عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع

  • بدھ 30 / اگست / 2023

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سفارتی سائفر سے متعلق آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت درج مقدمے میں سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کردی ہے۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے خصوصی عدالت کی جانب سے ریمانڈ میں توسیع کے فیصلے کی تصدیق کی۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جب کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اسلام آباد میں قائم خصوصی سائفر کیس میں بدستور حراست کا حکم جاری کیا تھا۔

سائفر کیس سفارتی دستاویز سے متعلق ہے جو مبینہ طور پر عمران خان کے قبضے سے غائب ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس سائفر میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے امریکا کی جانب سے دھمکی دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اسی کیس میں جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں ہیں جب کہ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما اسد عمر ضمانت پر ہیں۔

آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے عمران خان کے خلاف کیس کی اٹک جیل میں ساعت کی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وزارت قانون نے سماعت آج اٹک جیل میں کرنے کی اجازت دی تھی۔ ایف آئی اے حکام اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی موجودگی میں سابق وزیر اعظم کو جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالتی عملے نے عمران خان کی حاضری لگائی۔

ان کیمرہ سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ  میں14 روز کی توسیع کردی۔ سماعت کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کے رکن سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سابق وزیراعظم کے خلاف کارروائی قابل مذمت ہے۔ یہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ یہ ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس کیس میں 15 روز قبل گرفتار کیا گیا۔ ان کو جوڈیشل ریمانڈ پر دے دیا گیا، ان کے وکلا اور ملزم کو بھی اس کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل کبھی اتنی خفیہ کارروائی نہیں چلائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عمران خان کی ضمانت کی درخواست فائل کردی ہے جس کی سماعت 2 ستمبر بروز ہفتہ ہوگی۔ ہماری تین درخواستوں پر آج ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔ درخواست ضمانت کے علاوہ ہم نے جیل ٹرائل کو چیلنج کیا ہے۔ ان پروسیڈنگز کو اوپن کرنے پر بھی ایف آئی اے کو نوٹس ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پر سائفر کیس میں دو الزامات ہیں۔ ایک انہوں نے اسے چھپا کر رکھا ہے، دوسرا یہ کہ انہوں نے اس کا غلط استعمال کیا۔ میں عمران خان کا مؤقف سامنے رکھنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ سابق وزیر داخلہ کا بیان موجود ہے کہ اصل سائفر ہمارے پاس موجود ہے۔ ایف آئی اے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے، اس بیان کے بعد مقدمہ کس بات کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سائفر کی 4 کاپیاں بنیں۔ ایک کاپی عمران خان کے پاس آئی جس میں قابل اعتراض مواد موجود تھا۔ اس میں پاکستان کے اندرونی  سیاسی معاملات میں مداخلت تھی۔ اس سائفر کو پوری کابینہ کے سامنے رکھا گیا۔ اس پر بحث کی گئی، اس وقت کی حکومت نے اس کو ڈی کلاسیفائڈ کردیا۔ اس اجلاس کے منٹس موجود ہیں۔ جس دن یہ ڈی کلاسیفائڈ ہوگیا، اس دن سے وہ آفیشل سیکرٹ نہ رہا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ جب وہ سیکرٹ نہیں رہا تو یہ مقدمہ اور گرفتاری کیوں ہے۔ اس پر کوئی پراسیکیوشن نہیں کی جاسکتی۔ اس کو ڈی کلاسیفائڈ کیے جانے کے بعد اس کو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے بھی رکھا گیا۔ اس پر سیکریٹری دفتر خارجہ نے ڈیمارش کیا جو کہ ایک باقاعدہ احتجاج ہوتا ہے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب اسے کابینہ نے ڈی کلاسیفائڈ کردیا، سلامتی کمیٹی نے اس پر ڈیمارش کیا تو اس کے بعد یہ ساری پراسیکیوشن زمین بوس ہوگئی۔ اس پر ہم تمام قانونی حل استعمال کریں گے۔

عمران خان کی قانونی ٹیم میں شامل وکیل نعیم پنچوتھا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ عمران خان خان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کردی ہے۔ وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن کو منسوخ کرنے، اوپن ٹرائل کرنے کی درخواستیں بھی دائر کر دی گئی ہیں۔