اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ مذاق
- تحریر عرفان صدیقی
- اتوار 03 / ستمبر / 2023
یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے قرض کیلئے پوری ریاست عالمی بینک کے سامنے ناک رگڑنے کو تیار تھی۔ اس ایک ارب ڈالر کے قرض کے حصول نےعوام کو مہنگے ترین بجلی کے بلوں اور تاریخ کے مہنگے ترین پیٹرول کے ذریعے خود کشیوں پر مجبور کردیا۔
لیکن سالانہ تیس ارب ڈالر زرمبادلہ پاکستان بھیجنے والے ایک کروڑ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے مراعات کے نام پر مذاق کیا گیا ، جی ہاں اگر آپ ایک اوورسیز پاکستانی ہیں اور آپ ان مراعات کی تفصیلات سنیں تو آپ کو بھی ہنسی آجائے کہ حکومت آپ سے مراعات کے نام پر کیا مذاق کررہی ہے۔ حکومتی اعلان کے مطابق ’بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کیلئے ایک نئے ’ڈائمنڈ کارڈ‘ کا اجرا کیا جا رہا ہے اور یہ سالانہ 50 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم بھیجنے والوں کو جاری کیا جائے گا ۔ ڈائمنڈ کارڈ ہولڈر کو جو مراعات دی جائیں گی ان میں ایک غیرممنوعہ ہتھیار کا لائسنس، گریٹیز پاسپورٹ، پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ترجیحی بنیادوں پر رسائی اور پاکستانی ایئرپورٹس پر تیز ترین امیگریشن کی سہولیات شامل ہیں۔ جبکہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ ’ریمیٹنس کارڈ ہولڈرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے بڑے انعامات دینےکیلئے اسکیم کا اجرا بھی کیا جائے گا۔
اب ان مراعات کی حقیقت بھی جان لیں یعنی جو اوورسیز پاکستانی پچاس ہزار ڈالر بینکنگ چینل کےذریعے پاکستان بھیجے گا اسے ایک ڈائمنڈ کارڈ جاری کیا جائے گا اور اس پر جو پہلی سہولت دی جائے گی و ہ ایک ممنوعہ بور کے ہتھیار کا لائسنس ہوگا۔ میرے خیال سے بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ایک پر امن ماحول میں رہنے کے عادی ہیں اس لیےایک خطرناک ہتھیار کے لائسنس کیلئے کوئی بھی اوورسیز پاکستانی اتنی بڑی رقم نہیں بھیجے گا۔ اگلی سہولت گریٹیز پاسپورٹ یعنی جس کے ذریعے انہیں پاکستان کے ایرپورٹس پر تیز ترین امیگریشن کی سہولت حاصل ہوسکے گی تو جو شخص پچاس ہزار ڈالر پاکستان بھیج رہا ہے وہ بلاشبہ ایک مخیر شخص ہی ہوگا اور مخیر شخص چند ہزار روپے دے کر یا اپنے اثر وسوخ کے ذریعے یہ مراعات پہلے ہی حاصل کررہا ہے ، جبکہ ایسے مخیر پاکستانیوں سے پاکستانی سفارتخانے خود رسائی حاصل کرتے ہیں۔ انہیں سفارتخانوں میں رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ بھی کوئی پر کشش سہولت نہیں۔ پاکستان کے ایرپورٹس اور سفارتخانوں میں اصل تکالیف تو ان ملازمت پیشہ اوورسیز پاکستانیوں کو ہوتی ہیں جو ماہانہ صرف اپنی تنخواہ جو چند سو ڈالرز ہوتی ہے اپنے اہل خانہ کو بھجوانے کی سکت رکھتے ہیں۔
ان کا نہ ائرپورٹ پر اور نہ ہی سفارتخانوں میں کوئی پرسان حال ہے۔ ان کیلئے حکومت نے کوئی مراعات نہیں دیں۔ جو اصل میں ان کے مستحق ہیں۔ لہٰذ دیکھا جائے تو ڈالر بھیجنے کے سب سے اہم ذریعے یعنی اپنے ہی ہم وطن اوورسیز پاکستانیوں کیلئے حکومت نے صرف نام کی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں سے کہا جاتا ہے کہ جو پاکستانی سال میں پچاس ہزار ڈالر وطن بھیجے گا وہ بغیر ڈیوٹی چھوٹی گاڑی پاکستان لا سکے گا ،جبکہ ایک لاکھ ڈالر بھیجنے والا پاکستانی پندرہ سو سی سی تک کی گاڑی بغیر ڈیوٹی پاکستان لاسکے گا۔ جبکہ دو لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر والا کوئی بھی گاڑی بغیر ڈیوٹی پاکستان لاسکے گا۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہر وہ اوورسیز پاکستانی جو دس ہزار ڈالر ماہانہ پاکستان بھیجے گا اس کے لیے حکومت فی ڈالر پانچ روپے اضافی ادا کرے گی۔ ساتھ ہی حکومت فوری طور پر اوپن مارکیٹ ریٹ کا خاتمہ کرے کیونکہ یہ اوپن مارکیٹ ریٹ ہی ڈالر کی قیمت میں مصنوعی اضافے اور حوالے ہنڈی کی وجہ ہے، پھر حکومت اوورسیز پاکستانیوں کو ایک موبائل فون بغیر ڈیوٹی لانے کی سہولت دے۔ آپ یقین کریں اگر حکومت ایک کروڑ بیرون ملک پاکستانیوں کو حقیقی اور بامعنی سہولتیں فراہم کرے تو ان کی جانب سے ملنے والی ترسیلات صرف ایک سال میں باآسانی پینتیس ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں تو اوورسیز پاکستانیوں کو الٹا ستایا جاتاہے جس کی مثال کراچی میں سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے سنگاپوری نژاد ایک پاکستانی کی ہے جنہوں نے سو ملین ڈالر کی کراچی میں سرمایہ کاری کی اور آج تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے درپے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ حکومت کو ملک کیلئے صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)