بجلی کے بل اہم مسئلہ نہیں ہے: نگران وزیر اعظم

  • ہفتہ 02 / ستمبر / 2023

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے بھاری بلوں کا معاملہ ’نان ایشو‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کو بعض سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کے حربے کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔

نگران وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آج بروز ہفتہ ملک بھر میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے۔ نگران وزیر اعظم نے گزشتہ روز سینیئر صحافیوں اور نیوز اینکرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی بہت سنگین مسئلہ نہیں ہے لیکن سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے لیے اسے سماجی مسئلے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ مجھے ان کی پوزیشن کا احساس ہے، اگر مجھے الیکشن لڑنا ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔

وزیر اعظم کے اِن ریمارکس نے سڑکوں پر احتجاج اور مہنگے بل نذرِآتش کرنے والے لوگوں کے اضطراب میں مزید اضافہ کردیا کہ ’صارفین کو بل تو ادا کرنا ہوں گے ’۔ اس تناظر میں یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آج کی ہڑتال کامیاب ہوگی۔ مفت بجلی استعمال کرنے والوں کے معاملے پر ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت نے باضابطہ طور پر فوج سے رابطہ کیا، جس نے دعویٰ کیا کہ مسلح افواج (پاک آرمی، نیوی اور ایئر فورس) بجلی کا ایک بھی مفت یونٹ استعمال نہیں کر رہی ہیں۔ اور ان کے لیے مختص بجٹ سے ان کے بلز ادا کیے جاتے ہیں۔

تاہم نگران وزیراعظم نے کہا کہ واپڈا کے ملازمین مفت بجلی کے یونٹ استعمال کر رہے ہیں، ان کی جانب سے، بالخصوص اعلیٰ درجے کے افسران کی جانب سے مفت بجلی کے استعمال کو ریشنلائز (معقول) بنایا جائے گا۔

نگران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے نئے اقدام کے تحت آئندہ 3 سے 5 برسوں میں 60 سے 70 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ نگران حکومت کو اسی طرح کی ایک اور سرمایہ کاری کے وعدے ملے ہیں۔ اب ہمیں اپنے پروجیکٹس کو ڈیزائن اور پیش کرنا ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری کی بہت زیادہ خواہش ظاہر کی جارہی ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے پاس بہت بڑی زمین ہے جو زراعت کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے اور ایشیا کی آبادی کی نصف غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔  پاکستان کے پاس ملک بھر کی بنجر زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے وافر پانی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، سیاحت اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں بھی بے پناہ امکانات ہیں جن سے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے فائدہ اٹھایا جائے گا۔