر اپنے مشاہدات بھی درج کئے ۔ صدر نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ  انہوں نے اپنے عملہ کو بار بار ہدایت کی کہ  آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور  آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل کو مقررہ مدت میں واپس بھیج دیا  جائے اور انہیں یقین دلایا گیا کہ ایسا کردیا گیا ہے۔  اسی بیان میں صدر مملکت  یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ  انہوں نے عملہ سے  بار بار پوچھا کہ کیا ان کی ہدایت پر عمل کیا گیا ہے تو انہیں  یقین دلایا گیا کہ دونوں بل واپس جاچکے ہیں۔ اب نگران حکومت اور  آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین میں صدر کے پاس دو ہی  آپشن ہوتے ہیں۔  ایک یہ کہ وہ  کسی بل  پر دستخط کردیں۔ دوئم  اگر وہ کسی بل سے متفق نہیں ہیں تو اس پر اعتراض لگا کر  دس روز کے اندر واپس کیا جائے بصورت دیگر وہ بل قانون بن جاتا ہے۔ صدر عارف علوی اپنے تجربے کی بنیاد پر  جانتے ہوں  گے کسی اعتراض کے بغیر بل واپس بھیجنے کا  کوئی  آئینی آپشن موجود نہیں ہے۔ اس  لئے اس بات کا جواب تو صدر ہی کو دینا پڑے گا کہ اگر  وہ ان بلوں سے متفق نہیں تھے تو انہوں نے آئینی طریقے سے ان پر اعتراض کیوں نہیں کروایا؟

یہ بھی تو ممکن ہے کہ  صدر کے قیاس    و   شبہ کے برعکس  ان کے عملہ نے صدارتی ہدایت کے مطابق بل بروقت واپس بھیج دیے ہوں لیکن اس پر نہ تو صدر کے دستخط تھے اور نہ ہی ان پر کوئی اعتراض کیا گیا تھا ، اس لئے پارلیمنٹ کے سیکرٹریٹ نے اسے صدر کی بالواسطہ منظوری سمجھا۔ صدر نے  اپنے سیکرٹری کی خدمات واپس دے کر بظاہر  اس کوتاہی کی تمام تر ذمہ  داری وقار احمد نامی افسر پر ڈالی  ہے۔ اس لئے جب تک ان کا مؤقف سامنے نہیں آتا، اس وقت تک یہ معاملہ یک طرفہ بیان بازی تک ہی محدود رہے گا۔ یہ  تو صدر نے اپنے بیان میں ہی قبول کرلیا ہے کہ دونوں بل مقررہ مدت گزرنے کی وجہ سے قانون بن چکے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے متاثرین سے معافی مانگی ہے۔

اس تفہیم کے برعکس اگر صدر عارف علوی نے اپنے سیکرٹری کو طریقہ کار کے مطابق  ان دونوں بلوں پر اپنی ناپسندیدگی کے  بارے میں نوٹ درج کروایا تھا اور سیکرٹری نے  اس نوٹ کو نظرانداز کرکے  دس دن گزرنے کا انتظار کیا اور پھر یہ بل واپس کئے  تو یہ  صدر   کے رتبے کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اور اسے سنگین جرم قرار دیا جانا چاہئے۔ ایسے کسی افسر کو صرف  موجودہ عہدے سے فارغ کرکے اس معاملہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے خلاف متعلقہ ضوابط کے تحت سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ اس کارروائی کے نتیجہ میں انہیں نہ  صرف یہ کہ ملازمت سے برطرف کیا جائے بلکہ اس جرم پر قانونی  اقدام کرکے انہیں عدالت سے سزا بھی دلوائی جائے۔ لیکن صدر عارف علوی  نے یہ  فطری اور ضروری راستہ اختیارکرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی وہ خود ہی جانتے ہیں لیکن اس معاملہ کی سنگینی کی وجہ سے انہیں تمام معلومات عام کرنی چاہئیں۔ 

اس  معاملہ کا یہ پہلو بھی دلچسپ  ہے  کہ  گزشتہ روز کے بیان میں صدر نے بار بار اپنے عملے کا حوالہ دیا ، سیکرٹری یا کسی ایک افسر کا نام  نہیں لیا ۔ عملے  میں ایک سے زیادہ افراد شامل ہوتے ہیں۔ صدر کے بیان سے بھی یہی تاثر  ملا ہے کہ انہوں نے باربار  عملہ کے متعدد افراد سے یقین دہانی حاصل کی کہ بل واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ لیکن اب اس کوتاہی کی تمام ذمہ داری ایک فرد پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پھر صدر یہ وضاحت کریں کہ انہوں نے بار بار صرف  وقار احمد سے ہی پوچھا تھا ، عملہ کے دیگر ارکان  کو کچھ علکم نہیں تھا۔  واضح رہے ممتاز صحافی و اینکر حامد میر نے گزشتہ روز جیو نیوز کے لئے رپورٹ کیا تھا کہ ’ان  بلوں کے معاملے میں ایک فرد نہیں بلکہ 3 سے 4 افراد ملوث ہیں ۔  جو لوگ اس معاملے میں ملوث ہیں وہ سب سویلین نہیں ہیں جس سے  اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے‘۔ اب ایک سویلین  افسر پر ساری ذمہ داری ڈال کر کیا صدر عارف علوی اس معاملہ کی ’حساسیت‘ سے نجات حاصل کرنا  چاہ رہے ہیں۔  یا اپنے عملہ میں شامل  عسکری اداروں کے افسروں کو  بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں؟

آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور  آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل کے تحت متعدد بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں اور  ان دونوں قوانین کو  ریاستی اداروں کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ کا سبب  کہا جارہا ہے۔  صدر کی طرف سے ان دونوں بلوں پر دستخط  نہ کرنے کے  حلفیہ بیان کے بعد  یہی محسوس کیا جارہا تھا کہ صدر تو  شہریوں کے حقوق  غصب کرنے والے ان بلوں کا راستہ روکنا چاہتے تھے لیکن بعض بالادست قوتوں کی وجہ سے  ایوان صدر کے عملہ نے  ان کے حکم پر  عمل نہیں کیا۔ ملکی معاملات میں عسکری اداروں کی گہری مداخلت کے تناظر میں یہ قیاس آرائیاں  حقیقت سے  ماورا بھی نہیں۔  اب   صدر ایک سویلین افسر پر سارا بوجھ ڈال کر،   کیا انہی عسکری حلقوں  کی حوصلہ افزائی کا سبب نہیں بن رہے جو ملک میں انسانی حقوق کے کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔  اور جن کی وجہ سے صدر اپنی خواہش کے برعکس ناپسندیدہ بلوں کو قانون ماننے پر مجبور ہوئے ہیں؟

عسکری بالادستی کے پس منظر میں ہی  پیپلز پارٹی کے سینئر  لیڈر فرحت اللہ بابر سے منسوب یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ’ایک سو سے بھی کم لفظوں میں عارف علوی نے وہ کردکھایا جو کوئی بھی گزشتہ ایک دہائی میں نہیں کرسکا۔ جوہری دھماکہ ہوچکا ہے۔ فوری تباہی کے علاوہ تابکاری کے اثرات سے ہلاکت و شکست و ریخت کا سلسلہ آنے والے سالوں میں جاری رہے گی۔ اب جو بھی ہو ،عارف علوی نے بہت سے لوگوں کا احترام حاصل کیا ہے‘۔  اس پیغام میں درحقیقت صدر عارف  علوی  کی اس جرات و حوصلہ کا حوالہ دیا گیا تھا جس کے تحت انہوں نے  اداروں کی ناراضی کی پرواہ کئے بغیر دو حساس بلوں پر اپنی رائے کو عام کیا تھا۔ لیکن اگلے ہی روز ایک سویلین افسر پر سار ملبہ ڈالنے کے بعد بھی کیا صدر عارف علوی اس  تحسین و توصیف کے مستحق ہوں گے؟

اس حوالے سے پیپلز پارٹی ہی کےسینیٹر رضا ربانی کا یہ مؤقف درست اور قابل عمل ہونا چاہئے کہ ’صدر  بھی آئینی طور سے پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ اس لئے انہیں سینیٹ کی کمیٹی میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بتانا چاہئے۔ اسی طرح ان کے عملے کے ارکان بھی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں اور واقعات کی پوری تفصیل سے آگاہ کریں ۔ سینیٹ  کمیٹی یہ تعین کرے کہ کون سچ بول رہا ہے‘۔  اس معاملہ میں غیر جانبدارانہ تحقیقات   کے ذریعےساری معلومات سامنے لانا ضروری ہے۔ تاکہ  صدر کے منصب کی حرمت اور اداروں کی پوزیشن  واضح ہوسکے۔ بصورت دیگر  ملک  کی تقسیم رائے عامہ اپنی سیاسی وابستگی کے مطابق  کسی کو سچا اور کسی کو جھوٹا سمجھتی رہے  گی۔

اس بارے میں چونکہ انگلیاں عام  طور سے پاک فوج پر اٹھ رہی ہیں، اس لئے ضروری ہوگا کہ آئی ایس پی آر  اپنی پوزیشن واضح کرے اور قوم کو بتایا جائے کہ کیا فوج اب بھی سیاسی معاملات سے دور رہنے کے عزم  پر قائم ہے یا جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی یہ ارادہ  تبدیل کرلیا گیا ہے۔    آرمی ایکٹ ترمیمی بل اور  آفیشل سیکرٹس ترمیمی بل کے قانون بننے سے  چونکہ  آرمی چیف اور ریاستی اداروں کے اختیارات میں اضافہ ہؤا ہے، اس لئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کو  واضح کرنا چاہئے کہ اس حوالے سے ایوان صدر میں پکنے والی  کھچڑی میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔