بجلی کے جھٹکے!

ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں دماغی توازن کا بگاڑ درست کرنے کے لئے بجلی کے جھٹکے دینا معمول کی کارروائی ہے جس کا طریق کار متعین ہے کہ مریض کو بجلی کے جھٹکے ایک مخصوص تعداد اور وقت کے حساب سے لگائے جاتے ہیں۔

کیونکہ یہ جھٹکے لگانے کا مقصد دماغ کے متاثرہ حصے کی فعالیت بحال کرنا ہوتا ہے مریض کو اذیت دینا مقصود نہیں ہوتا مگر جیلوں،عقوبت خانوں یا بیگار کیمپوں کے ٹارچر سیلوں میں زنجیروں میں جکڑے محبوس یا قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے سزا یا اذیت دینے کے لئے لگائے جاتے ہیں جن کی کوئی حد یا حساب نہیں ہوتا۔ کہ مقصد ہی اپنے ہدف کو اذیت ناک حد تک تکلیف دینا ہوتا ہے۔ تاکہ اس سے اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جاسکیں یا دشمنی و مخاصمت کے جذبے کی تسکین کی جاسکے۔

پاکستان کے عوام کو درپیش آلام و مصائب مؤخرالزکر زمرے میں آتے ہیں کیونکہ ہمارے عوام میں جب سے سیاسی شعور آیا ہے، انہیں حکمران طبقات کا جابر و قاہر بادشاہوں سلاطین، وڈیروں اور خوانین کی شکل میں ملک و قوم پر مسلط ہونا برداشت نہیں ہوپا رہا۔ اور وہ طاقتوروں کو مسلسل چیلنج کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کوشش میں انہوں نے ایوبی آمریت کو چلتا کرنے کا اہتمام کیا تو اس کے بہی خواہوں نے بحالتِ مجبوری الیکشن کا ڈول تو ڈالا۔ مگر اس کے نتیجے میں عوامی رائے سے ابھرنے والی اکثریت کو سیاسی پختگی کی سزا کے طور پر تسلیم کرنے سے ہی انکار کرکے حالات اس نہج تک پہنچا دیے کہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی اکثریت کو اقلیت سے اپنے جائز حقوق طلب کرنے پر باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔

وہ تو کبڑے کو لات پڑنا راس آگئی جبکہ ملک دو لخت ہونے کے صدمے سے دوچار اقلیت کو طاقتوروں نے ایک طلسماتی کردار کے کرشموں سے ہولے ہولے اپنے جال میں پھانس کر اس کرشماتی کردار کو بھی پھانسی دے کر اپنے راستے کی دیوار گرادی۔ یہی موقع تھا جب سبط علی صبا جیسے مزدور شاعر کا ذہن کُلبلایا تو اس کے نوکِ قلم پر یہ سلگتا ہوا شعر نمودار ہوا:

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی

لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے

ان راستوں سے ملک میں شدت پسندی و بدامنی کا ایسا منحوس عفریت داخل ہوا جو لاکھ کوششوں کے باوجود نکالے نہیں نکل رہا ۔ اس سے جان چھڑوانے کے لئے آج تک ہمارے ہزاروں پیارے

اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، ماؤں کے جگر گوشے موت نے چھین کر ان کی گودیں اجاڑ دیں۔ بوڑھے اور ضعیف باپوں سے بڑھاپے کی لاٹھیاں چھن گئیں، بہنوں کے سروں کی ردا بننے والے بھائی ظلم کی کالی آندھی اڑا لے گئی۔ اربوں روپے کے مالیتی قومی و نجی اثاثے تباہ ہوگئے مگر ہمارے سربرآوردہ لوگوں کو وہ بات ابھی تک سمجھ نہیں آئی جسے نوشتۂ دیوار بنے زنانے گزر گئے بالآخر گردِ زمانہ نے خود ہی یہ عبارت غبارِ وقت کی اوٹ میں کرکے بے بصر آنکھوں والوں کی بصارت سے بھی اوجھل کردی۔

اب حال یہ ہے کہ عین سوا نیزے پر آئے سورج کی روشنی بھی دور بیں نگاہوں کے دعوے داروں کی آنکھیں چندھیائے دے رہی ہیں۔ اور انہیں سروں پر خطرات کے منڈلاتے بادلوں کی کالی گھٹاؤں پر بھی ابرِ کرم کا گماں ہورہا ہے جبکہ ان کے جلومیں آگ کے گولے برسانے والے دیو ہیکل فولادی پرندوں کی دل دہلاتی گڑ گڑاہٹ کانوں کے پردے پھاڑے دے رہی ہے، جسے ہم اسیرانِ قفس کی چیخ و پکار دبانے کی خوشی کے شادیانوں کی مسرت انگیزی پر محمول کرنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہی تو دورِ ابتلا ہے جس کی منتہا قیامت ہے جس سے ہر آن گزرتے ہوئے بھی ہم اسی غلط فہمی میں ہیں کہ قیامت تو ابھی آنی ہے ۔ یہی ہمارے ذہنی توازن کے بگاڑ کی وہ علامت ہے جس نے ہمیں اجتماعی دانش سے محروم کردیا ہے۔

ہمیں اس حال میں پہنچانے والے ہم اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے کی صدا لگاتے ہمارے ہاتھوں میں بجلی کے بھاری بھرکم نرخوں سے بھرے وہ بل تھما رہے ہیں، جنہیں ہاتھ میں پکڑتے ہی ہمیں بجلی کے وہ ہائی وولٹیج جھٹکے لگتے ہیں کہ جیسے سزائے موت کی کرسی پر بٹھائے گئے مجرم کو ۔۔ ہم بے موت مارے جارہے ہیں ، ہماری اجتماعی قبریں کھودنے والے ایوان اقتدار کے یخ بستہ کمروں میں بیٹھے نہایت سردمہری سے کہہ رہے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اگر لوگ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ اپنے بہتر مستقبل کے لئے ہرکسی کو کہیں بھی جانے سے روکنا ضروری نہیں۔ ان لٹیروں اور ڈاکوؤں کو بھی بھی نہیں جو اہلِ اقتدار کی ملی بھگت سے اپنے بہتر مستقبل کے لئے عام آدمی کی ہڈیوں سے وہ گودا بھی نکال رہے ہیں جو خون بننے سے بچ گیا ہے!