الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں 30 نومبر تک مکمل کرلے گا
الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب یہ کام 30 نومبر 2023 تک مکمل کیا جائے گا۔
حلقہ بندی کی مدت میں کمی کے باوجود بھی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد سے متعلق آئینی شق کی خلاف ورزی ہوگی۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والے اس فیصلے سے انتخابات میں کئی ماہ تک تاخیر کے خدشات میں کمی آئے گی۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی مشاورت، ان کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز و آرا کی روشنی میں حلقہ بندی کےکام کو جلد ازجلد مکمل کرنے کے لیے اس کے دورانیے کو کم کر دیا گیا ہے۔ اب حلقہ بندی کی حتمی اشاعت 30 نومبر 2023 کو ہوگی۔ حلقہ بندی کےدورانیے کو کم کرنے کا مقصد جتنا جلدی ممکن ہو سکے الیکشن کا انعقاد ہے۔ اس تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کے شیڈول کا بھی اعلان کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت اور اُن کے فیڈ بیک کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کا آج اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں حلقہ بندی کے دورانیے کو مزید کم کرنے کے بعد الیکشن کمیشن، انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بیان آج اس کے گرینڈ ڈیمویٹک الائنس کے وفد کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کی جس میں دیگر ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری و سینئر افسران نے شرکت کی۔
اعلامیے کے مطابق گرینڈ ڈیمویٹک الائنس کی طرف سے سابق رکن قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر صفدر علی عباسی، کاشف نظامانی، ابن محمد شریک ہوئے جب کہ سردار عبد الرحیم اور عرفان اللہ خان مروت نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ جی ڈی اے کے وفد نے الیکشن کمیشن کے نئی حلقہ بندی کرانے کے فیصلے کی مکمل تائید کی اور کہا کہ حلقہ بندی شفاف انتخابات کی بنیاد ہیں۔ لہٰذا نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندی کا کام مکمل کیا جائے اور انتخابات نئی حلقہ بندی کے بعد کروائے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق وفد نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تجدید بھی کی جائے تاکہ انتخابی فہرستوں میں ووٹ کا اندارج، حذف اور درستی کرائی جا سکے۔ الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق تمام صوبائی افسران کے تبادلوں کو یقینی بنایا جائے، چیف الیکشن کمشنر کے نگران وزیر اعلی کو خط لکھنے کے باوجود تقرر و تبادلے نہیں کیے جا رہے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت شفاف انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ آپ کی پارٹی کی مختلف تجاویز انتہائی اہم ہیں۔ الیکشن کمیشن ان تجاویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تجاویز پر آئین وقانون کے مطابق الیکشن کمیشن فیصلہ کرائے گا۔ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کے کام کی شفافیت کو یقینی بنائے گا۔