جالندھر سنگھ اور جرنیل سنگھ
- تحریر حماد غزنوی
- اتوار 27 / اگست / 2023
کنساس سٹی میں ایک سردار جی سے راہ چلتے ملاقات ہوئی تو از روئے خیر سگالی ہم نے انہیں ہاتھ جوڑ کر گڈ مارننگ کہا۔ انہوں نے جواباً باقاعدہ درست مخارج کے ساتھ ’اسلام علیکم‘ کہا، پنجابی میں گفتگو شروع ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ابّا جی لائل پور سے جالندھر گئے تھے۔ ہم نے بتایا کہ ہمارے بڑے امرتسر سے لاہور آئے تھے اور پھر گپ سازی کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا جس کا بیان پھر کبھی سہی۔ بس سردار جی کے نام کے حوالے سے ایک بات سن لیجیے۔ ان سے نام پوچھا تو کہنے لگے بڑا بھائی لائل پور کے ہرچرن پورہ میں پیدا ہوا تھا، ابّا جی نے اس کا نام ہرچرن سنگھ رکھ دیا ۔ اور میں جالندھر جا کر پیدا ہوا تھا تو میرا نام جالندھر سنگھ رکھ دیا۔ پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’سادہ لوگ، سادہ باتاں‘ ۔ سردار جی قدرے تفاخر سے بتانے لگے کہ میں زمانے کے ساتھ چلنے والا آدمی ہوں سو میں نے اپنا نام بدل لیا: ’ناؤ مائی نیم از جرنیل سنگھ۔‘۔ روایتی مشرقی مروت کے تقاضے کے تحت انہیں نئے اور ماڈرن نام کی خوب داد دی گئی۔ حال آں کہ دل میں نتھا سنگھ اور پریم سنگھ والی مثال گونج کر رہ گئی۔
سمندروں کی ایال تھامے خیال سوئے وطن رواں تھا، وطنِ عزیز میں بھی کچھ ایسی ہی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ جالندھر سنگھ کی حکومت ہٹا کر جرنیل سنگھ کی حکومت بنا دی جاتی ہے، اسے جوہری تبدیلی قرار دیا جاتا ہے۔ اور کارکنانِ تغیر فخر سے سینہ پھلا کر داد طلب نظروں سے چاروں طرف دیکھتے ہیں۔ پچھلے سال ایک جالندھری پٹھان کی حکومت ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ پہلے ان صاحب کا جو تعارف ہم سے کروایا گیا تھا وہ درست نہیں تھا، یعنی بندہ ایمان دار نہیں تھا، بندہ صادق نہیں تھا بلکہ پرلے درجے کا جھوٹا تھا۔ اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولتا تھا اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولتا تھا۔ بندہ امین بھی نہیں تھا اور سائفر نامی امانت میں تاریخی خیانت کا مرتکب ہوا تھا۔ بندہ محبَ وطن بھی نہیں تھا اور حکیم سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد سچے تھے۔ اور بندہ موحد تو قطعاً نہیں تھا کہ جنتر منتر کو اپنی خواب گاہ تک کھینچ لایا تھا۔ یعنی اپنے سے پہلے جیسوں ہی تھا، بلکہ ان سے بھی گیا گزرا۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن عمرانی بندوبست پر ہم جیسوں کا سب سے بڑا اعتراض ’سیم پیج‘ ہوا کرتا تھا جس میں انتہائی دیدہ دلیری سے ایک ہائی برڈ نامی نظام کو آئین پر بالا دست کر دیا گیا۔ اپنے سب سیاسی مخالفین کو موت کی چکیوں میں پیس دیا گیا۔ اور اس فاشزم کو دہائیوں تک قائم رکھنے کے لیے ایک ’نسخۂ حمیدیہ‘ ترتیب دیا گیا۔ آئین کو ایک ہفتے میں پانچ بار توڑ کر جب عمرانی حکومت رخصت ہوئی تو ہم سمجھے کہ ’کچھ کچھ سحر کے رنگ پر افشاں ہوئے تو ہیں‘ ۔ اب مُڑ کر دیکھتے ہیں تو جالندھر سنگھ۔ جرنیل سنگھ یاد آتے ہیں۔ ہماری ناقابلِ رشک پارلیمانی تاریخ میں مارشل لاز کے تمام غیرآئینی اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا رہا ہے، پی ڈی ایم حکومت اس سے بھی ایک ہاتھ نکل گئی۔ اس نے تو ملک میں نیم مارشل لا کو قانونی بنیادیں فراہم کر دیں۔ ایسی قانون سازی کرتے ہوئے تو جنرل ضیا الحق (جالندھری) کی مجلسِ شوریٰ بھی جھینپ جاتی۔ اور طرہ یہ کہ اگلے الیکشن میں یہ اصحاب آپ کو جلسے جلوسوں میں سولین بالا دستی کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئیں گے۔ ویسے اگلے انتخابات میں آپ کس کو ووٹ ڈالیں گے؟ جالندھر سنگھ کو یا جرنیل سنگھ کو؟
مسئلہ یہ ہے کہ جس منطقے میں بھی ’تبدیلی‘ آتی ہے، وہاں تبدیلی آتی نہیں ہے۔ مثلاً، ایک ہوتے تھے کیانی صاحب جنہوں نے توسیع لی تھی۔ چھ سال بعد رخصت ہوئے تو ہر دفعہ کی طرح اعلان ہوا کہ اب ایک انتہائی پروفیشنل بندہ آ گیا ہے۔ قوم نے شکر ادا کیا اور سیاسی و معاشی استحکام کی توقعات باندھ لیں۔ قوم کی توقعات کس طرح راکھ ہوئیں، یہ اب کوئی خفیہ کہانی نہیں ہے۔ راحیل شریف صاحب کو ایکسٹنشن نہ دینے والے کو سخت ترین سزا دی گئی، جو آج تک جاری ہے۔ ایک جمی جمائی حکومت الٹا دی گئی جس کے اثرات سے سیاست و معیشت آج تک نہیں سنبھل سکے۔ باجوہ صاحب آئے تو اعلان ہوا کہ انتہائی جمہوریت پسند صاحب ہیں۔ بعد ازاں باجوہ صاحب نے کیبنٹ کی میٹنگ میں بیٹھ کر اپنی ایکسٹینشن کا اپنے ہاتھوں سے پکّا انتظام کیا۔ (رہ رہ کر خیال آ رہا ہے کہ کاش ہم میں جرات ہوتی اور ہم کسی لگی لپٹی کے بغیر سردار جی کو بتا سکتے کہ جالندھر سنگھ اور جرنیل سنگھ از ون اینڈ دی سیم تھنگ۔ )
ہمارے نظامِ انصاف کو بھی کچھ ایسی ہی صورتِ احوال کا سامنا رہا ہے۔ ابھی ہم جسٹس منیر کا رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ جسٹس انوار الحق سے پالا پڑ جاتا ہے۔ ہم انہیں ابتذال کی انتہا قرار دیتے ہیں تو ارشاد حسن خان نمودار ہو جاتے ہیں۔ ہم ثاقب نثار کو تنزل کی آخری سیڑھی قرار دیتے ہیں تو آصف سعید کھوسہ صاحب جلوہ گر ہو جاتے ہیں۔ ویسے سنجیدگی سے بتائیے آپ کو جالندھر سنگھ اور جرنیل سنگھ میں سے کون سا نام زیادہ خوبصورت اور ماڈرن لگا؟
اور ایک ہمارے صدر صاحب ہیں جنہوں نے رخصت ہونے سے پہلے قوم پر ایک بڑا احسان کیا ہے، مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون سچ بول رہا ہے کون جھوٹ۔ مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ وہ دو مسودات قانون بن گئے کہ نہیں۔ بات یہ ہے کہ جس سیاسی نظام میں سب سے اوپر کی سطح پر یہ کھوکھلا پن ہو وہ کس قدر دیمک زدہ ہو چکا ہو گا۔ ایسی مضحکہ خیزی تو کسی سرکس کی انتظامیہ بھی برداشت نہ کرے۔ اور اب شنید یہ ہے کہ صادق سنجرانی صاحب عارف علوی صاحب کی جگہ لیں گے۔ جالندھر سنگھ زندہ باد، جرنیل سنگھ پائندہ باد۔ حفیظ جالندھری فرماتے ہیں ’ناکامیٔ عشق یا کامیابی۔ دونوں کا حاصل خانہ خرابی۔‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)