ملک میں جمہوری عمل کا ارتقا ہو رہا ہے: نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ
پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری عمل تسلسل سے جاری ہے۔ گزشتہ 15 برسوں میں تین اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی جب کہ حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے عمل میں آئی۔
انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری عمل کا ارتقا ہو رہا ہے جس کے لیے آئینی طریقہ موجود ہے۔ جمہوریت ہی پارلیمنٹ کی مضبوطی کی ضامن ہے۔ نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہماری نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ضروری نہیں کہ امریکہ جو بھی کہے یا کرے ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ کئی معاملات میں دونوں ممالک کے درمیان عدم اتفاق بھی پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلق کا خواہاں ہے۔ ملکوں کے درمیان مخلتف امور پر اتفاق اور اختلاف بھی رہتا ہے لیکن ہم منفی توانائیوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم امریکہ کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی ٹیم کو کہتا رہتا ہوں کہ ماحولیاتی تبدیلی کا مسئلہ ہماری نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کے وجود کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے لیکن موسمیاتی تباہ کاریوں کا سب سے زیادہ نشانہ پاکستان بنا ہے۔ دنیا کی امن کی خاطر پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دیں اور نمایاں کردار ادا کیا لیکن شاید دنیا کو صحیح طریقے سے یہ باور کروانے میں ہم ناکام رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم عالمی مالیاتی فنڈ کو ایک دشمن کے طور پر کیوں پیش کیا جاتا ہے؟ البتہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے وسائل اور اخراجات میں توازن نہ ہونا ہے۔‘