ساتویں قومی اہل قلم کانفرنس برائے ادب اطفال

گزشتہ اتوار چلڈرن لائبریری کمپلیکس لاہور میں اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے زیر اہتمام بچوں کے ادیبوں کی ساتویں ایک روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔رواں برس ہونے والی اہل قلم کانفرنس کا عنوان "قومی تعمیر وترقی میں اہل قلم اور خصوصی افراد کا کردار"تھا۔اس کانفرنس کا شروع کرنے اور کامیابی سے جاری و ساری رکھنے کا سہرا بچوں کے مشہور ومعروف میگزین  "ماہنامہ پھول" کے مدیراعلی شعیب مرزا صاحب کو جاتا ہے۔

شعیب مرزا صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ نہ صرف گزشتہ سات 20سالوں سے بچوں کے سب سے مقبول ترین میگزین کی ادارت سنبھالے ہوئے ہیں بل کہ مسلسل سات سالوں سے بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے قومی سطح کی کانفرنسوں کا پروقار انداز میں اہتمام کروا رہے ہیں۔بچوں کے ادب کو فروغ دینے کی غرض سے منعقد کی جانے والی قومی سطح کی ان کانفرنسوں میں بچوں کے ادیبوں کی بیش قیمت ایوارڈزاور نقد انعامات کی صورت میں پزیرائی و حوصلہ افزائی کر کے انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلایا گیاجس کے نتیجے میں بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے لکھاریوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔حالیہ کانفرنس میں ملک بھر سے بچوں کا ادب تخلیق اور اس کے فروغ کے لیے قلمی و صحافتی خدمات سر انجام دینے والے دو سو ادیبوں، شاعروں اور کالم نگاروں نے شرکت کی۔قومی تعمیر و ترقی میں اہل قلم اور خصوصی افراد کا کردار کے عنوان سے منعقد ہونے والی حالیہ کانفرنس میں علم و ادب سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے خصوصی افراد کو مدعو کر کے ان کی کامیابی کی کہانیاں "ہاں ہم کر سکتے ہیں "کے تحت نئی نسل تک پہنچانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

بچوں کا ادب نئی نسل کی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں عملی زندگی کی مناسب رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بھی ہمارا بچوں کا ادب جنوں، پریوں اور شہزادوں کے روایتی قصے کہانیوں کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔اس حقیقت میں کوئی کلام نہیں کہ جن اقوام اور معاشروں نے اپنے بچوں کے علم و ادب کی بنیاد وقت کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی اور سائنسی بنیادوں پر استوار کی وہ نہ صرف منفی رجحانات سے محفوظ رہے بلکہ وہاں انسانی قدروں کے احترام اور تحمل مزاجی جیسے مثبت رجحانات کے فروغ کے علاوہ پر اعتماد انداز میں ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی روش پنپ رہی ہے۔ ہمارے ہاں بچوں کے سائنسی ادب کے حوالے سے اس لیے بھی قابل ذکر کام نہیں ہو سکا کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے والے سائنس کو غیر ضروری سمجھتے ہیں جبکہ سائنس لکھنے والے ادب کو حقیر سمجھتے ہیں۔بچوں کے معیاری ادب تخلیق نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ بچوں کے ادیبوں کو ادیب سمجھا ہی نہیں گیا۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک طرف اردو ادب کے فروغ کے لئے بنائے گئے ادارے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنے رہے تو دوسری طرف دقیانوسی اور روایتی سوچ رکھنے والے افراد سائنس اور ٹیکنالوجی کے سرکاری اداروں کے سربراہ رہے جس کی وجہ سے نہ تو ملک میں معیاری علم و ادب کوفروغ حاصل ہو سکا اور نہ ہی معاشرے میں سائنسی طرز فکر پروان چڑھ سکا۔

پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے بچوں کے ادیبوں پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انہیں نہ صرف اپنی ادبی تخلیقات کو جدیدسائنسی تقاضوں اور عملی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا چاہیے بلکہ اپنی تحریریوں کے ذریعے بچوں کوانتہا پسندی اور تعصب وعدم برداشت جیسی مہلک برائیوں کے مضر اثرات سے آگاہی بھی دینی چاہیے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سائنسی طرز فکر کی بجائے توہم پرستی اور اندھی تقلید کا رواج ہے۔ ہمارے مقابلے میں انڈیا میں نہ صرف بچوں کے سائنسی ادب پر بھی قابل ذکر توجہ دی جاتی ہے بلکہ اسکول لائف میں ہی تحقیقی پراجیکٹ کے زریعے بچوں میں سائنسی وتخلیقی سوچ پیدا کی جاتی ہے۔بچوں کے ادب کو سائنسی رنگ میں پیش کرنے سے بچوں کے اذہان سائنسی ایجادات و اختراعات کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ہمارے کچھ سرکاری و غیر سرکاری ادارے بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت و اہمیت کا ادراک کرنے لگے ہیں۔ ایک طرف اردو سائنس بورڈ بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ  کے لئے قابل ذکر خدمات سرانجام دے رہا ہے تو دوسری طرف بچوں کے ادب کے فروغ کے لئے کوشاں اکادمی ادبیات اطفال اور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی جیسے ادارے قابل ذکر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔حالیہ کانفرنس میں صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان سعدیہ راشد نے شہید حکیم محمد سعید کے مشہور قول "سائنس پڑھو، آگے بڑھو" کو حوالہ دیتے ہوئے قوم کے نونہالوں کو سائنس پڑھنے جب کہ بچوں کے ادیبوں کو اپنی تحریریوں میں سائنس اور کتاب وقلم کی اہمیت کی اہمیت اجاگر کرنے کا پیغام دیا ہے۔

اگرچہ گزشتہ چند سالوں میں بچوں کے ادب سمیت علم و ادب کی ترویج کیلئے مربوط کوششوں کا آغاز ہوا ہے لیکن بچوں کے معیاری ادب، بلخصوص سائنسی ادب کی تخلیق کے حوالے سے بہت کچھ کرنا ابھی باقی ہے۔ حکومت کے کرنے کا سب سے اہم کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ قومی اخبارات کی طرح بچوں کے ادبی و سائنسی رسائل کو سرکاری اشتہارات دینا شروع کریں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں بھی جدید سہولیات سے آراستہ لائبریریوں کا قیام لازمی قرار دیا جائے۔  لائبریری پریڈ میں بچوں کو معیاری سائنسی کتابوں کے مطالعے کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ مطالعہ میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کو ایک ایک ہفتے کے لئے معیاری ادبی وسائنسی کتابیں گھروں میں پڑھنے کے لئے ایشو کی جائیں۔بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ کیلئے حکومتی سرپرستی میں سائنسی ادب کی مشہور و معروف عالمی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی بچوں کا سائنسی ادب تخلیق کرنے پر توجہ دی جائے۔قومی اور صوبائی سطح پر ہونے والی ادبی کانفرنسوں میں بچوں کے ادب پر الگ سے سیشنز رکھے جائیں اور بین الصوبائی اور بین الاقوامی ادبی وفود کے تبادلوں میں بچوں کے ادیبوں کو نمائندگی ملنی چاہیے۔

 حکومت کی جانب سے بچوں کے معیاری سائنسی ادب لکھنے والے ادیبوں کے لیے خصوصی مراعات و ایوارڈز کا اعلان ہونا چاہیے۔بچوں کے سائنسی ادب کے فروغ کی راہیں ہموار کرنے کیلئے حکومتی سطح پر ادیبوں کو سائنس اور سائنسی ذہن رکھنے والے افراد کو ادب کے قریب کیا جائے۔تعلیمی نصاب میں سائنسی تصورات کی بجائے مذہبی و نظریاتی عناصر کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے سے نئی نسل سائنسی انداز فکر اپنانے میں ناکام رہی۔سائنس بمقابلہ ادب، سائنس بمقابلہ مذہب اور دنیا بمقابلہ دین کی دوئی نے معاشرے میں سائنسی طرز فکر کے فروغ میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ شعیب مرزا صاحب سے گذارش ہے کہ آئندہ ہونے والی اہل قلم کانفرنس برائے ادب اطفال میں یا تو بچوں کے سائنسی ادب کی ضرورت و اہمیت پر بھی الگ سے سیشن رکھا جائے یا کانفرنس ہی اسی عنوان پر کرائے جانے کا اہتمام کیا جائے۔