عوامی ناراضی کا طوفان خطرناک چیلنج بن سکتا ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 26 / اگست / 2023
ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے اتوار کو بجلی کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے سوال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ ایکس پر ایک بیان کے مطابق ’اجلاس میں وزارت پانی و بجلی سے بریفنگ لی جائے گی اور اس بات پر غور ہوگا کہ عوام کو کیسے زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جاسکتا ہے‘۔ یہ اقدام ملک گیر احتجاج کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش تو ہوسکتا ہے لیکن نگران حکومت کے پاس عوام کو سہولت دینے کے لئے بہت زیادہ امکانات نہیں ہیں۔
پاکستان کی مالی پالیسیاں قرض کے غیر معمولی بوجھ اور آئی ایم ایف سے معاہدہ کے تحت قبل از وقت طے کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق مختلف مدات میں عوام کو دی جانے والی سبسڈی کو کم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اسی لئے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم گزشتہ دو روز کے دوران کراچی سے لے کر پشاور اور پنجاب کے متعدد شہروں میں بجلی کے بلوں کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ لوگوں نے بل جلا کر اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور متعدد مقررین نے بل ادا نہ کرنے کا اعلان کیا۔ ایک خبر کے مطابق اب بعض مساجد بھی بجلی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کو عذر بنا کر بل ادا نہ کرنے کا اعلان کررہی ہیں۔ موجودہ مشکل، پیچیدہ اور بحرانی صورت حال میں اگر مساجد اور دینی اداروں نے واقعی بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے بارے میں بائیکاٹ کا کوئی منظم ارادہ کرلیا تو شاید صورت حال حکومت کے قابو سے باہر ہوجائے۔
بجلی کی قیمتوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بے پناہ اضافہ ہؤا ہے تاہم یہ قیاس کرلینا درست نہیں ہوگا کہ موجودہ احتجاج صرف بجلی کی قیمتوں کے خلاف ہے۔ درحقیقت یہ احتجاج متعدد عوامل کی بنیاد پر منظم ہورہا ہے۔ یہ عوامل ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوسکتے ہیں لیکن یہ سب مل کر ملک کے عام اور بے اثر شہری کی زندگی کو دشوار بنا رہے ہیں اور عوام میں مایوسی، بے بسی اور بے چارگی کی کیفیت مستحکم ہورہی ہے۔ اس کی ذمہ داری ملک کی سیاسی جماعتوں، حکومت اور اداروں پر یکساں طور سے عائد ہوتی ہے لیکن زبانی جمع خرچ کے علاوہ کسی بھی سطح پر اسے کم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس اور مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا بلکہ سیاسی جماعتیں اور دیگر عناصر اپنے اپنے طور پر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں یا اس سے فائدہ اٹھا کر خود سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ کراچی میں ہونے والے احتجاج میں جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے اس سوال پر عوامی ناراضی کو کیش کروانے اور اسے اپنے فائدےکے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ خطرناک رجحان ہے جس سے صرف امن و امان کی صورت حال ہی خراب ہونے کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ عوام کے احساس محرومی میں اضافہ کا امکان بھی ہے۔ اب جماعت اسلامی بجلی کی قیمتوں کے حوالے سے ملک گیر مہم جوئی کرنا چاہتی ہے۔ عوام میں پائے جانے والے غصہ کی حالت میں اگر جماعت اسلامی اپنی تنظیمی صلاحیت بروئے کار لاتے ہوئے احتجاج منظم کرتی ہے تو اس کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے لیکن اس طرح مسئلہ کا کوئی حل بہرصورت نکلنے کی امید نہیں ہے۔ فی الوقت دوسری سیاسی جماعتیں اس سوال پر منظر نامہ سے غائب ہیں لیکن احتجاج کی کوئی شکل سامنے آنے کی صورت میں ہر سیاسی جماعت اس آسان تحریک کا حصہ بن کر حالات کو خراب کرنے میں حصہ ادا کرنے پر تیار ہوگی۔ اس لئے عوام، ان کی نمائیندگی کرنے والے سول ایکٹوسٹ گروہوں ، تاجروں یا دیگر عناصر کو اس معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کی کسی کوشش کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔
عوام میں غم و غصہ کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قیمت ، مہنگائی میں مسلسل اضافے اور قوت خرید میں مسلسل کمی کے سبب عام گھروں کے لئے آمدنی و مصارف میں توازن قائم کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ اب اکثر گھروں کو بجلی کے جو بل روانہ کئے جارہے ہیں وہ اکثر صورتوں میں کسی گھرانے کی مجموعی آمدنی سے بھی زیادہ ہیں۔ ایسے میں لاکھوں خاندانوں کے پاس ایک ہی آپشن بچتا ہے کہ یا تو بجلی کا بل ادا کردیں یا گھر میں راشن لے آئیں۔ کوئی بھی نظام اگر ملک کی بڑی اکثریت کو ایسی صورت حال کی طرف دھکیلے گا تو اس پر آنے والے رد عمل کا خواہ کوئی بھی جواز نہ ہو لیکن یہ احتجاج اور غم و غصہ کے غیر روائیتی اظہار کی صورت ہی اختیار کرے گا۔ پاکستان میں عوامی بہبود کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ریاست اس بات کی ذمہ دار نہیں ہے کہ اگر کوئی خاندان مالی مشکلات کا شکار ہے تو وہ کسی سرکاری ادارے سے معاونت کی امید کرسکے۔ ایسے میں لے دے کے خیراتی اداروں کے لنگر یا مخیر حضرات کی مالی امداد کا راستہ ہی بچ جاتا ہے۔ لیکن معاشرے میں نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا نام نہاد ’سفید پوش طبقہ‘ بھی اتنی کثیر تعداد میں موجود ہے جو مشکل پڑنے پر کسی کے سامنے دست سوال بھی دراز نہیں کرسکتا۔
نگران وزیر اعظم نے کم از کم یہ تو ایک بہتر اقدام کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں کے سوال پر احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور سے اجلاس طلب کیا ہے جس میں تمام اہم ادارے شریک ہوں گے ۔ تاہم دوسری طرف سرکاری عمال جب بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کریں گے کہ عوام کی بڑی اکثریت تو اس سے متاثر ہی نہیں ہوتی تو اس سے بے چینی اور غصہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور وزارت توانائی کے وفاقی سیکرٹری نے اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مرتضے سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے صرف وہی گھرانے متاثڑ ہوئے ہیں جو 400 یونٹ ماہانہ سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یعنی ملک کی دو تہائی آبادی تو اس سے متاثر ہی نہیں ہوتی۔ اس قسم کی دلیل خواہ کاغذی اعداد و شمار سے مطابقت ہی کیوں نہ رکھتی ہو لیکن جب ہر گھر میں بجلی کے بل کی ادائیگی اہم ترین مالی دشواری بن چکی ہو اور اس کے اثرات عام طور سے محسوس کئے جارہے ہیں تو عوام کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھا کر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
عوام کی اکثریت جب شدید مالی دباؤ کا سامنا کررہی ہو تو ایسے ملک میں حکومتی ارکان، سرکاری افسروں ، ججوں اور فوجی عہدیداروں کو ملنے والی سہولتوں و مراعات کے بارے میں معلومات بھی عوام کے غم و غصہ میں شدید اضافہ کرتی ہیں۔ شہباز حکومت نے اگرچہ بارہا اعلان کیا کہ حکومتی عہدیدار مراعات نہیں لیں گے لیکن انہیں قابل اعتبار بنانے کے لئے کوئی ٹھوس اور عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ بجلی کے شعبہ سے وابستہ عملہ کے علاوہ متعدد محکموں اور شعبوں کے عہدیداروں کو بجلی کے مفت یونٹ فراہم کرنے یا رعائیتی نرخوں پر بجلی دینے کا طریقہ اب بھی موجود ہے۔ اگرچہ وزیر اطلاعات مرتضے سولنگی نے کہا کہ کہ بجلی کے شعبہ میں جن اہلکاروں کو مفت یا رعائیتی بجلی ملتی ہے، وہ سہولت اب ختم کردی جائے گی۔ لیکن اگر یہ تجویز نگران حکومت کے زیر غور ہے بھی تو اس پر عمل درآمد ہوتے نہ جانے کتنا وقت لگے گا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ بجلی کا بحران تو ایک دہائی سے بھی زیادہ مدت سے موجود ہے اور ملک میں بجلی کے شعبہ کا گردشی قرضہ بھی مسلسل بڑھتا رہا ہے تو کیا وجہ ہے کہ یہ اہم فیصلہ اس سے قبل نہیں کیا جاسکا؟
پھر سوال صرف بجلی کے محکمہ کے عملہ کو مفت یا کم قیمت بجلی دینے کا نہیں ہے بلکہ سرکاری ، عسکری و عدلیہ کی بیوروکریسی میں لاکھوں لوگوں کو ایسی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کا نہ ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی حساب پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عوام کے بلوں میں ٹی وی لائسنس سے لے کر متعدد دیگر محاصل شامل کردیے جاتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا دشوار ہوجاتا ہے کہ کوئی صارف صرف بجلی خریدنے کی قیمت ادا کررہا ہے۔ بجلی بلوں کی پیچیدگی کے سبب یہ تاثر بھی عام ہے کہ ان بلوں کے ذریعے حکومت عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد رہی ہے۔
پریشانی کے اس عالم میں یہ خبریں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہیں کہ ملک کی اشرافیہ مسلسل دولت مند ہورہی ہے اور سرکاری طور سے انہیں سالانہ 17 ارب ڈالر کے مساوی مراعات دی جاتی ہیں۔ اگرچہ ایسی خبروں کی کوئی باقاعدہ تفصیل تو فراہم نہیں کی جاتی لیکن حکومت کی طرف سے ایسی معلومات پر خاموشی کو عوام کو مسلسل جکڑنے کا رویہ سمجھا جاتا ہے جو عمومی ناراضی و مایوسی میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ پہلو افسوسناک ہے کہ نہ حکومت ملک کے طاقت ور اور مالدار طبقہ پر مزید ٹیکس لگانے اور معاشرتی مصارف میں زیادہ حصہ ادا کرنے پر مجبور کرسکی ہے اور نہ ہی نام نہاد اشرافیہ کو یہ احساس ہورہا ہے کہ ملک اب مالی تباہی کے کنارے تک جا پہنچا ہے۔ ایسے میں صرف عام شہریوں پر محاصل کا بوجھ لاد کر کام نہیں چلایا جاسکتا۔ اب طاقت ور اور سرمایہ دار طبقہ کو اپنی دولت و آمدنی کا کچھ حصہ ملکی مالی بحران کے لئے فراہم کرنا پڑے گا۔ اگر بہت جلد اس سلسلہ میں عملی اقدامات دیکھنے میں نہ آئے تو عوامی بیزاری میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ جسے اپنے غصہ کے اظہار کے لئے صرف کسی بہانے کی ضرورت ہوگی۔ جیسے اس وقت بجلی کے بل یہ عذر بنے ہوئے ہیں۔
ایسے میں حکومتی عہدیداروں، سرکاری افسروں، ججوں یا فوجی لیڈروں کی غیر معمولی سکیورٹی پر کثیر وسائل صرف کرنے کی صورت حال بھی عوام کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے لیکن اس کا کوئی عام سا عہدیدار بھی جب سفر کرتا ہے تو اس کے جلو میں سکیورٹی کے نام پر چار پانچ گاڑیاں ہوتی ہیں۔ عہدے میں اضافے کے مطابق ان گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ دنیا میں کہیں اس قسم کا سکیورٹی پروٹوکول دیکھنے میں نہیں آتا۔ اسی لئے سوشل میڈیا پر لوگ مختلف ممالک کے وزرائے اعظم کی سائیکل سواری یا ججوں کے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کی خبریں شئیر کرتے ہیں اور سوال کیا جاتا ہے کہ اگر فلاں ملک کا فلاں عہدیدار ایسے زندگی گزار سکتا ہے تو پاکستان میں وہی عہدیدار ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ اس سوال کا جواب حکومت کے علاوہ عوام سے ہمدردی کا دعویٰ کرنے والے ایسے سب عہدیداروں کو دینا چاہئے جو ایک طرف عوامی مفادات کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دوسری طرف اپنی ذات پر بے بہا سرکاری وسائل کا مصرف انہیں ہرگز ناگوار نہیں گزرتا۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔ عام شہری کی زندگی شدید مشکل کا شکار ہے۔ وہ اپنی بے چارگی و مجبوری کا ذمہ دار ہر اس شخص کو سمجھتا ہے جو سرکاری مصرف سے غیر ضروری مراعات حاصل کرتا ہے۔
ملک میں سیاسی گھٹن اور انتخابات کے حوالے سے بے یقینی نے بھی عوام کے غم و غصہ میں اضافہ کیا ہے۔ جمہوریت کا پہیہ گھومتا رہے تو عوام کو یہ امید بندھی رہتی ہے کہ کبھی نہ کبھی کوئی مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔ یا وہ اپنے علاقے کے نمائیندے تک اپنا دکھ درد و مسائل پہنچا کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ان کی شنوائی ہوجائے گی۔ سیاسی عمل جاری رہنے کا یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ عوام کا تمام غصہ سیاسی لیڈروں پر نکلتا ہے اور نظام پر بوجھ بنے ہوئے اصل عناصر براہ راست فوکس میں آنے سے بچے رہتے ہیں۔ انتخابات کے بارے میں بے یقینی پیدا کرکے ملکی عوام کو اس امید سے بھی محروم کیا جارہا ہے جو کسی بہتری کے لئے باندھی جاتی ہے۔