سپہ سالار کی خدمت میں
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 30 / اگست / 2023
جناب والا گزارش ہے کہ اس وقت میرا اور آپ کا وطن کھلے آسمان تلے کئی بیماریوں میں مبتلا بے یار و مددگار کراہ رہا ہے۔یقیناً یہ آوازیں آپ تک بھی پہنچ رہی ہوں گی۔جناب والا بلاشبہ پاکستان کے آئین کے مطابق یہ ذمہ داری آپ کی نہیں ہے کہ ملک کی تمام بیماریوں کا علاج کریں۔
آپ کا اصل کام سرحدوں کی حفاظت ہے لیکن پہلے دن سے آپ کے ادارے کے سربراہان صاحبان نے اس ملک کی ہر طرح کی خدمت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔شاید اسی بے تحاشہ کام کے دباؤ کی وجہ سے 71 کی جنگ بھی یکسو ہو کر نہ لڑ سکے اور کامیاب نہ ہوئے یعنی اپنا اصل کام سرحدوں کی حفاظت کرنے سے قاصر رہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی باقی ماندہ پاکستان کے عوام آپ سے ٹوٹ کر محبت کرتے رہےکیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ملک پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا آپ نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر ہر کام اپنے ذمے لیا۔سیلاب آئے یا زلزلہ کوئی پانی میں ڈوب رہا ہو یا چھت کے نیچے پھنسا ہو یا پھر چئیر لفٹ میں بیٹھا پندرہ ہزار کی بلندی پر موت کے منہ میں ہو ہم آپ ہی کی طرف دیکھتے ہیں ۔
اسی طرح اس ملک کو لوٹنے والے بدعنوان سیاستدانوں سے بھی ہماری جان آپ ہی چھڑاتے ہیں۔ لیکن یہاں آپ سے ایک غلطی ہو جاتی ہے،وہ یہ کہ آپ کرپٹ سیاستدان کی مخالفت میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ اس کے بعد چاہے اس سے بھی کرپٹ بندے کو اقتدار دینا پڑے دریغ نہیں کرتے اور پھر جب نیا بندہ پہلے والوں کے ریکارڈ توڑ دیتا ہے پھر اس کو نکالنے کے لیے آپ کو پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اوپر سے یہ سیاستدان اس قدر چالاک، ہوشیار اور خود غرض ہوتے ہیں کہ یہ بیچوں بیچ عوام سے براہ راست تعلق استوار کر کے عوام میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آپ کے احسانات کو فراموش کر کے منہ زور ہونے کی کوشش کرتے ہیں، پھر آپ کو ان کی لگام کھینچ کر چابک (چھڑی) پکڑنا پڑتی ہے
بات لمبی ہو گئی ہے میرا مطلب یہ تھا کہ گو کہ آئینی طور پر آپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ ڈوبتی معیشت کو بچائیں، ملک میں گڈگورنس کا بندوبست کریں، انتخابات کروائیں اور انتخابات میں صادق و امین قیادت اور امیدوار ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائیں۔ لیکن آپ نے تمام ذمہ داریاں اٹھا اٹھا کر اس قوم کو اس قدر سہل پسند کر دیا ہے کہ یہ اپاہج ہو کر صرف آپ ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔ سب آپ ہی سے ڈرتے ہیں اور آپ ہی کی بات مانتے ہیں۔ اس لیے ہم کمزور عوام بھی صرف آپ کی طرف دیکھتے اور آپ ہی سے امید رکھتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ سپہ سالار پاکستان کے ساتھ ساتھ ایک حافظ قرآن بھی ہیں۔ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جو پاکستان کو دینی اور دنیاوی طور پر مضبوط کر سکتے ہیں۔ تو جناب والا پھر کچھ سوچیئے نا!
کہیں دیر نہ ہو جائے اور عوام آپ سے بھی مایوس نہ ہو جائیں۔ اس وقت وطن عزیز میں شرپسندوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو عوام کو آپ کے خلاف گمراہ کر رہے ہیں۔ اوپر سے ہمارا دشمن ملک چاند تک پہنچنے کی شیخیاں بگھار کر ہمارے عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہا ہے کہ آپ اپنے سپہ سالار کی مرضی کے بغیر اسلام آباد بھی نہیں پہنچ سکتے جبکہ ہمارے عام سے لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں۔ اس ساری صورتحال کا تقاضہ ہے کہ اب آپ کچھ سوچیں اور فوری طور پر اپنے وطن کو مشکلات سے نکالنے کے لیے قدم اٹھائیں۔
حضور والا جب تک ہماری قوم یک جان ہو کر آپ کا ساتھ نہیں دے گی اس وقت تک آپ پاکستان کو مشکلات سے نکال نہیں سکیں گے۔ اس وقت وطن عزیز میں ایک ہیجان کی صورتحال ہے۔ہر بندہ بے یقینی کا شکار ہے،عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور مستقبل کی فکر نے جکڑ رکھا ہے اور ریاست پر اعتماد انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔عوام کی ایک بڑی تعداد آپ (آپ سے مراد آپ کے پیش رو پاک فوج کے سربراہ، جنرلز اور ایجنسیوں کے سربراہ ہیں) کو بھی ان حالات کاذمہ دار سمجھتی ہے۔عوام اور فوج کا ایک دوسرے پر اعتماد ہی وطن کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ یہ خاکسار نہیں جانتا کہ عمران خان کتنا برا ہے یا اس نے ملک کو کتنا نقصان یا فائدہ پہنچایا ہے۔ آپ کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے پاس رکھا یا مکر گیا ہے یا آپ کے خلاف کیا کیا سازشیں کرتا رہا ہے۔ لیکن مجھے یہ اندازہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد میں پاکستان کے عوام عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔
آپ کے سپاہی ہمارے بیٹے ہیں۔ آپ کو پاکستان کی اور پاکستان کو آپ کی ضرورت ہے۔لہذا آپ سے گزارش ہے کہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ملک کے تمام سیاستدانوں کو سمجھائیں کہ یہ یکجہتی کا وقت ہے، سب مل کر گفتگو کریں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے اور جو بھی حکومت بنے اس کے ساتھ سب مل کر تعاون کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)