کیا عارف علوی عبوری مدت میں بدستور صدر رہ پائیں گے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 23 / اگست / 2023
صدر عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کو انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لئے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ صدر نے آئینی شقات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے کہا ہے کہ قومی اسمبلی 9 اگست کو تحلیل ہوگئی تھی ، اس لئے اب یہ ان کا فرض ہے کہ 90 دن کے اندر انتخابات منعقد ہوں۔ آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے ترمیمی بلوں پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ صدر ایک بار پھر اپنی آئینی اتھارٹی نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کا حالیہ اقدام نیا آئینی تنازعہ کھڑا کرسکتا ہے۔
اس دوران الیکشن کمیشن نے نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کا کام دسمبر کے دوسرے ہفتے کے دوران مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ انتخابات مقررہ مدت میں منعقد نہیں ہوسکتے۔ عام طور سے قیاس کیا جا رہا ہے کہ نئے انتخابات فروری یامارچ تک ہوں گے۔ اگرچہ اس تاخیر کی آئینی حجت کے بارے میں شبہات موجود ہیں اور اس کی وضاحت کی کوئی عملی صورت دیکھنے میں نہیں آئی۔ تحریک انصاف نے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے اور قیاس کیا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرسکے گی۔ تاہم اگر یہ عدالتی معاملہ بھی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کی طرح طوالت اور قانونی الجھنوں کا شکار ہؤا تو سپریم کورٹ کا فورم بھی ملک میں تحریری آئین کی موجودگی کے باوجود شاید اس بارے میں کوئی حتمی حکم جاری نہ کرسکے۔
صدر مملکت کا خط کئی حوالوں سے دلچسپ اقدام ہے۔ صدر عارف علوی اس وقت آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے ترمیمی بلوں پر دستخط نہ کرنے کے اعلان پر تنازعہ کا شکار ہیں کیوں کہ وہ اس معاملہ میں مکمل معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ ہی انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کہ انہوں نے کب اور کس کو ان دونوں بلوں کو اعتراض لگا کر واپس بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ صدر نے سماجی رابطہ کی سائٹ ایکس پر ایک بیان میں اپنے عملہ پر حکم عدولی کا الزام لگایا تھا تاہم ایک ہی روز بعد انہوں نے اپنے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات کیبنٹ ڈویژن کو واپس دینے کا حکم دیتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس سے درخواست کی تھی کہ انہیں نیا سیکرٹری فراہم کیا جائے۔ البتہ 22 گریڈ کی جس خاتون افسر کو انہوں نے نیا پی ایس مقرر کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے ، بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ روزنامہ ڈان کی اطلاع کے مطابق دیگر اعلیٰ افسران بھی ایوان صدر میں خدمت انجام دینے سے گریزاں ہیں۔
صدر عارف علوی نے اگرچہ اپنے عملہ پر دونوں بلوں کے حوالے سے حکم عدولی کا الزام عائد کیا لیکن اپنے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات واپس کرتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ صدر نے یہ فیصلہ کیوں کیا ہے۔ اس طرح اس معاملہ میں مسلسل بے یقینی موجود رہی ہے ۔ صدر ابھی تک ان بلوں کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح نہیں کرسکے۔ اس دوران یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ سیکرٹری وقار احمد نے صدر کے نام ایک خط میں واضح کیا ہے کہ صدر کے بیان کے بعد ان کی خدمات واپس کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ا س کوتاہی کا مرتکب قرار دیا جارہا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی فورم یا عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صدر نے ان بلوں پر کوئی تحریری رائے نہیں دی اور نہ ہی یہ بل سیکرٹری کو اس نوٹ کے ساتھ بھجوائے تھے کہ انہیں واپس بھیجا جائے۔ بلکہ یہ بل ابھی تک صدر کے دفتر میں ہی موجود ہیں۔ انہوں نے صدر سے اپنے خلاف الزام تراشی پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے تبادلہ کے حکم کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ان کے ساتھ شدید ناانصافی کی گئی ہے۔
وقاراحمد کا یہ خط سرکاری طور سے سامنے نہیں آیا لیکن صدر عارف علوی نے اس کے مندرجات کا نوٹس لینے اور اس پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ اس صورت حال میں زیر بحث بلوں کے عوام دشمن مقاصد سے قطع نظر ان کے حوالے سے صدر کے طریقہ کار، بیان بازی، الزام تراشی اور پھر خاموشی سے ایک پراسرار اور پیچیدہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ شاید صدر کو اس بات کا احساس ہی نہ ہو کہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کا عملہ ان کے احکامات کی بجائے بعض نادیدہ قوتوں کے اشاروں پر چلتا ہے۔ اس طرح دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان کا صدر اگرچہ محض آئینی عہدہ ہے لیکن مختلف ادارے صدر کے رتبے اور محدود آئینی اختیار کا احترام کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ لگتا ہے صدر عارف علوی نے گزشتہ اتوار کو ایکس پر پیغام جاری کرنے سے پہلے اس کے مضمرات پر پوری طرح غور نہیں کیا ۔ بعد از وقت بھی وہ اپنی پوزیشن واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اگرچہ متعدد تجزیہ نگار اور سیاسی لیڈر آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم کو بنیادی شہری حقوق پر سنگین حملہ قرار دیتے ہیں لیکن صدر عارف علوی نے اس بلوں پر اپنی رائے طاہر کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ، وہ بظاہر آئینی و قانونی نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سکینڈل سے ان کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوئی ہے۔
اب صدر عارف علوی نے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے لئے اپنی آئینی ذمہ داری کا اعلان کرتے ہوئے اپنی صدارتی اتھارٹی اور استحقاق ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن انہوں نے یہ قدم اٹھاتے ہوئے بھی بعض حقائق کو نظر انداز کیا ہے۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ بلوں پر دستخط نہ کرنے کے معاملہ کی طرح چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ طے کرنے کے لئے مدعو کرنے کا اقدام بھی بطور صدر ان کے لئے مزید ہزیمت و پریشانی کا موجب بن جائے۔ ایک تو الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اب انتخابات کی تاریخ متعین کرنے کا اختیار صدر کی بجائے الیکشن کمشنر کومنتقل ہوچکا ہے۔ اس ترمیم کا حوالہ دے کر اگر سکندر سلطان راجہ نے صدر کی دعوت پر ان سے ملاقات سے گریز کیا تو اسے براہ راست صدر علوی کی ذاتی توہین سمجھا جائے گا۔
پبلک پالیسی تھنک ٹینک پلڈاٹ کے چئیرمین اور ماہر تجزیہ نگار احمد بلال محبوب نے خیال ظاہر کیا ہے کہ صدر نے اگرچہ چیف الیکشن کمشنر کو آئینی شق 48 کے تحت خط لکھا ہے لیکن وہ ایسا خط صرف وزیر اعظم کے مشورے پر ہی تحریر کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے مشورے کے بغیر صدر کے خط کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کو اہم مانا جائے تو دیکھنا ہوگا کہ صدر نے کس حد تک اپنے عہدے کے آئینی تقاضے پورے کئے ہیں۔ اگر انہوں نے وزیر اعظم کے مشورے کا انتظار کرنے کی زحمت نہیں کی اور اپنے طور پر چیف الیکشن کمشنر کو ملاقات کے لئے بلایا ہے تو ایوان صدر اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں ایک نیا تنازعہ سامنے آسکتا ہے۔
بلوں پر دستخط کے سوال پر بھی وزارت قانون نے صدر عارف علوی کے مؤقف کو مسترد کیا تھا اوور واضح کیا تھا کہ مقررہ آئینی مدت کے دوران بل واپس نہیں بھیجے گئے جس کی وجہ سے وہ قانون بن گئے۔ اب اگر صدر کا خط وزیر اعظم کو حاصل مشورہ دینے کے اختیار کو نظر انداز کرتے ہوئے لکھا گیا ہے تو اس سے بھی کم از کم ملک کے اہم ترین اداروں کے درمیان ایک نیا تنازعہ سامنے آئے گا۔ اس سے صدر عارف علوی کی اخلاقی پوزیشن متاثر ہوگی اور ملک کو ایک نئی پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر عارف علوی کے عہدے کی مدت ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پوری ہورہی ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق اور عمران خان سے وفاداری کی وجہ سے وہ گزشتہ سولہ ماہ کے دوران شدید دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ اپنی پارٹی کو اقتدار سے محروم کرنےوالی پارٹیوں کی حکومت سے تعاون کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے والے کسی بھی شخص کو بہر طور ذہنی طور سے اس کے لئے تیار رہنا چاہئے کہ انہیں اپنی سیاسی وابستگی سے بالا ہوکر آئینی ذمہ داری پورا کرنا ہو گی۔ بصورت دیگر کسی بھی شخص کے پاس ایسا عہدہ چھوڑ دینے کا آپشن موجود ہوتا ہے ۔ عارف علوی نے بوجوہ اس آپشن کو اختیار نہیں کیا ۔ گزشتہ ڈیڑ ھ برس کی مدت میں انہوں نے شہباز حکومت کے کام اور قانون سازی کے معاملات میں رکاوٹ ڈالنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے علاوہ آرمی چیف کی تبدیلی سے پہلے سابق آرمی چیف اور عمران خان کے درمیان مواصلت و مفاہمت کی کوششیں بھی کرتے رہے تھے۔ ان کے اس اکردار کے بارے میں بھی رائے منقسم ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ صدر کے طور پر عارف علوی نے تحریک انصاف کے ساتھ وابستگی و ہمدردی کو چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
سانحہ 9 مئی کے بعد ملک میں جو تبدیلیاں نوٹ کی گئیں ان میں صدر مملکت کا تبدیل ہونے والا رویہ بھی تھا۔ انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرکے حالات کے تقاضے کے مطابق کام کرتے رہنے کا ارادہ کیا۔ اب پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے صدر سے استعفی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ صدر کے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انہیں 9 مئی کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان پر ٹوٹنے والی قیامت میں ان کا ساتھ دینے کے لئے اپنا عہدہ چھوڑنا چاہئے تھا تاکہ وہ اپنے لیڈر کی سیاسی جد و جہد کا عملی حصہ بن سکتے۔ عارف علوی یہ حوصلہ نہیں کرسکے۔ اب وہ استعفی نہ بھی دیں تو بھی دو تین ہفتے میں ان کے عہدے کی مدت پوری ہوجائے گی۔
البتہ گزشتہ چند روز میں انہوں نے یکے بعد دیگرے جو اقدام کئے ہیں، ان کے نتیجہ میں اب اس بات کا امکان کم ہوگیا ہے کہ وہ نیا صدر منتخب ہونے تک اس عہدے پر فائز رہ سکیں۔ اگر کسی نہ کسی عذر پر انہیں استعفی دینے پر مجبور نہ کردیاگیا تو بھی سینیٹ کے چئیرمین صادق سنجرانی کو ’عبوری صدر‘ بنوانے کے لئے کوئی انہونی بھی دیکھنے میں آسکتی ہے۔ سماجی رابطہ کی سائٹ ایکس کو بیان بازی کے لئے استعمال کرتے ہوئے صدر عارف علوی کو یہ احساس کرنا چاہئے تھا کہ ان کے اقدامات صرف ان کے لئے ذاتی ندامت و پشیمانی کا سبب ہی نہیں بنیں گے بلکہ اس منصب پر بھی داغ لگے گا جس پر وہ پانچ سال تک فائز رہے ہیں۔ صدر مملکت کے لیے فیصلے کرتے ہوئے پوری تصویر کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے یا پھر وہ ڈٹ کر اپنی بات کہیں اور حالات کا مقابلہ کریں۔