الائی حادثہ سے سبق سیکھنے کی ضرورت

رات گئے خیبر پختون خوا کی تحصیل الائی میں ڈولی کے نام سے چلنے والی ایک کیبل کار میں پھنسے ہوئے  آٹھوں  افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ان میں سے 6کم عمر بچے تھے جو ایک پہاڑی گاؤں سے  دوسرے پہاڑ پر واقع گاؤں میں اسکول جارہے تھے۔  اس افسوسناک  حادثہ کا انجام تو بخیر ہوگیا ہے لیکن اس واقعہ نے پاکستان میں نظام  مواصلات اور  کسی سانحہ کی صورت میں ریسکیو اور ضروری کارروائی کی بنیادی سہولتوں کے بارے میں متعدد سوالات  پیدا ہوئے ہیں۔

ملک میں اس وقت نگران حکومت کام کررہی ہے۔ اس حکومت سے بروقت انتخابات کے انعقاد کے علاوہ نہ تو کوئی ’مطالبہ‘ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی    یہ حکومت دوررس منصوبہ بندی  کے ذریعے ملک میں بنیادی سہولتوں  کا انتظام کرنے کے قابل ہے۔ تاہم  مستقبل میں ان عوامل کا ادراک کرنا  اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری منصوبہ  بندی کرنا ضروری ہوگا جن کی وجہ سے آج الائی کے علاقے میں    دیسی ساخت کی بنی ہوئی کیبل کار حادثہ کا شکار ہوئی اور اس میں پھنسے ہوئے بچوں و دیگر افراد کو نکالنے کے لئے    پندرہ سولہ گھنٹے صرف ہوئے۔ اسے ان خاندانوں کی خوش قسمتی ہی سمجھنا چاہئے کہ شدید موسمی حالات اور   ایک  ہزار فٹ کی بلندی   پر ہوا میں معلق لوگوں کو بالآخر   بہ حفاظت  ٹرالی میں سے نکال لیا گیا۔

اس حوالے سے سب سے اہم بات  تو یہ ہے کہ   2023 میں بھی ملک کے دور دراز علاقوں میں بچوں کو اسکول  جانے کے لئے انتہائی دشوار گزار اور جان لیوا سفر کرنا پڑتا ہے۔   کوئی حکومت  ان بچوں کی تدریس کے لئے ان کے اپنے علاقے میں بنیادی تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کرسکی۔  بنیادی تعلیم  ہر شہری کا بنیادی حق اور مملکت پاکستان اور اس کا انتظام کرنے والی حکومتیں،  شہریوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کی پابند ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بلند بانگ دعوے کرنے اور عوام کو سہانے خواب دکھانے کے باوجود  وفاقی و صوبائی حکومتیں یہ فرض ادا کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔   این ایف سی ایوارڈ کے بعد   تعلیم چونکہ صوبائی معاملہ  بن چکا ہے اس لئے وفاقی حکومت  خود کو ساری ذمہ داری سے سبک دوش سمجھتی ہے گو کہ  وزارت تعلیم کے   نام پر بھاری بھر کم بیوروکریسی اور وزارت و وزیر کے مصارف کا بوجھ ضرور سرکاری خزانے پر ڈالاگیا ہے۔ جبکہ صوبائی حکومتیں اور خاص طور سے چھوٹے صوبوں کی حکومتیں  وسائل کی کمی کا رونا  روتے ہوئے  وفاقی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ کسی  دور میں یہ اہتمام  کرنے کی کوشش نہیں کی گئی کہ کم از کم بنیادی تعلیم کی فراہمی کے لئے مشترکہ  پالیسی بنا کر اس کام کو  پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔

اسی حوالے سے دوسرا اہم پہلو دور دراز علاقوں میں  سڑکوں اور  آمد و رفت کی سہولتوں کی کم یابی  ہے۔ آج رونما ہونے والے حادثے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سڑکیں اور  آمد و رفت کے  آسان اور محفوظ ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے مختلف دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے لوگ جان جوکھم میں ڈال کر ایک جگہ سے  دوسری جگہ کا سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ الائی میں یہی صورت حال دیکھنے میں آئی  ہے۔ ایک سے دوسرے گاؤں جانے  کے لئے  طویل  زمینی راستہ ہے یا پھر دو پہاڑیوں کو ملانے کے  لئے مقامی سطح پر ڈولی کے نام سے کیبل کار چلائی جاتی ہے۔ کہا تو یہی جاتا ہے کہ ایسی سہولت فراہم کرنے والے شخص  یا کمپنی کو ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا پڑتی ہے لیکن کوئی ایسا سرکاری محکمہ موجود نہیں ہے  جو ان  مشکل پہاڑی علاقوں میں کیبل کار جیسی سہولت فراہم کرنے کے تکنیکی اور عملی مسائل کو سمجھ کر ان کی روشنی میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ ایسی کیبل کار چلانے کی اجازت دے اور  مسافروں کی  بہ حفاظت آمد و رفت کے لئے ایسی سہولتوں کامستقل بنیادوں پر معائنہ  کیا جائے اور کسی بھی تکنیکی کمزور ی کو کسی حادثہ سےقبل دور کیا جائے۔

یہ حقیقت حیرت انگیز اور المناک ہے کہ اس ملک کے شہری آمد و رفت کے  لئے ایک ایسا سفر کرنے پر مجبور ہوں جس میں ہر وقت جان جانے کا اندیشہ رہے اور کوئی اس صورت حال میں ان کا پرسان حال نہ ہو۔  اول تو اتنی اونچائی پر   ڈولی نما کھلی کیبل  کاروں کا انتظام کسی صورت    اپنی مد آپ کے اصول سے شروع کئے گئے کاروبار کے حوالے نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کے لئے حکومت پاکستان کو ماہرین کے ذریعے  جیالوجیکل سروے کرواکے سرکاری نگرانی میں باحفاظت مواصلت کا انتظام یقینی بنانا چاہئے۔ شہریوں کو  مواصلت کی سہولتیں فراہم کرنا  حکومتوں ہی کی ذمہ داری ہے لیکن پاکستان میں دیکھا  گیا ہے کہ سیاسی کھینچا تانی میں عام  طور سے  چھوٹے علاقے اور دور دراز رہنے والے شہری ہی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں تو پاکستان میں سڑکوں اور شاہراہوں کا جال بچھانے اور ایک کونے سے دوسرے کونے تک موٹر وے  پہنچانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن جب تک چھوٹے علاقوں میں آباد لوگوں کو آمد و رفت کے محفوظ اور موزوں ذرائع فراہم نہیں ہوتے،  بڑے شہروں میں ترقیاتی کاموں کے نام  پر  سیاسی  پوائینٹ اسکورنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔

الائی جیسے دشوار گزار علاقوں   میں بھی اس ملک کے شہری ہی آباد ہیں ۔  ان کے ساتھ بھی دیگر علاقوں کے باشندوں جیسا ہی سلوک ہونا چاہئے۔ جب لوگ ہی ایک سے دوسری جگہ سفر نہیں کرسکیں گے تو وہاں  پیدا ہونے والی مصنوعات بھی آسانی سے منڈیوں تک نہیں پہنچائی جاسکتیں۔ جب ملک کو ترقی دینے اور سب لوگوں کو عزت فراہم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو اس میں شہری اور دور دراز علاقوں کی تخصیص نہیں ہونی چاہئے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے  پاس وسائل کی کمی ہے لیکن  یہ بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر  ہی ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجہ میں ملک بالآخر خود کفیل  ہوسکے گا۔

تاہم اس سانحہ سے سب سے بڑا سبق یہ ملا ہے کہ  کسی مشکل وقت میں ملک کے پاس کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں ہے جو ملکی حالات کے مطابق ہمہ وقت ریسکیو کی سہولت  فراہم کر نے لئے دستیاب ہو اور اس کے پاس اس کی مہارت    بھی  ہو۔ کوئی حادثہ ہونے کی صورت  میں مقامی  انتظامیہ، پولیس،   فوجی یا اس کے اداروں کی معاونت کے محتاج نہ ہوں بلکہ خصوصی صلاحیتوں سے مالا مال ایک خاص ادارہ ہو  جس کا عملہ ملک کے مختلف  حصوں میں مختلف موسم اور حالات میں لوگوں کو کسی مشکل سے بچانے کی صلاحیت سے  رکھتا ہو۔ ملک میں چند سال پہلے نیشنل  ڈیزاسٹر منیجمنٹ  اتھارٹی کے  نام سے ایک ادارہ ضرور بنایا گیا تھا لیکن ایک تو  اس کا انتظام فوجی حکام کے حوالے کردیا گیا ۔ دوسرے یہ ادارہ بنیادی طور پر  سرکاری مشینری کا ایک انتظامی حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ اسے وسائل تو فراہم ہوتے ہیں لیکن ان کا بیشتر حصہ دفتری بابوؤں کے ناز نخروں پر  صرف ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج الائی میں جب  معصوم بچوں سمیت آٹھ افراد کو بچانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو  این ڈی ایم اے نے اس میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔  مقامی انتظامیہ  نے فوج اور ائر فورس کی مدد سے   متاثرین کو بچانے کی کوشش کی ۔

یہ درست ہے کہ کسی بحران یا مشکل میں  دیگر اداروں کی طرح فوج کی مدد طلب کرنا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن نوٹ کرنا چاہئے کہ فوج پر انحصار کے نتیجے میں ملک میں سول انفرا اسٹرکچر تعمیر کرنے پر قطعی توجہ مبذول نہیں کی گئی۔ اس سے ایک تو فوج پر غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے دوسرے فوج کو واحد ’مسیحا‘ کا درجہ دے کر  سول انتظام میں چلنے والے اداروں کو غیر مؤثر کردیا جاتا ہے۔  فوج   کا ادارہ کسی ملک کے دفاع کے لئے استوار کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ توقع رکھنا   غلط ہے کہ وہ سیلاب زدگان سے لے کر زلزلہ کے متاثرین اور  کسی  کیبل کار کے حادثہ میں مدد کے لئے پکارا جائے گا اور وہ اس میں پوری طرح کامیاب بھی  رہے گا۔  آج یہی افسوسناک صورت حال دیکھنے میں آئی۔ شاید متعلقہ فوجی حکام کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس مشکل  میں وہ کیسے امداد فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لئے ہیلی کاپٹر  مہیا کردیے گئے اور فوج کی کمانڈو فورس کو یہ آپریشن    مکمل  کرنے کا حکم دیا گیا۔  یہ جاننا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ کمانڈو فورس  کی تمام تر خوبیوں کے باوصف، اس کی تربیت  دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے  ہوتی ہے، اسے موسمی حالت میں حادثے کا شکا کیبل کار کے مسافروں کو بچانے کی مہارت  حاصل نہیں ہوتی۔

آج سارا دن فوج کے تین اور ائر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر   ڈولی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن تیز ہوا اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے دس گھنٹے میں صرف دو بچوں کو کیبل کار سے نکالا جاسکا۔  سورج غروب ہونے  پر جب ہوائی آپریشن معطل کرنا پڑا  تو  مقامی لوگوں اور ’ماہرین‘ کے تعاون سے ایک چھوٹی ڈولی متاثرہ کیبل کار  کی طرف بھیجی گئی اور اس کے ذریعے ایک ایک کرکے متاثرین کو محفوظ مقام تک لایا گیا۔

اس سانحہ سے یہ سبق بہر طور  ملتا ہے کہ فوج کو تمام مسائل کا حل سمجھ لینا غلط حکمت عملی ہے۔ موسمی حالات یا حادثہ کی صورت میں سول سیکٹر میں متعلقہ مہارت کے حامل لوگوں کو ایک اتھارٹی یا ادارے  کے تحت منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی ناگہانی مشکل میں نہ فوج  کو مشکل میں ڈالا جائے اور نہ اپنے شہریوں کو لاوارث چھوڑا جائے۔