جڑانوالہ فسادات میں بھارتی سازش کی تلاش

حکومت  کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ بجلی کے بلوں کے معاملہ میں سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے یعنی کوئی ایسا طریقہ ہو کہ عوام کو جھانسا دیاجاسکے کہ سخت مالی مشکلات  اور محدود وسائل کے باوجود نگران حکومت لوگوں کو ’رعایت‘ دینے کی کوشش کررہی  لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ کئے گئے معاہدوں میں کوئی مشکل بھی پیش نہ آئے اور بجلی کے ٹیرف پر کوئی نئی سبسڈی نہ دی جائے۔

یہ منصوبہ نہ جانے کس حد تک مقبولیت حاصل کرسکے گا اور کیا ملکی بیوروکریسی میں بیٹھے بزرجمہر واقعی کوئی ایسا چھومنتر والا فارمولا تلاش کرلیں گے جس سے  فوری طور سے عوام کو مطمئن کیا جاسکے۔ شاید حکومت میں شامل ارکان اور سول بیورو کریسی کو  یہ یقین بھی ہو کہ پاکستانی عوام تو اتنے بھولے اور مجبور ہیں کہ وہ حکومت کے بیانات اور بجلی کی قیمتیں کم کرنے  کے لئے ’بھاگ  دوڑ‘ کی خبروں سے ہی خوش ہوجائیں گے کہ چلو حکومت کو اس مسئلہ کا احساس تو ہؤا۔  البتہ جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ مسئلہ اب اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے صرف بجلی کی قیمتوں کے تعین تک  محدود سمجھا جائے۔ عوام میں پایا جانے والا غم و غصہ درحقیقت ملک میں بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم  کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے۔  ہر معاشرے میں امیر و غریب کا فرق موجود ہوتا ہے لیکن پاکستان میں  یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ  ملک  میں مفاد یافتہ امیر طبقہ درحقیقت سرکاری وسائل کے ناجائز مصرف سے طاقت ور ہورہا ہے۔ اور اس کی قیمت بالواسطہ ٹیکسوں، بلوں اور اضافی قیمتوں کی  صورت میں عام لوگوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

 بدقسمتی سے نہ تو  سرکاری  طور سے اس تاثر کو مسترد کرنے کی کوشش کی جارہی  ہے اور نہ ہی  ملک میں ہونے والے عمومی مباحث میں اس فرق  کے بارے میں کوئی صحت مند اور سود مند بات چیت سننے یا دیکھنے میں آتی ہے۔ ظاہر ہے کہ معاشی بگاڑ  کی تصویر سادہ اور یک رخی نہیں ہوسکتی۔  اس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں  اور مسائل کی جڑیں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اختیار کئے گئے غلط اور عاقبت نااندیشانہ فیصلوں میں پیوست ہیں۔  اب حکومت کسی طرح کا کوئی ایسا ڈھونگ اختیار کرنے  کی تگ و دو کررہی ہے  جس  سے یہ تاثر ملے کہ حکمرانوں نے عوام کی تکلیف کا احساس کرلیا ہے اور اب انہیں سہولتیں دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔  اس سے بڑھ کر حکومت  یا نگران وزیر اعظم بھی کوئی  رائے دینے  کی ہمت نہیں رکھتے۔ حالانکہ عبوری مدت کے لئے اقتدار سنبھالنے والی نگران حکومت کے اختیارات اور مینڈیٹ محدود ہوتا ہے اور وہ عوام کو کسی معاملہ پر  جواب دہ بھی نہیں  ہوتی۔  تو  کیا وجہ ہے کہ نگران وزیر اعظم اجلاس طلب کرنے اور عوام کو بلوں پر رعایت دینے کی تجاویز تیار کرنے  کے احکامات جاری کرنے کی بجائے یہ نہیں کہہ سکے کہ ان کی حکومت ملک میں انتخابات کی نگرانی کے لئے آئی ہے۔ انتخابات کے بعد  عوام جس حکومت کو منتخب کرکے لائیں گے ، وہی اس حوالے سے کوئی ٹھوس اور  قابل عمل منصوبہ تیار کرسکے گی۔ عوام انتخابات کا انتظار کریں اور سیاسی پارٹیاں عوامی مسائل کے مطابق منشور پیش کریں۔

البتہ اس قسم کا ٹھوس اور حقائق پر مبنی بیان کوئی ایسی حکومت ہی جاری کرسکتی ہے جسے اپنے فرائض کے بارے میں مکمل آگاہی ہو اور جو  آئین میں طے شدہ مینڈیٹ سے بڑھ کر کوئی کام کرنے میں دلچسپی نہ رکھتی ہو۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو تو کسی انتخاب میں عوام کے سامنے پیش نہیں ہونا پھر وہ کیوں بجلی  کی قیمتوں کے سوال پر کسی سیاسی  حکمران کی طرح بھاگ دوڑ کررہے ہیں؟ اس کی سب سے بڑی وجہ انتخابات کے بارے میں غیر یقینی اور  غیر واضح صورت حال ہے۔ حکومت یا الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کے بارے میں کوئی  دوٹوک اعلان کرنے  میں ناکام ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس کے بارے  میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ  ’یہ بیکار مباش کچھ کیا کر،گریبان پھاڑا اور سیا کر‘ والا معاملہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر  صدر کی دعوت پر ان سے ملاقات کو تو غیر ضروری قرار دیتے ہیں کیوں کہ یہ  اب الیکشن کمیشن کا  اختیار ہے لیکن دوسری طرف ملک کی سیاسی جماعتوں سے ملاقاتوں میں یقین دہانی کروانے  کی کوشش کررہے ہیں کہ انتخابات ہو ہی جائیں گے۔ کچھ ایسی ہی ملاقات چیف الیکشن کمشنر  سکندر سلطان راجہ نے امریکی سفیر سے بھی کی ہے۔ حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس پر اسرار اور غیر ضروری ملاقات کے بارے میں چند سطروں پر مبنی پریس ریلیز جاری کرنے کی توفیق بھی نہیں ہوئی۔

انتخابات کے بارے میں  بے یقینی عوام  کے  احساس محرومی میں اضافہ کررہی ہے۔ اس کا ایک اظہار  بجلی کے بلوں میں اضافہ کے خلاف  احتجاج کی صورت میں دیکھنے میں آرہا ہے لیکن اگر اس احتجاج کو کسی طرح فرو کرنے کی کوششیں کامیاب ہوگئیں تو  معاشرے میں پائی جانے والی گہری مایوسی کسی دوسری صورت میں سامنے آسکتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے  کہ مسئلہ کی جڑ تک پہنچا جائے۔ عوام کو اپنے نمائیندے منتخب کرنے کا آئینی حق دیا جائے، غیر منتخب اداروں کی بالادستی کا تاثر ختم کرنے کے  لئے عملی اقدامات کئے جائیں اور  ملک میں طبقاتی تقسیم کی جعلی افزائش کے بارے میں سنجیدہ مکالمہ کا آغاز کیا جائے۔  ملک کے صحافی، تجزیہ نگار اور ٹاک شوز میں محفل گرمانے والے مبصر  کبھی یہ بتاتے ہیں کہ دیکھیں ایک شخص کی آمدنی  15 ہزار روپے ہے اور اسے 18 ہزار کا بل آگیا۔ یا کالم کو ان معلومات سے مزین کیا جاتا ہے کہ کیسے  بجلی کے شعبہ سے وابستہ اہلکار نے    معمولی رقم دے کر  سینکڑوں یونٹ بجلی استعمال کرلی۔ کوئی  نام نہاد سینئر صحافیوں اور اینکرز کی طرف سے ایسی معلومات  کی جانچ نہیں کرے گا لیکن  اس تاثر کو تقویت دینے کا مقصد ضرور حاصل ہوجائے گا کہ اس ملک میں آپ صرف اسی صورت باعزت طریقے سے زندگی گزار سکتے ہیں اگر   طاقت آپ کے ہاتھ میں ہو۔ یہی وجہ ہے  کہ لوگ جب احتجاج کے لئے نکلتے ہیں  تو وہ  ’ہجوم‘ کو طاقت ثابت کرنے کے لئے کبھی سرکاری املاک کو جلاتے ہیں یا  پھر کسی اقلیت کے گھر اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کرکے خود کو ’فیصلہ کرنے والا‘  ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بدقسمتی سے  ملک میں ایسا سماجی مزاج استوار کرلیا گیا ہے جس میں  چند نعروں کو  تمام مسائل کا حل قرار دیا جاتا ہے۔ یہ نعرے  مشتعل ہجوم بھی بلند کرتا ہے، سیاست دان بھی اسی سے کا م چلاتے ہیں اور صحافیوں کا آخری تیر بہدف نسخہ بھی جذبات سے مغلوب گفتگو یا رپورٹنگ ہی ہوتی ہے۔ ایسے میں  سب کی دکانداری تو چل جاتی ہے  لیکن عوام کے مسائل اور بظاہر  پر شور  ہنگامے و شور شرابے کے نیچے دہکتی ہوئی  آگ کا سراغ لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اسی لئے اس کی شدت  میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

نعرے کو  دلیل اور عذر کے طور پر پیش کرنے کی بدترین مثال  آج ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس   عثمان انور نے قائم کی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں جڑانوالہ  کی  عیسائی آبادی  پر حملے ، متعدد گرجا گھروں اور درجنوں گھروں کو نذر آتش کرنے اور لوٹنے کی ذمہ داری اب دشمن ملک کی ایجنسیوں پر عائد کی ہے۔  ان کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی ایجنسیاں قرآن سوزی اور توہین مذہب کے دیگر ہتھکنڈوں سے ملک میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑوانا چاہتی ہیں۔ اب پنجاب پولیس نے اس کا سراغ لگایا  ہے۔  لاہور میں کی گئی پریس کانفرنس کے دوران   آئی جی پنجاب  نے  دعویٰ کیا کہ  ’جڑانوالہ میں مسیحی عبادت گاہوں اور گھروں پر حملہ دشمن ایجنسی کی سازش تھی۔  ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ان واقعات کے تانے بانے کہیں اور جا کر ملیں گے۔ کسی اور کی وجہ سے یہ ہو رہا ہوگا۔ مسیحی بھائیوں کو یہاں پر مسلمانوں سے لڑانے کی سازش کی جائے گی اور یہ چیز ہمیں پتہ چلی ہے۔ مزید تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ ایک دشمن ایجنسی سے ان کے روابط ہیں‘۔ آئی جی پنجاب   نے  پولیس تحقیقات کے نتیجہ میں سامنے آنے والی اس انقلاب آفریں ’تفتیش‘ کے بارے میں تو کوئی تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی وہ شواہد سامنے لاسکے جن کی بنیاد پر پولیس کا اعلیٰ ترین افسر ہمسایہ  ملکی ایجنسی  پر فرقہ وارانہ فسادات  کروانے کا دعویٰ کررہا ہے لیکن انہوں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھا کہ ’ جو بھارتی ریاست منی پور میں ہوا ، اس سے بہت کم یہاں ہوا لیکن اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔  کوئی بھی مسلمان پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ اور قرآن کریم کی بے حرمتی برداشت نہیں کر سکتا۔  مگر میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ مدعی بنیں، ملزم نہیں‘۔

اس موقع پر کوئی آئی جی  عثمان انور کو  نہیں بتا سکا کہ وہ  پاکستانی پنجاب کے آئی جی پولیس  ہیں ، بھارتی ریاست منی پور کی پولیس کے سربراہ نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کام قانون کے مطابق شواہد تلاش کرنا اور قصور واروں کو سزا دلوانا ہے۔ کسی دوسرے ملک یا علاقے میں ہونے والے جرائم سے اپنی ناقص کارکردگی کا موازنہ کرنا ان کے عہدے کے شایان شان نہیں ہے۔  نہ ہی انہیں یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قانون کی عملداری کی بجائے اسلامی احکامات کا حوالہ دے کر مسائل کی نشاندہی  کریں۔ ملک میں یہ کام کرنے کے لئے لاکھوں مساجد اور  اور وہاں فرائض انجام دینے والے مذہبی لیڈر موجود ہیں۔

دیکھا  جاسکتا ہے کہ کس طرح انسپکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ایک ذمہ دار شخص اپنی کوتاہی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک مقبول سیاسی نعرے کو استعمال کرکے واہ واہ کروانا چاہتا ہے۔ یہ وہی کام ہے جو اس وقت حکومت اور میڈیا ملک میں بجلی کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کے حوالے سے اختیار   کئے ہوئے ہیں۔  جب تک  مسائل کی بنیاد کو سمجھنے اور ان پر حقیقت پسندانہ ردعمل دینے کا  طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، حکومت ، ادارے، عہدیدار اور میڈیا عوام میں اپنا اعتبار کھوتے رہیں گے۔ یہ صورت حال کسی طوفان کو ٹالنے کی بجائے ، اسے دعوت دینے کے مترادف ہے۔