ہائیکورٹ میں زیرِ التوا معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے: پاکستان بار کونسل

  • جمعرات 24 / اگست / 2023

پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نے کہا ہے کہ ہائیکورٹ میں زیرِ التوا معاملات میں مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔

حسن رضا پاشا نے سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی آبزرویشن سے ماتحت عدالت کو ڈائریکشن کا تاثر ملتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے وکلا کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو بری کردیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے گزشتہ روز توشہ خانہ کیس میں اپیل پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں تھیں۔ بنچ میں شامل ججوں نے فیصلہ سے پہلے حق دفاع نہ دینے اور گواہ طلب نہ کرنے کی بھی نشاندہی کی تھی۔  تاہم چیف جسٹس نے یہ کہہ کر سماعت آج تک ملتوی کردی تھی کہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران مداخلت نہیں کرے گی۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس معاملہ پر غور ہوگا۔

پاکستان بار کونسل کے چئیرمین کا کہنا  کہ سپریم کورٹ سے آنے والی آّبزرویشنز سے ماتحت عدالتوں پر اثر انداز ہونے کا تاثر نہیں ملنا چاہئے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ تصور کیا جائے گا کہ دباؤ کی وجہ سے بری کیا گیا۔ عدلیہ کو غیر سیاسی اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

علاوہ ازیں وائس چیئرمین پاکستان بار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے بینچز مخصوص جماعت کی طرف داری کر رہے ہیں۔ ٹرائل کورٹ کے جج کے فیصلے کو غلط کہہ کر تاثر دیا کہ جیسے اپیل یہاں زیر التوا ہے۔