میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں!

کیا زمانہ تھا کہ چینی کی قیمت میں چار آنے کا اضافہ ہونے پر آمرانہ دور میں بھی عوام کا شدید رد عمل دیکھ کر حکمرانوں کے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگتی تھی اور انہیں مسند اقتدار سے اترنے میں ہی عافیت نظر آتی۔

مگر گزشتہ چھ دہائیوں میں کیا کچھ نہیں بدلا۔ ایوبی آمریت یحی خانی آمریت میں بدلی، ون یونٹ ٹوٹا دو صوبے پانچ میں بدلے، جمہوریت کی گھنٹی بجتے ہی مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں بدلا۔ بھٹو کو نیا پاکستان ملا( جسے نئے سے نیا بنانے کا سلسلہ ایسا جاری ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا)۔ 1973 کا متفقہ دستور بنا، نافذ ہوتے ہی جمہوری دور میں ملک بھر میں فوری ایمرجنسی لگا کے بنیادی حقوق معطل کئے گئے جو طویل آمرانہ دور میں عوام کے منتخب نہیں، آمر کے چنیدہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی حکومت نے بحال کئے۔ اسی نیم جاں جمہوریت کے تسلسل میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں ایسے کاروباری لوگ سیاست میں آئے جنہوں نے سیاست کو بھی ایسا منافع بخش کاروبار بنا دیا۔ جس نے سیاسی جماعتوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کا روپ دے دیا اور ان کمپنیوں کی نام نہاد جمہوری حکومتوں نے ہمیں ''کمپنی کی حکومت'' کے دور کو سنہری زمانہ کہنے پر مجبور کردیا۔

اور یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے کہ شہد چاٹتی زبانوں سے بھی جمہوریت کے ترانے گائیں تب بھی تلخابہ شیریں کا گمان نہیں ہوپاتا۔ غیر جماعتی انتخابات کی کوکھ سے جنم لیتے سیاست دانوں نے عوام کو ایسے داؤ پیچ مارے کہ انہیں عملی سیاست کے رنگ سے ہی نکال باہر پھینکا۔ ان کا کردار محض تماشائی کا بن کر رہ گیا ہے کہ انتخابات کا کھیل اب عام آدمی کے تو کیا اچھے خاصے کھاتے پیتے متمول و خوشحال لوگوں کی دسترس سے بھی باہر ہوگیا ہے۔ لکھ پتی و کروڑ پتی لوگ بھی اب ارب پتی و کھرب پتی لوگوں کے صرف ''کمی کمین'' بن کے رہ گئے ہیں۔

ریاستی امور سے عوام کی بے دخلی کے رد عمل میں لوگ ملکی معاملات سے ہی لاتعلق ہوگئے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کردیے گئے ہیں۔ اسی طرز عمل کا شاخسانہ ہے کہ آج پاکستان میں صرف دو ہی طبقے رہ گئے ہیں ، ایک حاکم دوسرا محکوم۔ پہلا ظالم دوسرا مظلوم۔ ظلم نئے سے نئے روپ دھار کر سامنے آتا ہے مگر مظلوموں میں تو قسمت یا تقدیر بدلنے کی ہمت کیا احتجاجی لہجہ بدلنے کی سکت بھی نہیں رہی۔

سانس لیتے انسانی ڈھانچے تلملاتے ہوئے بلبلاتے ہیں تو ظالموں کے کانوں میں جیسے شہد نچڑتا ہے ۔ اذیت پسندوں کو ان کلبلاتے لوگوں کی آہ و بکا سے تسکین ملتی ہے تو وہ ان پر ایک سے ایک نیا عذاب مسلط کر دیتے ہیں۔ اندھیروں سے بچ نکلنے کی کوشش کرنے والوں کے لئے روشنی کی کرنیں کوڑے بنا دی جاتی ہیں۔ تازہ ہوا میں سانس لینے کے آرزومندوں پر مٹی کے جھکڑ اور تند و تیز آندھیاں چھوڑ دی جاتی ہیں۔ تشنہ لبوں کو سراب زارروں سے سمندروں کی اور لپکتے دیکھ کر طوفانوں کو سونامی کی شکل میں سد راہ بنا دیا جاتا ہے ۔ جانوروں سے بد تر زیست کرنے پر مجبور یہ آدم زاد سانس لیتے وہ جاندار ہیں جو رات دن مشقت کا جوکھم اٹھا کر جو کما پاتے ہیں وہ عالمی استعمار کے ایجنٹوں کے کارندے مختلف یوٹیلٹی بلوں کے بھتے کی صورت اینٹھ لے جاتے ہیں۔ ہائے کیا دل جلا شاعر تنویر سپرا یاد آیا ہے:

 دن بھر تو بچوں کی خاطر میں مزدوری کرتا ہوں

شب کو اپنی غیر مکمل غزلیں پوری کرتا ہوں

میری گمنامی کا مُوجب ان لوگوں کی شہرت ہے

اپنے تن، من، دھن سے جن کی میں مشہوری کرتا ہوں

آج بھی سپرا اس کی خوشبو مل مالک لے جاتا ہے

میں لوہے کی ناف سے پیدا جو کستوری کرتا ہوں

اور شاید یہی موقع ہے کہ مصطفی زیدی کو بھی یاد کر لیا جائے:

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے