عمران خان کی مسلسل گرفتاری انتخابی شفافیت کو مشکوک کرے گی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی ڈویژن بنچ نے  تحریک انصاف کے چئیرمین کو توشہ خانہ کیس میں ملنے والی سزا معطل کردی ہے تاہم    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم ہونے والی ایک خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں  عمران خان کو بدستور اٹک جیل میں قید رکھنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں بدھ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ واضح رہے کہ  حال  ہی میں نافذ ہونے والے اس ترمیمی ایکٹ کے تحت  عمران خان کو  سائفر گم کرنے اور اس  کے مندرجات عام کرنے کے  مقدمہ میں  نامزد کیا گیا تھا۔ شاہ محمود قریشی اسی مقدمہ میں ایف آئی کی تحویل میں ہیں۔

عمران خان کو سزا سے ریلیف دینے والے دو رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس عامر فاروق کررہے تھے جبکہ  جسٹس  طارق محمود جہانگیری بھی بنچ کا حصہ تھے۔ بنچ نے آج صبح مختصر حکم میں توشہ  خانہ  کیس میں عمران خان کو  تین سال قید کی سزا معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لئے  عدالت نے  عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ  کی اس دلیل کو تسلیم کیا ہے کہ تین سال قید ’مختصر سزا‘ سمجھی جائے گی جسے معطل کرنے کی درخواست منظور کی جاسکتی ہے۔  تاہم عدالت کی طرف سے اس حکم کا تفصیلی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔    تب ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ  عدالت نے اس مقدمہ میں عمران خان کی نااہلی کے معاملہ پر بھی کوئی رائے دی ہے یا صرف سزا کو معطل کرکے واضح کیا ہے کہ  جرم کی نوعیت، دائرہ اختیار اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ  اس سزا کے خلاف اپیل کی سماعت  کے دوران  کیا جاسکے گا۔

تحریک انصاف کی طرف سے ہائی کورٹ کے اس حکم کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے عمران خان کی  بے گناہی کا اعلان نامہ کہا جارہا  ہے۔ پارٹی کے لیڈروں اور وکلا کا دعویٰ ہے کہ اس حکم کے بعد کسی دوسرے مقدمہ میں عمران خان کی گرفتاری عدل کا خون کرنے کے مترادف ہوگا۔  واضح رہے کہ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے 5 اگست کو توشہ خانہ سے وصول کئے گئے تحائف سے حاصل ہونے والی  آمدنی  اپنے گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فعل سے تحریک انصاف کے لیڈر ’بے ایمان اور جھوٹے ‘ ثابت ہوئے ہیں۔ اس الزام میں انہیں تین سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ سال کے لئے نااہلی کی سزا دی گئی تھی۔ عمران خان کے وکلا نے اس سزا کو معطل کرنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاکہ انہیں فوری طور سے جیل سے رہا کروایا جاسکے ۔ اس  مقدمہ میں اسی لئے جرم کی نوعیت یا زیریں عدالت کے حکم کے میرٹ پر فیصلہ نہیں ہونا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین قانون واضح کررہے ہیں کہ عدالت نے سزا معطل کی ہے، عمران خان کو الزامات سے بری نہیں کیا۔  عمران خان اب  ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔ اسی موقع پر مقدمہ کے میرٹ اور جواز کا فیصلہ بھی ہوگا۔ اس اپیل کی سماعت کے دوران ہی یہ معاملہ  بھی زیر بحث آئے گا کہ زیریں عدالت نے عمران خان کو گوا ہ  پیش  کرنے کی  اجازت نہ دے کر کس حد تک بنیادی اصول قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ یا عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو پیش نظر رکھا تھا کہ مقدمہ کی سماعت سے   پہلے عدالت کے دائرہ اختیار کا معاملہ طے کیا جائے۔  اس حوالے سے ایڈیشنل سیشن کورٹ کو یوں بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ  عمران خان کو سزا دینے کا حکم انتہائی عجلت  میں جاری کیا گیا اور عمران خان کے وکلا کو دلائل مکمل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اسی لئے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کوئی عدالت کیوں کر کسی ملزم کا حق دفاع ختم کرسکتی ہے۔ اپیل کی سماعت کے دوران ان تمام اہم نکات پر بحث متوقع ہے۔

تحریک انصاف توشہ خانہ کیس میں سزا کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھی لے گئی تھی جہاں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سہ رکنی بنچ  نے دو روز تک اس معاملہ پر سماعت کی اور بالآخر یہ طے کیا  گیا کہ  سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار کرنے کے بعد اس معاملہ کو سنے گی۔ اس دوران چیف جسٹس بندیال  نے یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کو ہائی کورٹ سے ہی ریلیف مل جائے۔ البتہ چیف جسٹس کے  ان  ریمارکس نے بہت شہرت حاصل کی کہ   ’بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلہ میں متعدد غلطیاں ہیں‘۔  پاکستان بار کونسل نے ان ریمارکس  پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس طرح کے ریمارکس  ماتحت عدالتوں  کی رہنمائی کرنے کے مترادف ہیں۔  جب ملک کا چیف جسٹس ایک معاملہ میں کوئی دو ٹوک رائے دے رہا ہو تو کوئی بھی ماتحت عدالت اس کے برعکس کیوں کر کوئی فیصلہ صادر کرسکتی ہے؟ سپریم کورٹ  کے بنچ میں شامل  جسٹس جمال خان مندوخیل نے یہ کہہ کر اس  الزام کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی تھی کہ ’ہمارے لئے سب عدالتیں  قابل احترام ہیں۔ کوئی کسی سے بڑا چھوٹا نہیں ہے‘۔ اس کے باوجود   ایک  ایسے موقع  پر چیف جسٹس کی طرف سے  توشہ خانہ کیس میں نقائص کی طرف اشارہ جبکہ یہ مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا، ملکی نظام انصاف کے لئے  چیلنج کے طور پر موجود ہے۔

مسلم لیگ  (ن) کے صدر شہباز شریف نے  آج  اسلام آباد ہائی  کورٹ کا حکم سامنے آنے کے بعد  تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان کے بارے میں  چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نرم گوشہ کا حوالہ دینا ضروری سمجھا۔  ایک بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس کا پیغام جس میں انہوں نے عمران خان کے بارے میں کہا تھا کہ ’آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی  یا نیک خواہشات کا اظہار‘ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ سب کو پتہ تھا کہ اس مقدمہ کا کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ ملک کے نظام انصاف کے لئے لمحہ فکریہ ہے‘۔   سابق وزیر اعظم ،  اس بیان میں  چیف جسٹس کے اسی ریمارکس کا حوالہ دے رہے ہیں جس پر پاکستان بار کونسل نے بھی احتجاج  کیاتھا لیکن  چیف جسٹس نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی تھی۔

 تاہم نظام انصاف پر اثر انداز ہونے کی کوشش یا خواہش یک طرفہ نہیں ہے۔  مسلم لیگ (ن)  کے لیڈر ایک طرف چیف جسٹس کو عمران خان کے معاملہ میں جانبدار قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف ملکی نظام انصاف کے بارے میں دو ٹوک بیانات دے کر خود ہی اس کی غیر جانبداری اور شفافیت کو  مشکوک بناتے ہیں۔ مثلاً آج  اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیر  داخلہ رانا ثنا اللہ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’  سزا معطل ہونے کے باوجود عمران خان جیل سے رہا نہیں ہوسکتے۔  ان کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ انہیں دوسرے مقدمات میں جوابدہ ہونا پڑے گا‘۔اس بیان کے بعد جب عمران خان کو ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود  سائفر  کیس میں یا کسی دوسرے مقدمہ میں مسلسل گرفتار رکھنے کا اقدام ہوگا تو عوام میں  ملکی عدالتی نظام کے بارے میں کوئی اچھا تاثر  پیدا نہیں ہوگا۔

عمران خان جس دوران میں توشہ خانہ کیس  میں سزا کی وجہ سے اٹک جیل میں اسیر تھے، اسی دوران میں متعدد مقدمات  میں   عدالتوں نے  ’عدم حاضری‘ کی بنا پر ان کی ضمانتیں منسوخ کردیں۔ یعنی  تھیوری کی حد تک عمران خان کو ایسے تمام مقدمات میں گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔  نظام انصاف کا یہ پہلو بھی افسوسناک ہے کہ ضمانتیں منسوخ  کرنے والے جج یہ جانتے ہوئے بھی ’عدم حاضری‘ کو عذر بنا رہے تھے کہ متعلقہ شخص  مقید  ہے اور خواہش کے باوجود اس وقت تک  کسی عدالت میں پیش ہونے کے قابل نہیں ہے جب تک کوئی عدالت جیل حکام اور پولیس کو اسے پیش کرنے کا حکم جاری نہ کرے۔ ایسے فیصلے اور احکامات نظام انصاف کی کمزوریوں کو ہی واضح نہیں کرتے بلکہ اس طرح کے  طریقوں سے شہریوں کو آئین میں فراہم کئے گئے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے۔  کوئی عدالت حکم صادر کرتے ہوئے  پروسیجر  کے چو خانہ کے مطابق فیصلہ کرتی ہے اور آئینی تقاضوں، بنیادی حقوق یا منطقی دلیل جیسے کسی عذر کو قبول نہیں کیا جاتا۔ یہ معاملہ صرف عمران خان کے ساتھ ہی پیش نہیں آیا لیکن ان کے معاملہ میں اس طریقہ کے اطلاق نے نظام انصاف کی ایک سنگین کمزوری کو واضح ضرور کیا ہے۔

آج توشہ خانہ کسی میں سزا کی معطلی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی  گئی ہے کہ عمران خان کو کسی بھی دوسرے مقدمہ میں گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ عمران خان کی لیگل ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ حکام کو کسی بھی مقدمہ میں عمران خان کو ’غیر قانونی اور ناجائز طور سے‘ گرفتار کرنے سے منع کیا  جائے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائفر کیس بوگس ہے اور ’بدنیتی‘ کی بنیاد پر عمران خان کو  اس میں نامزد کیا گیا ہے۔   اس کے قانونی پہلوؤں سے قطع نظر  عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے باوجود   ایک ایسے وقت میں زیر حراست رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جس وقت ملک   میں نگران حکومت  برسر اقتدار ہے۔ نگران حکومت کے بارے میں یہ تاثر عام نہیں ہونا چاہئے کہ وہ کسی سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر سیاسی لیڈروں کو ہراساں کرنے کا سبب بنی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے  آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ  ایکٹ میں ترامیمی بلوں کے حوالے سے  صدر عارف علوی کے بیان سے ان بلوں کی قانونی حیثیت مشکوک ہوچکی ہے۔ نگران حکومت نے اس میں فریق بن کر پہلے ہی اپنی پوزیشن کو مشکوک بنالیا ہے۔ اس کے بعد انہی  متنازعہ ترامیم کے تناظر میں خصوصی عدالت بھی قائم کردی گئی۔ اسی ترمیمی ایکٹ کے تحت   شاہ محمود قریشی  کا ریمانڈ دیا گیا تھا  اور اب  اغلباً خصوصی عدالت بدھ کے روز عمران خان کو بھی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردے گی۔

نگران حکومت کو اس معاملہ میں متوازن اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ سائفر کے معاملہ میں پہلے عمران خان نے سیاست کی ، اس کے بعد شہباز حکومت نے اسے سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا اور اب نگران حکومت اس  معاملہ کو عمران خان کو  بدستور سیاست سے باہر رکھنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ حالانکہ اگر سائفر  کے حوالے سے کوئی قانون شکنی ہوئی بھی  ہے تو بھی ملک میں باقاعدہ منتخب حکومت کے قیام کا انتظار ضروری ہے تاکہ  یہ تاثر قوی نہ ہو کہ ملک کے نظام  انصاف کو  انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لئے عمران خان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ شفاف انتخابات کے لئے عمران خان کو بھرپور طور سے   انتخابات میں  حصہ لینے اور انتخابی مہم چلانے کا موقع ملنا چاہئے۔ اس کے برعکس کوئی بھی اقدام جمہوری تقاضوں سے متصادم ہوگا۔