جھوٹی امیدیں یا تلخ حقائق ؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 01 / ستمبر / 2023
کسی بھی جینوئن لکھاری کو مایوسی پھیلانے کی بجائے ہمیشہ امید کی بات کرنی چاہیے کیونکہ یہ دنیا امید پر قائم ہے۔ انسان کو اگر کچھ امید ہوگی تبھی وہ کچھ کرنے کے لیے اٹھے گا، ورنہ مایوسی کی حالت میں تو وہ کبھی دوسروں سے لڑے گا تو کبھی اپنے آپ سے۔
اور یہ کیفیت اگر مزید بڑھ جائے گی تو وہی انسان اپنی زندگی کو فضول یا لاحاصل چیز سمجھتے ہوئے کوئی بھی انتہائی قدم اُٹھاسکتا ہے۔ اس طرح درویش ہمیشہ اپنے ایسے احباب کو یہ پیغام دیتا ہے کہ مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا۔ مجھے سر مارکر تیشے سے مرجانا نہیں آتا۔ بچپن میں اپنی کتابوں کاپیوں میں اکثر یہ گیت لکھتا ”اے دل تجھے قسم ہے تو ہمت نہ ہارنا، دن زندگی کے جیسے بھی گزریں گزارنا، الفت کے راستے میں ملیں گے ہزارغم بن جائے، جان پر بھی تو غم سے نہ ہارنا، رونے سے کم نہ ہوں گی کبھی تیری مشکلیں، بگڑے ہوئے نصیب کو ہنس کر سوارنا، دنیا ستم کرے تو نہ کرنا گلہ کوئی، جو تیرے ہوچکے ہیں تو اُن کو پکارنا“۔
اس سے اس معصوم بچے کو ہمیشہ ایک نیا حوصلہ عزم اور جذبہ ملتا۔ شانتی اوم شانتی کا روپ بھی اسے بہت اچھا لگتا۔ بڑی بے انصافی ہوگی اگر وہ اس کے ساتھ ہی یہ واضح نہ کرے کہ اس کائنات میں شعور سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اقبال جیسے روایتی سطح بین شاعروں نے جتنا زور عشق و ولولے پر دیا ہے، کاش وہ اتنی اہمیت عقل و شعور کو بھی دے دیتے۔ اگر عقل و شعور کی باتیں کرنے سے کسی کے عشق و جذبے پر چوٹ پڑتی ہے یا اس کا شعلۂ عشق نمناک ہوتا ہے، تب بھی اسے اندھیرے میں رکھ کر مارنے سے بہتر ہے اصلیت اُس پر واضح کردی جائے تاکہ وہ اپنے بچاؤ کا بہتر اہتمام کر پانے کے قابل ہوجائے۔ درویش نے ڈاکٹر صاحب کو کہہ رکھا ہے کہ خدانخواستہ اگر اسے کینسر بھی ہوجائے تو ایک لمحے کے لیے بھی اس سے یہ خبر چھپائی نہ جائے تاکہ وہ اپنے بچے ہوئے محدود وقت کا اپنی ترجیحات کی مطابقت میں بہتر اہتمام کرسکے۔
مسلمان اقوام کے ساتھ جو سب سے بڑا ظلم کیا گیا ہے، وہ ان بظاہر امیدیں بانٹنے والوں نے ڈھایا ہے۔ امامت و قیادت کی ذمہ داری پر فائز لوگ سیاسی ہوں یا فکری، انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ امید کے نام پر طفل تسلیاں دیتے ہوئے افرادِ قوم کے ساتھ یا ان کی اجتماعی اپروچ کے ساتھ دھوکہ دہی کریں۔ انہیں مغالطوں میں رکھیں کہ ویسے تو تم بہت عظیم ہو بس ذرا جذبۂ ایمانی اجاگر کرلو، دنیا میں تمہی غالب رہو گے۔ سبق پڑھ پھر صداقت کا عدالت کا شجاعت کا، لیاجائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔ بھائیو! ان ڈھکوسلے بازیوں میں اپنی قوم کو کب تک گمراہ کرتے رہو گے؟ بھلے مانسو، عقل و شعور کی بات کرو سائنٹفک ریسرچ یا علوم کی طرف اپنے نوجوانوں کو راغب کرو۔ اپنی زبان دانی اور لفاظی میں الجھا کر انہیں کیوں بے وقوف بناتے ہو اور دھوکہ دیتے ہو۔ رونا محض صداقت، عدالت یا شجاعت کا نہیں ہے۔ قوم کی صداقت و عدالت پر تو تھوڑا بہت شبہ ہوسکتا ہے، شجاعت میں تو یہ قوم روزِ اول سے مالامال ہے۔
آج بھی کسی کے گھر تڑوانے ہیں ان کے چرچ یا مندر جلوانے ہیں تو اس قوم کا بچہ بچہ شجاعت اور دیوانگی کے ساتھ باہر نکلے گا اور کافروں کی اینٹ سے اینٹ بجادے گا۔ رہ گیا سچ تو آج بھی آپ اپنے کسی مولوی صاحب یا عالم سے بات کرکے دیکھو وہ ایک کی سو سنادے گا کہ سچائی کے امین تو بس ہمی ہیں، دوسری توجعلی وجھوٹی اقوام ہیں ۔دیکھیں چاند تو ہمارے آقاؐ نے اپنی انگلی کے اشارے سے دو ٹکڑے کردیا تھا، یہ لوگ تو جعلی و جھوٹے ہیں جو اپنے کمپیوٹر رومز میں بیٹھ کر طرح طرح کی جعلی و جھوٹی کہانیاں گھڑتے اور وڈیو بناتے رہتے ہیں کہ وہ چاند پر اتر گئے ہیں۔ یا ان کی مشینیں وہاں پہنچ گئی ہیں۔ بھلا کلمے کی طاقت کے بغیر یہ کیسے ممکن ہے؟ صرف ہمارے خدائی براق میں ہی یہ صلاحیت ہے۔ ماشااللہ ہمارے یہ مقدس علما ذہنی و فکری طور پر کتنے مؤثر ہیں، ہمارے عام عوام کس قدر ان کے زیر اثر ہیں، عوام یا جہلا کیا درویش نے عقیدتوں کے حوالے سے بڑے پڑھے لکھے پی ایچ ڈی صاحبان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے ان کی ارادت مندی ملاحظہ کی۔ کہ جونہی عقائد و نظریات کی بات آگئی پھر عقل و شعور کا وہاں کیا کام۔
کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہاں خالص سائنس یا فزکس پڑھاتے ہوئے بھی ٹیچرز لیکچر کا بیشتر حصہ یوں گزار دیتے ہیں کہ جیسے یہ اسلامیات کا پیریڈ چل رہا تھا اور ایسی ایسی اتنے اعتماد کے ساتھ چھوڑتے ہیں کہ اگر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے تنقیدی کالم لکھا گیا تو اخبار والے اُسے چھاپنے سے انکار کردیں گے۔ درویش نے ایک سو ایک اسلوب اختیار کرکے دیکھے ہیں مختلف راستے بدل بدل کر آیا ہے مابعد یہی واضح ہوا ہے کہ نہیں یہ باتیں نہیں کی جاسکتیں۔ جو قوم سچ سننا نہیں چاہتی، عدالت ان لوگوں نے کیا خاک کرنی ہے۔ ان لوگوں کے درمیان جو بھی نام نہاد پاپولر سکالر آتاہے اس کا مشن آپ ہمیشہ اپنی ذات کے گرد گھومتا ہوا پائیں گے۔ وہ ایسی باتیں کرے گا جن سے اس کی پاپولیریٹی بڑھے، قوم میں شعور کی رتی آئے نہ آئے۔ اسے اس سے کوئی غرض نہیں ساری اٹھان اپنی ذات یا شخصیت سازی کے گرد گھومتی ہے۔ اگر درویش یہ کہے کہ ہماری قومی بربادی کی جڑعلم و شعور دشمنی اور آزادئ اظہار کا فقدان ہے تو اس پر معترضین گلے پھاڑنے لگیں گے۔
ناچیز نے اپنی قربت اور دوستی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک دن فرزندِ اقبال سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب اباجی کا کیا کام تھا جنونیت کو بڑھاوا دیتے ہوئے جنازے میں جانے کا اور پھر وہاں انہوں نے جو ہانکی؟ فوراً بولے حضرت علامہ اپنی زندگی میں ہی اتنے پاپولر ہوچکے تھے کہ اس پاپولیریٹی کو مینٹین رکھنے کا یہی تقاضا تھا۔ شبلی نعمانی نے پوری زندگی مسلم عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے کے لیے تاریخ کے نام پر جتنی کہانیاں اور تفصیلات تحریر فرمائیں، وقتِ آخر فرمایا میں نے جھک ماری میرا مدعا تو یہ تھا کہ مسلمان ان واقعات یا قصوں کو پڑھ کر ویسے ہی اچھے بننے کی کوشش کریں گے لیکن نتیجہ میری سوچ کے برعکس نکلا۔ اچھا انہوں نے کیا بننا تھا الٹی تعلیاں مزید بڑھ گئیں اور ان کے دماغوں میں یہ چیز پختہ تر ہوگئی کہ دنیا میں ہم ہی خدا کی برگزیدہ اور پیاری قوم ہیں۔
کالم تو شروع کیا تھا اپنی موجودہ حالتِ قومی یا سیاسی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے آنے والے دنوں میں نئی صورت گری واضح کرنے کے لیے لیکن ناچیز بھی تو اسی قوم کا فرد ہے جس کی فکری عظمت جنوں میں کیا کیا کچھ بک جانے کی تحسین کرتی ہے۔ اگر بات گھما پھرا کر پاپولر پیرائے میں نہ کی جائے تو صم بکم عمی خیال کی جاتی ہے۔ پہلے ایک ڈرامے باز وزیراعظم بنا تو غریبوں کے دکھوں اور روٹی کی محرومی کے سوال پر ہمدرد بنتے ہوئے یوں واویلا کرتا کہ میرے ہم وطنو میں تمہیں سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے اپنے کپڑے بیچ دوں گا۔ تیرے گندے کپڑوں کا بھلا کسی نے اچار ڈالنا ہے۔ اگر مراد جائیداد تھی تو وہ کسی شخص نے بکتی نہ دیکھی۔ آج ایک نیا جو محض نگرانی کے لیے لابٹھایا گیا ہے مہنگی بجلی پر کہتا ہے کہ میرے اے سی بند کر دیے جائیں۔ ان لوگوں کی کتنی سطحی سوچ ہے اور یہ قومی قیادت و امامت کے لیے کس مرتبے پر فائز کیے جاتے ہیں۔
آج کے کالم میں سعودی کراؤن پرنس ایم بی ایس کی جی ایٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے ہند یاترا پر بحث کرنی تھی اور یہ بھی کہ کیا وہ پاکستان کی رسمی عزت افزائی کے لیے چند گھنٹے اگر اسلام آباد میں بھی سٹاپ کرلیں تو ایسی کوئی کاوش مفید بھی ہوسکتی ہے یا محض اشک شوئی۔ جو لوگ محض اس بات سے ہمارے تیس مار خاں کو جدہ لے جانے کی توجیہات نکال رہے ہیں اس پر بحث اگلے کالم میں۔