چندریان کی کامیابی: ہمارے خطے کا فخر
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 25 / اگست / 2023
ہمارے اس قابلِ فخر قدیمی انڈین تہذیبی گہوارے یا خطے کے لیے یہ امر کس قدر خوش کن ہے کہ ہمارے جنوبی ایشیا کے اہم ترین ملک انڈیا کا خلائی مشن چندریان تھری چاند کے قطب جنوبی پر سافٹ لینڈنگ میں کامیاب ہوگیا ہے۔
اسرو یعنی انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے اس مشکل مشن کا آغاز 14جولائی 2023 کو آندھراپردیش سے کیا تھا جو زمین سے چاند تک تین لاکھ چوراسی ہزار کلومیٹر کا طویل فاصلہ طے کرتے ہوئے ٹھیک چالیس دنوں بعد 23اگست 2023 کی شام اپنے ٹارگٹ پر لینڈ کرگیا۔ 17اگست کو یہ لینڈر اپروپلشن ماڈیول سے الگ ہوا۔ چندریان سنسکرت لفظ ہے جس کے معنی چاند گاڑی کے ہیں اس کا کل وزن 3900 کلوگرام ہے۔ اس مشن کی جو گاڑی چاند پر اتری ہے اس کا نام “وکرم لینڈر “ ہے جو انڈین سپیس پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس وکرم لینڈر کا وزن 1500 کلوگرام ہے جبکہ اس سے نکل کر جو چھوٹی گاڑی چاند کی سطح پر چل کر تجربات و مشاہدات کررہی ہے اور اپنی یہ تفصیلات نیچے اسرو کو بھیج رہی ہے اس کا نام ”پرگیان“ رکھا گیا ہے جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”گیان“ یعنی عقل و دانش والی، اور اس کا وزن محض 26کلوہے۔ ہلکی پھلکی ہونے کی وجہ سے یہ چاند کی سطح پر گھوم پھر سکتی ہے۔
اس سے نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا بھر کی خلائی تحقیقات کرنے والوں کو کیا فائدہ پہنچے گا اس پر آنے سے پہلے واضح کردیں کہ یہ ٹارگٹ جوکامیابی سے ہمکنار ہوا ہے کوئی آسان نہ تھا۔ انڈیا نے اگرچہ خلائی تسخیر کی کاوشیں پنڈت نہرو کے دور سے ہی شروع کردی تھیں ایک وقت تھا جب یہ بیل گاڑی میں لاد کر لائی گئی مشینری سے خلائی تجربات کرنے نکلے تھے۔ اور پوری دنیا بالخصوص سپرپاورز کی طرف سے انڈیا کا مذاق اُڑایا جارہا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب نیویارک ٹائمز میں اس نوع کا کارٹون چھپا کہ کس طرح ایک انڈین گائے کی باگیں تھامے ترقی یافتہ ممالک کی لیبارٹریز میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے اور کس طرح اس کی تذلیل کی جارہی ہے۔ امریکیوں کے لیے یہ ایک مذاق تھا کہ یہ انڈین جو اس قدر پسماندہ ہیں اور معاشی غربت سے نکل نہیں پارہے کیا اس قابل ہوجائیں گے۔ لیکن اس تضحیک کے باوجود یہ بلند عزم لوگ دھن کے کتنے پکے ثابت ہوئے۔ بلاشبہ انہیں ماقبل کئی ناکامیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ اکتوبر 2008 میں جب من موہن سنگھ انڈیا کے پرائم منسٹر تھے چندریان ون بھیجا گیا جو ناکامی سے دوچار ہوا لیکن انہوں نے چندریان ٹو کی منظوری دے دی۔ یوں جولائی 2019 میں چندریان ٹو کا دوسرامشن بھی اپنے ٹارگٹ کے حصول میں ناکام رہا۔
البتہ ان ہر دو ناکامیوں سے انڈین سپیس سائنسدانوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اس سلسلے میں جو مشکلات اور الجھنیں پیش آئیں ان سے انہوں نے مثبت چیزیں سیکھیں جو چندریان تھری کو کامیاب بنانے میں معاون ثابت ہوئیں۔ انہی دنوں چند ایام کے فرق سے چائنا اور رشیا نے بھی اپنے خلائی مشن روانہ کیے چین نے اپنا ایک خلائی مشن بھیجا جس پر 13.5 کروڑ ڈالر لاگت آئی جو چاند کے اسی خطے پر پہنچایا جانا تھا لیکن بدقسمتی یا تکنیکی خرابی سے وہ 21اگست کو اپنی آخری منازل پر بے قابو ہوتے ہوئے چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔ اسی طرح روس نے سوویت یونین دور کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا چاہا اور اس مقصد کے تحت سنتالیس برس بعد لونا 25 خلائی جہاز چاند کی طرف روانہ کیا۔ واضح رہے کہ لونا 24آخری بار برژنیف کے آخری برسوں 1976 میں بھیجا گیا تھا جس کا وزن آٹھ سو کلو گرام تھا۔ اس تسلسل کو آگے بڑھانے کے لیے حالیہ پیوٹن حکومت نے لونا 25 بھاری لاگت کے ساتھ روانہ کیا لیکن روسی خلائی ادارے روسکو سموس کی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اپنا کنٹرول کھونے اور چاند سے ٹکرانے کے بعد ناکامی سے دوچار ہوگیا۔
ناسا کی رپورٹ کے مطابق 1958 سے دنیا کے مختلف طاقتور ممالک 70کے قریب خلائی مشن چاند پر بھیج چکے ہیں جن میں سے اکتالیس ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔ سب سے کامیاب مشن آرٹیمیس مانا جاتا ہے جو ناسا کے تحت 1969 میں انتہائی بھاری لاگت کے ساتھ یعنی 93ارب ڈالر خرچ کرتے ہوئے امریکا نے بھیجا تھا جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس امریکی مشن میں پہلی مرتبہ انسان نے چاند پر قدم رکھا۔ اب انڈینز کا بھی اس کامیابی کے بعد 2024 میں چندریان 4 چاند پر بھیجنے کا پلان ہے جس میں ناسا کے آرٹیمیس مشن کی طرح انسان شامل ہوں گے۔ اس سے پہلے 2014 میں انڈیا اپنا ایک خلائی مشن منگل یان بھیج چکا ہے جو مریخ کے مدار میں ہے اور انڈین سپیس سائنسدانوں کو معلومات ارسال کررہا ہے۔
عالمی میڈیا میں چندریان تھری کی کامیابی کو بھرپور کوریج ہی نہیں ملی ہے بلکہ دنیا بھر کے خلائی سائنسدان انڈین مشن کی اس کامیابی کو کئی حوالوں سے نئی امیدوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ایک تو اس لحاظ سے کہ یہ دیگر عالمی طاقتوں کے خلائی پروگراموں کی لاگت کے لحاظ سے حیران کن حد تک کم خرچ ثابت ہوا ہے۔ ہالی وڈ کی خلائی مشن پر بنائی گئی فکشن فلم ”انٹرسٹیلر“ پر ہی 16.5 کروڑ ڈالر لاگت آئی تھی۔ دوسرے یہ چاند کے اس خطے میں اترا ہے جہاں ایک طرح سے سایہ یا اندھیرا رہتا ہے۔ کیونکہ قطب جنوبی میں سورج کی کرنیں نہیں پہنچ پاتیں۔ یوں انڈیا دنیا میں پہلا ملک قرار پایا ہے جو چاند کے اس حصے میں پہنچا ہے۔ عالمی خلائی سائنسدانوں کو اس میں خصوصی دلچسپی اس وجہ سے ہے کہ یہاں زیر سطح پانی کی موجودگی کے آثار متوقع ہیں۔ یہاں برف کی موجودگی کے واضح امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں جس سے انسانی آبادکاری کی صورت میں آکسیجن بنائی یا ڈھونڈھی جاسکے گی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ چاند پر مختلف النوع قیمتی معدنیات کی دستیابی بھی متوقع ہے جو سونے جیسے قیمتی ہوسکتی ہیں اور انہیں زمین پر بہم پہنچانے کا اہتمام بھی ممکن ہے۔ اس سے سمندری وسائل کی تشخیص کرتے ہوئے موسمیاتی مسائل اور موسموں کی پیشنگوئی بہتر طور کی جاسکے گی۔
چندریان کی حساس ترین مشین ”پرگیان“ چاند کی سطح پر پتھروں اور گڑھوں میں گھومتے ہوئے اپنی تصاویر اور معلومات اسرو کو بھیج رہی ہے۔ کیونکہ اس میں دو سائنسی آلات نصب ہیں جو چاند کی مٹی اور معدنیات کے کیمیائی تجزیے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ قطب جنوبی کے جس گڑھے کے کنارے رکی ہے اس کی چوڑائی پچیس سو کلومیٹر اور گہرائی آٹھ سو کلومیٹر بیان کی جارہی ہے۔ چندریان کے کامیاب مشن کی بدولت انڈیا دیگر ممالک کے لیے کم قیمت پر راکٹ اور سیٹلائٹ بناسکے گا۔ مثال کے طور پر لندن کی سیٹلائٹ کمپنی ون ویب نے یوکرائن ایشیا جنگ کے بعد رشین راکٹس پر پابندی کے بعد اسرو کی مدد سے چھتیس راکٹس یا سیٹلائٹس خلا میں بھیجے ہیں۔ اور وہ ایسے 648سیٹلائٹس بھیجنا چاہتے ہیں۔ انڈین حکومت بھی اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ نجی سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے اور امریکی خلائی مشن میں نجی سرمایہ کاری کی طرح بہت سے عالمی ادارے اس حوالے سے اپنی دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔
دنیا بھر کے خلائی سائنسدان نہ صرف یہ کہ چندریان کی کامیابی کو انسانی رسائی میں مہمیز کی طرح لے رہے ہیں بلکہ مستقبل میں خلائی سٹیشنز کی نئی منازل کے قیام کی امیدیں باندھ رہے ہیں۔ انڈین وزیراعظم نریندرا مودی کی نہ صرف اپنے ملک میں مقبولیت بڑھی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی انہیں سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے مشن کی کامیابی پر جنوبی افریقہ سے تقریر کرتے ہوئے اس کرۂ ارضی کو ”ایک دنیا ایک قوم“ کا نعرہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا یہ خلائی مشن دنیا بھر کے خلائی سائنسدانوں اور ان کے مشنز کی معاونت و مدد کرے گا۔ ہم چاند سے بھی آگے دیگر سیاروں تک جائیں گے۔
ہماری اس مشترکہ دھرتی کے شاعر علامہ اقبال نے ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں اور یہ کہ مجھے محبت ان جوانوں سے ہے جو ستاروں پہ ڈالتے ہیں کمند، کا جو خواب دیکھا تھا یوں محسوس ہورہا ہے اس کی تعبیر اس خطے سے ہی نمودار ہوگی، ہم سب پاکستانی صرف ایٹمی دھماکوں میں ہی مسابقت پر یقین نہیں رکھتے ہیں اپنے انڈین بھائیوں کی تسخیر کائنات جیسی خلائی کامیابیوں میں بھی ان کے دوش بدوش چلنا چاہتے ہیں۔