قمریان کا ہلالی مشن کب؟

چاند سے ہماری گہری ابدی وابستگی ہے ہماری رویت ہلال کمیٹی کے بزرگ خواہ ان کی بینائی کتنی کمزور ہی ہو، ہرعید اور خوشی غمی کا تہوار منانے کے لیے دور بینیں لگائے چندا ماموں کو ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں۔

ہم نے کسی سے محبت و اپنائیت دکھانی ہو تو اُسے چاندیا چندا کہہ کر بلاتے ہیں یا یہ گنگناتے ہیں کہ میں ترا چاند تو میری چاندنی۔ چندریان کے چاند پر اترتے ہی اس دھرتی ماتا سے چندا ماموں کے جتنے گیت ہیں وہ سب ذہنی کینوس پر نمودار ہوکر خیالوں میں گونجنے لگے ہیں۔ چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو، جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو۔ چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو، ہم ہیں تیار چلو آؤ کھو جائیں ستاروں میں، کہیں چھوڑ دیں یہ دنیا یہ زمیں ویراں ہیں، میری نیندیں تاروں سے لے لے گواہی، میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی۔ مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا او رات کے مسافر چندا ذرا بتادے چاند تنہا ہے، آسماں تنہا دل ملا کہاں کہاں تنہا چھوڑ جائیں گے، یہ جہاں تنہا چندا ہے تو، میرا سورج ہے تو، میری آنکھوں کا تارا ہے تو، چاندنی رات ہے تو میرے ساتھ ہے، کچھ ہوا سرد ہے دل میں بھی درد ہے۔

رفیع صاحب نے کیا خوب گیت گایا ہے تجھے میں چاند کہتا تھا مگر اس میں بھی داغ ہے۔ آج وہ زندہ ہوتے تو ان سے یہ کہتا کہ ہمارے چندریان نے تو ان داغوں کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ بات داغ دھبوں سے کہیں آگے بڑے بڑے گڑھوں تک چلی گئی ہے۔ سچ ہی کہتے ہیں کہ دور کے ڈھول سہانے، ہماری پوری ہندی اردو شاعری چاند کی خوبصورتی سے بھری پڑی ہے لیکن چندریان نے ہمیں اس کی حقیقی تصاویر دکھا کر اصلیت واضح کردی ہے۔ ویسے ناسا یہ سب بہت پہلے دکھا چکی ہے۔

یہ درویش جب چھوٹا سا بچہ تھا تو اسے سکول کی پہلی دوسری کلاس میں چاند تارے کی کہانی پڑھائی گئی کہ وہ کس طرح ہمارے پرچم کا حصہ بنے۔ معصوم ذہن اس سے کیا اخذ کرسکتا تھا سوائے اس کے کہ چاند تارے سارے ہمارے ہیں کسی اور کا ان پر حق نہیں ہے۔ آج جب سوشل میڈیا پر اس نوع کی پوسٹیں ملاحظہ کیں کہ چاند بنے گا پاکستان، نکل جا انڈیا چاند سے نکل جا جو ظاہر ہے ہماری بے معنی کشمیر پالیسی پر چوٹ کرتے ہوئے بنائی گئی ہیں تو اس سے مزید کئی سوالات ذہن میں ابھرے۔ ہم پاکستانیوں میں ایک بہت بری چیز ہے کہ کوئی بھی ایشو ہو ہم مقابلے کی فضا تیار کرتے ہوئے حسد کا شکارہو جاتے ہیں۔ خود تو نہ ذہن کا استعمال کرتے ہیں اور نہ جسمانی مشقت اٹھانا چاہتے ہیں لیکن تمنا یہ ہوتی ہے کہ کوئی کون ہو جو ہم سے آگے نکلے۔ پارٹیشن سے قبل کے حالات جو پیہم اس درویش نے پڑھ رکھے ہیں تب بھی یہی صورتحال تھی۔ ہمارے ہندو بھائی جھوٹی تعلیاں بگھارنے کی بجائے اپنے کام پر توجہ دیتے ہوئے سخت محنت کرتے، یوں زندگی کی دوڑ میں وہ ہمیشہ آگے بڑھتے۔ کامیابیاں ہمیشہ محنت کرنے والوں کے ہی قدم چومتی ہیں۔ سو وہ مالی و سماجی طور پر کھوکھلے بھاشن بگھارنے والے مسلم ہمسایوں سے زیادہ بہتر اور آسودہ خاطر ہوجاتے۔ بالخصوص کاروباری طور پر ہندوؤں کی صورتحال اس لگن کی بدولت کہیں آگے تھی جس کی جلن اور حسد ہمارے تعلی باز اپنے سینوں میں محسوس کرنے لگے۔

یوں ٹونیشن تھیوری کی سوچ رکھنے والوں کو ایسے جنونی اذہان کی حمایت بھی حاصل ہوئی اور پر امن لوگوں کی بھاری میجارٹی کو حسب روایت دبک کر بیٹھنا ہی تھا سو بیٹھی رہی۔ درویش نے جتنا بھی غور و خوض کیا ہے اس ساری بربادی کی بنیادی وجہ صرف یہی تھی باقی گھڑنے کو جتنی مرضی باتیں گھڑلی جائیں۔ پارٹیشن کے بعد بھی ہم دیکھتے ہیں یہی صورتحال ہوئی۔ ہندوستان سے جتنے لوگ ادھر آئے، ان میں کچھ ہوں گے جن کی جائیدادیں ہوں گی یا وہ اپنی خوشحال زندگی چھوڑ کر آئے ہوں گے لیکن بیشتر غریب غربا ہی تھے جو سہانے مستقبل کا خواب دیکھتے ہوئے ادھر آئے۔ بالخصوص یوپی اور بہار جیسے خطوں سے اور وہ اپنی پراپرٹی ہندوؤں کے لیے چھوڑ کر نہیں آئے۔ زیادہ تر بیچ کر اور پیسہ سمیٹ کر یہاں آئے اس سلسلے میں سب سے بڑی مثال خود جناح کی ہے۔ جو دہلی کے اورنگ زیب روڈ پر واقع بہت بڑے گھر کے مالک تھے جسے انہوں نے اپنے ایک ہندو دوست کو اپنے منہ سے مانگی قیمت پر بیچا اور بھاری رقم وصول کی۔ جبکہ وہ کروڑوں انسانوں کو بے گھر بنارہے تھے بلکہ ہمارے اس خطۂ لاہور میں یا پنڈی، ملتان اور سیالکوٹ جیسے شہروں اور علاقوں میں ہندوؤں کی بھاری جائیدادیں تھیں آج بھی سروے کرواتے ہوئے حقائق معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ جس بے رحمی سے ان سفاکوں نے وہ چھینی ہیں بلکہ اسی چکر میں بہت سے بے گناہ ہندوؤں کی جانیں لے لی گئیں۔ اس حوالے سے بہت کچھ لکھا بولا جاچکا ہے کہ مسلمان اگر ادھر ڈھائی ارب کی پراپرٹی چھوڑ کر آئے تھے تو ادھر ہندوؤں سے جو پراپرٹی چھینی تھی وہ ساڑھے بائیس ارب کی تھی۔ اس کے باوجود ہمارے ان مومنین و صالحین کی پوری نہیں پڑی۔

جب بلوے ہوتے تھے تو سب سے پہلے ان ہندو ساہوکاروں کے گھرلوٹے جاتے تھے جن سے اپنے مشکل دنوں میں ان لوگوں نے ادھار یا قرضے منت سماجت کے ساتھ لیے ہوئے تھے اور پہلا جلاؤ اس لال کتاب یا بیاج کا ہوتا تھا جس میں یہ تفصیلات درج ہوتی تھیں۔ اس لوٹ مار اور قتل و غارت گری سے بھی ان کی تسلی نہ ہوئی۔ درویش بارہا یہ سوچتا ہے کہ آخر گاندھی جی کو ایسی کیا شتابی تھی، پچپن کروڑ دلوانے کی جبکہ انڈین گورنمنٹ بیس کروڑ پہلے ہی فراہم کرچکی تھی اور پھر دیکھنے والی بات یہ بھی تھی کہ یہ بھاری ریونیو جو اس مسلم خطے کا گنا جارہا تھا یہ تو جمع ہی ہندوؤں کی پراپرٹی اور کاروباری سرگرمیوں کے ٹیکسز سے ہوا تھا۔ درویش نے معروف محقق ڈاکٹر اشتیاق صاحب سے جب اس حوالے سے سوال کیا تو وہ تصدیق کرتے ہوئے بولے کہ ادھر جو ریونیو جمع ہوتا تھا وہ پچھتر فیصد ہندوؤں سے وصول کیا گیا ہوتا تھا۔ سو عرض ہے کہ ہماری پوری پھر بھی نہ پڑی، کشمیر کا ٹنٹنا ایسے کھڑا کیا جیسے یہ خطہ ملنے سے ہمارے وارے نیارے ہوجائیں گے۔ چار جنگیں بھی لڑیں حاصل پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ بنگالیوں کو بھوکا ننگا کہا جیسے کہ وہ ہم پر معاشی بوجھ ہیں۔ وہ بیچارے بالآخر جان چھڑاگئے۔ آج وہ خوشحال ہیں اور ہم تعلی باز اپنے بھکاری ہونے کے کوئی نئے بہانے تراش رہے ہیں۔

ہماری مذہبیت جنونیت کی کوئی ایک نہیں مختلف النوع جہتیں تھیں جب رواداری کی جگہ عدم برداشت لے لے تو اس کی کوئی حدود نہیں رہتی ہیں جس کا بھی عقیدہ اپنے سے مختلف لگتا ہے یہ جنونینت اسی پر چڑھ دوڑنے کو اکساتی ہے۔ یہاں سے اگر غیر مسلم کلی طور پر ختم بھی ہوجائیں تو یہ جنونیت اپنے مذہب کے اندر ایک دوسرے کو گمراہ گردانتے ہوئے نئی یلغار اُٹھادے گی۔ یہاں شیعہ سنی منافرت اور فسادات کی ایک تاریخ ہے۔ کچھ اس سے بھی شدید تر معاملہ احمدیوں کے حوالے سے روا رکھا گیا یہ اسی منافرت کا شاخسانہ تھا جو ڈاکٹر عبدالسلام کو جان بچاتے ہوئے یہاں سے بھاگنا پڑا۔ ورنہ اُن جیسی صلاحیتوں اور قد کاٹھ کا سائنسدان کم از کم ہمارے ملک میں کوئی دوسرا نہ تھا۔ وہ ہر حوالے سے وکرم سارا بھائی اور ڈاکٹر عبدالکلام کی ٹکر کے سائینسدان تھے جنہیں بجا طور پر سپارکو کا ہیڈ بنایا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو ایک وقت ڈاکٹر عبدالسلام کی قیادت میں ہمارا خلائی پروگرام انڈیا سے آگے تھا یہ 1961 کی بات ہے، اسروتو اس سے کہیں بعد میں آئی۔

نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام اپنے سپیس پروگرام کے لیے بہت کچھ داعیہ رکھتے تھے مگر ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا۔ وجہ کیا تھی محض مذہبی منافرت۔ اسی منافرت نے ماقبل بٹوارہ کروایا اور مابعد ہمارے اس حصے کو برباد کرتے ہوئے ہمیں بھکاری کی پوزیشن تک پہنچا دیا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ دیگر شعبہ ہائے حیات کی طرح ہمارے سپارکو کا چیف کوئی نہ کوئی طاقتور ادارے کا بندہ ہوتا ہے۔ انڈیا سے منافرت کا حوالہ دیتے ہوئے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جیسے ہمارا ایک ہی ایشو ہے اور وہ ہے مسئلہ کشمیر۔ سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر کا ٹنٹنا کھڑا نہ ہوتا تو کیا انڈیا سے ہمارے بھائیوں جیسے قریبی تعلقات ہونے تھے۔ جب یہ کشمیر ایشو نہیں تھا تب صورتحال کیا تھی؟ سب کچھ جھوٹو جھوٹ چل رہاہے۔ کرکٹ میچ جیسی معمولی کامیابی ملتی ہے تو ہم لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں جیسے ہم نہ جانے کون سے تیس مار خان ہیں۔ ایک دن اپنے اخبار کے ایڈیٹر سے کہا جناب یہ کون سی ایسی کرکٹ میچ جیتنے کی فتح ہے جس پر آپ نے یہ سرخی جمائی ہے کہ بھارتی سورماؤں کا غرور خاک میں ملادیا، انڈیا کو ذلیل کردیا، خدارا کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں، مسابقت کے اور بھی بہت مواقع ہیں۔

انڈیا نے اتنے جہاز لیے ہیں ہم بھی اتنے ہی لیں گے۔ انڈیا نے اتنی آبدوزیں خریدی ہیں ہم اس سے زیادہ خریدیں گے ۔انڈیا کے اتنے ٹینک ہیں ہم اتنے ٹینک خرید لیں گے۔ ایٹمی ہتھیاروں کی مسابقت ہی ملاحظہ فرما لی جائے۔ انڈیا نے اٹامک انرجی لی ہے ہم کیوں پیچھے رہ جائیں، چاہے ہالینڈ سے ایک چور کے ذریعے چوری ہی کیوں نہ کروانی پڑے۔ لیکن یہ جائز اور اسلامی چوری ہے کیونکہ انڈیا کا مقابلہ کرنا ہے جو کافر ہے۔ انڈیا نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے ہیں تو ہم اُسے جواب دیں گے کہ اے بھارتی سورماؤ! تم نے کس قوم کو للکارا ہے۔ ہمارا شریف ترین وزیراعظم فخر کرتے نہیں تھکتا کہ کلنٹن نے مجھے اتنے ارب ڈالرز عطیہ دینے کی پیشکش کی وہ پاکستان کے تمام قرضے معاف کردینے کی  یقین دہانی بھی کروارہے تھے لیکن نہیں صاحب ہم کچھ بھی قبول نہیں کریں گے۔ یہ ہماری عزت و ناموس کا معاملہ ہے۔ ہم کیسے یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ ہمارا روایتی حریف پانچ ایٹمی دھماکے کرے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں۔ ہم اپنے اس دکھ کو کیسے پی جائیں۔

اگر کسی نے سمجھانے کی کوشش کی حضور انڈیا کی ٹکر آپ کے ساتھ نہیں۔ آپ کو تو وہ اپنے وجود کا لاینفک حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کی مڈبھیڑ تو ایک سپرپاور چائینا سے ہے جن کے ساتھ انڈیا کے کتنے زیادہ سرحدی تنازعات ہیں۔ اتنی ہولناک جنگ بھی وہ لڑچکے ہیں آئے روز سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ ہمسائیگی میں موجود اتنی بڑی طاقت کے ساتھ تعلقات اس شدت تک چلے گئے ہوں تو انڈیا کی یہ مجبوری قابلِ فہم ہونی چاہیے کہ وہ چائینا جیسی ایٹمی طاقت کے بالمقابل ایٹمی طاقت بنے۔ یواین سیکورٹی کونسل کی ممبرشپ بھی حاصل کرے۔ ہم تو اس نوع کی کوئی مسابقت رکھتے ہیں نہ حیثیت۔ ہم نووار پیکٹ کریں اور سکون سے اپنے عوام کے دکھوں کا سوچیں ان کی غربت جہالت اور بیماری کو ٹھیک کریں۔ جواب ملتا ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے ازلی حریف کو اپنا بڑا بھائی مان لیں اور اس سے حسد محسوس نہ کریں۔ ہم تو ہر فیلڈ میں برابری کی سطح پر ان کا مقابلہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور آگے بھی کریں گے۔ وہ پرتھوی میزائل بنائیں گے تو ہم غزنوی و ابدالی میزائیل بنائیں گے۔ قوم کو چاہے بھوکوں ماریں یا گھاس کھلائیں لیکن مقابلے پر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ کشمیر کیلیے ہزار سال بھی لڑنا پڑا تو لڑیں گے۔

یہ ہیں اس ازلی دشمنی سے پنپنے والے وہ حالات جنہوں نے ہمیں واقعی گھاس کھانے تک پہنچا دیا ہے اور پوری دنیا میں ہماری پہچان بھکاری قوم کی کروا دی ہے۔ پوری قوم آج بجلی کے بل تھامے مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں رو رہی ہے۔ ہماری طرف یہ حالات ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے اور تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے۔ اب تازہ دھماکہ چندریان کا کر دیا ہے۔ ہمارے اس ازلی دشمن نے اب ہمیں نیا چیلنج یہ دے دیا ہے کہ انڈین خلائی مشن کو تسخیر کائنات کے لیے سترہ ارب ڈالر کا بجٹ مختص کردیا ہے۔ اب ہم کیا کریں جو چند ارب کیلیے آئی ایم ایف کی چوکھٹ پر ناک رگڑتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنا چندریان مشن کامیابی سے چاند پر پہنچا کر ہمارے لیے کتنا بڑا ایشو کھڑا کردیا ہے، اس کا آسان حل تو یہی بنتا ہے کہ ہم اپنی ایگو بچانے کیلیے کہہ دیں کہ انڈیا چاند پر گیا ہی نہیں ہے، یہ سب کمپیوٹر روم کا ڈرامہ ہے۔ لیکن مصیبت یہ ہے کہ دنیا ہماری ان حرکتوں کی وجہ سے ہمیں فول سمجھتی ہے اور مزید سمجھے گی۔

اس لیے اپنی قیادت کے سامنے درویش کا اصل سوال ہے کہ ہم کب بھیج رہے ہیں وہاں اپنے قمریان کا ہلالی مشن؟ ظاہر ہے اب ہم اس پوزیشن میں نہیں رہے ہیں۔ اس پر بھی مثبت سوچ کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ایسے لوگ موجود ہیں جو نئی منطق ہانکیں گے۔ اچھا اچھا اگر انڈیا چاند پر چلا گیا ہے تو پھر کیا ہوگیا ہے، اُسے وہاں کون سا قارون کا خزانہ مل گیا ہے۔ پون صدی سے ہم نے حسد کی آگ میں جلتے ہوئے مقابلے و مسابقت کی جو فضا بنا رکھی تھی، وہ اب ٹوٹ چکی ہے۔ پانچ ایٹمی دھماکوں پر ہم نے بڑے فخر سے چھ دھماکے کرتے ہوئے جو منہ توڑ جواب دیا تھا اُسی وقت تبھی ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ ایٹم بم بنانے سے عوام کو کیا مل جائے گا؟ اُن کی غربت دور ہوجائے گی یا جہالت اور بیماری سے جان چھوٹ جائے گی؟ کھلے بندوں ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے ایٹمی مقابلہ کرتے ہوئے اپنے کروڑوں عوام کو مہنگائی کی چکی میں نہیں پیسنا۔ ہم نے اپنے عوام کی غربت دور کرنی ہے، ہم نے انہیں اچھی تعلیم اور صحت کے ساتھ بہتر انفراسٹرکچر دینا ہے اور دیگر ایک سو ایک مسائل اور دکھ ہیں جو دور کرنے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم لوگ یقیناً اس حالت میں نہ پہنچتے جس میں فی الواقعہ ہم نے اپنی قوم کا کچومر نکال کر انہیں پہنچا دیا ہے۔ وہ غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں بلک رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں یا بزرگوں کی صحت کے لیے دوا دارو کا اہتمام کریں، مکان کا کرایہ دیں یا بجلی کا بھاری بل۔ اس کے بعد گھر کے دیگر اخراجات اور خوراک خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں۔

ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اتنا گرچکا ہے کہ انڈین روپیہ تو رہا ایک طرف بنگالیوں کا ٹکا بھی ہم سے بہتر ہے افغانی اور نیپالی کرنسی بھی ہم سے بہتر ہے۔ ہم اپنے بچوں کا رونا دیکھیں یا چندریان کا جواب دینے کے لیے برابری کے خلائی مشن کی تیاری کا اہتمام کریں؟ آج ہم پاکستانیوں کو پہلی مرتبہ بے دست و پا ہوکر اپنی غربت، جہالت اور کم مائیگی کا ادراک ہورہا ہے۔ ہمارے بچے بچے کے منہ سے ایسے سوالات نکل رہے ہیں کہ ہم انڈیا کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ہمارے بزرگوں نے منافرت کے ساتھ ہمارا بٹوارہ کرتے ہوئے کیوں اتنی بڑی چھلانگ ماری تھی؟ ہندو تو  ہمارے بھلے مانس ہمسائے اور ماں پیو جائے ہیں۔ لہٰذا چندریان تھری کی کامیابی پر حسد ناراضگی یا غصہ کرنے کی بجائے، ہم تمام انڈین بہن بھائیوں کو مبارکباد دیں۔ ہماری سبھ کامنائیں اپنے انڈین ہمسایہ بھائیوں بہنوں کیلیے ہیں ۔