بالواسطہ آمرانہ نظام مسائل حل نہیں کرسکتا
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 04 / ستمبر / 2023
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ اگر سپریم کورٹ اس حوالے سے کوئی حکم جاری کرتی ہے تو سب یہ فیصلہ ماننے کے پابند ہوں گے۔ نگران وزیراعظم نے اس انٹرویو میں بجلی کے نرخوں، قومی سلامتی، دہشت گردی ، پاک بھارت تعلقات اور سانحہ 9 مئی کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
دوسری طرف لاہور کور کمانڈر ہیڈ کورٹرز میں ملک کے تاجروں سے ملاقات میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ڈالر کی قیمت میں شفافیت کو یقینی بنانے اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کاری کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے ذریعے ملک میں ایک سو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری لانے کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ تاجر برادری کے نمائیندوں نے ملکی معیشت کی بحالی کے لئے مختلف تجاویز آرمی چیف کے گوش گزار کروائیں جن کے بارے میں جنرل عاصم منیر نے بھی تفصیلی اظہار خیال کیا۔
ملک کے دو اعلیٰ ترین مناصب پر فائز ان دونوں عہدیداروں کی نیک نیتی پر سوال اٹھائے بغیر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انداز گفتگو اور غیر متعلقہ امور پر خیالات کا اظہار کیا موجودہ بحران میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا اس سے بے یقینی پیدا ہوگی اور ملک میں آئینی انتظام پر لوگوں کا یقین مزید کمزورہو گا۔ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ مہنگائی اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اس وقت اہم مسئلہ کے طور پر سامنے آرہا ہے جس کا براہ راست اظہار بجلی کے بلوں کے خلاف تسلسل سے جاری مظاہروں میں ہؤاہے۔ لیکن اس اشتعال یا پریشانی کے پس منظر میں ملکی سیاسی نظام اور معاشی مستقبل کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی درحقیقت تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اس حقیقت کو ملکی عوام سنجیدگی سے نوٹ کررہے ہیں کہ حال ہی میں سبک دوش ہونے والی اتحادی حکومت میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت باالترتیب لندن اور دوبئی میں مقیم ہے۔ جبکہ ایک تیسری بڑی جماعت تحریک انصاف کے چئیرمین سمیت اعلیٰ قیادت یا تو جیلوں میں بند ہے یا ضمانتوں پر خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہی ہے۔
یہ سب ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آرہا ہے جب ملک میں انتخابات کا انتظار کیا جارہا ہے اور الیکشن کمیشن سے لے کر نگران حکومت تک کوئی بھی اس بارے میں دو ٹوک اور واضح بات کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ نگران وزیر اعظم نے انتخابات کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ دار ی قرار دے کر خود کو اس سے بری الذمہ کیا ہے۔ یا ان کا خیال ہے کہ اگر سپریم کورٹ کوئی حکم جاری کرتی ہے تب ہی ’بر وقت‘ انتخابات ہوسکتے ہیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیوں کے نام پر انتخابی شیڈول دینے سے گریز کررہا ہے تاہم اس حوالے سے قیاس آرائیوں میں اضافہ کے لئے مختلف شوشے ضرور چھوڑے جاتے ہیں۔ یہ امر بھی حیرت انگیز ہے کہ نگران وزیر اعظم انتخابات کے بارے میں لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں لیکن یہ وعدہ کرنے میں حجاب محسوس نہیں کرتے کہ ان کی حکومت آئین و قانون کی مقررہ مدت سے زائد ایک لمحہ بھی اقتدار میں نہیں رہے گی۔
نگران حکومت کا دورانیہ انتخابات سے مشروط ہے۔ لیکن قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے پہلے تحلیل کی صورت میں آئین نے 90 دن کے اندر انتخابات منعقد کروانے کی شرط عائد کی ہے۔ الیکشن کمیشن نئی مردم شماری کے تناظر میں حلقہ بندیوں کو تو اپنی قانونی ذمہ داری قرار دے رہا ہے لیکن نوے دن میں انتخابات کے حوالے سے آئینی ذمہ داری پر کوئی حرف زبان پر لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اب یہ معاملہ تحریک انصاف اور بعض دوسرے حلقے سپریم کورٹ میں لے کر گئے ہیں جہاں اب تک اس پر غور کے لئے کسی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا۔ ملکی نظام عدل کی پیچدگی اور کسی پٹیشن پر ذمہ دارانہ غور کے طریقہ کا کی وجہ سے جب بھی اس معاملہ پر غور کیا گیا تو اس پر کافی وقت صرف ہوگا۔ ملک میں قومی اسمبلی تحلیل ہوئے تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک یہی بحث سننے میں آرہی ہے کہ انتخابات کا فیصلہ کسے کرنا ہے۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے حکم د یاتو سب کو اسے ماننا پڑے گا۔ حیرت ہے کہ نگران وزیر اعظم آئین پاکستان کے تحت کام کرنے والی عدالت کے حکم کو تو حتمی قرار دے رہے ہیں لیکن آئین ہی میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کے اصول کے بارے میں کوئی دو ٹوک رائے نہیں رکھتے۔ ایسے میں کیوں کر انتخابات کے حوالے سے انوار الحق کاکڑ اور ان کی حکومت کی نیک نیتی پر یقین کیا جاسکتا ہے؟ حیرت انگیز طور پر ملک کی حکومتیں سپریم کورٹ کو حتمی اختیار کا مرکز قرار دینے کے باوجود اس کے فیصلوں پر عمل درآمد میں لیت و لعل سے کام لیتی ہیں۔ حال ہی میں پنجاب میں انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حشر سب کے سامنے ہے۔ اب بھی انتخابات کی بجائے حلقہ بندی کاسلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ درحقیقت انتخابات کے لئے آئینی حکم کی خلاف ورزی ہے لیکن کسی ادارے کو اس پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ کیوں کہ اگر اس پہلو سے کسی پریشانی کا شائبہ بھی موجود ہوتا تو نگران وزیر اعظم یا الیکشن کمیشن کم از کم حتمی انتخابی شیڈول کے بارے میں بات ضرور کرتے۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی نگران حکومتوں کو8 ماہ ہوچکے ہیں لیکن ان کی ’آئینی مدت‘ کا معاملہ طے نہیں کیا جاسکا۔ تحریک انصاف نے اس معاملے پر قانونی جنگ ضرور لڑی اور اس میں کامیابی بھی حاصل کی لیکن پھر 9 مئی ہوگیا اور صورت حال مکمل طور سے تبدیل ہوگئی۔ ایک جرم کے نام پر ملک کی بڑی سیاسی پارٹی اور اس کی قیادت کو براہ راست نشانہ بنایا گیا لیکن ملک کا نظام انصاف اس میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سانحہ 9 مئی کو بغاوت اور خانہ جنگی کی کوشش قرار دیا ہےجس کا نشانہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم تھی۔ لیکن اسی انٹرویو میں ان کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ’ اگر عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ملکی سیاسی نظام کی وجہ سے قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے تو یہ ہمارے سیاسی و جمہوری نظام پر بڑا سوالیہ نشانہ ہے‘۔ حیرت ہے کہ انتخابات کی نگرانی کرنے والے ایک شخص کو ابھی تک یہی اندازہ نہیں ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ روا رکھا جانے والا برتاؤ قانون کی بالادستی کا پرتو ہے یا ملکی سیاسی نظام کی ناکامی اس کا سبب ہے۔ ملک کے عبوری چیف ایگزیکٹو بھی اگر اس سوال کا شافی جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر کون یہ بتائے گا کہ اس وقت عوام کے حق حکمرانی کے ساتھ کئے جانے والے کھلواڑ کا کون ذمہ دار ہے؟
نگران وزیر اعظم نے جیو ٹی وی کے پروگرام ’جرگہ‘ میں تفصیل سے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اس انٹریو میں انہوں نے ان امور پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے جن کے بارے میں ایک مختصر مدت کے لئے قائم ہونے والی حکومت کوئی عملی اقدام کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ لیکن جس مقصد کے لئے انہیں یہ منصب عطا ہؤا ہے، اس کی ذمہ داری وہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ پر ڈال کر خود اقتدار کے مزے لینا چاہتے ہیں۔ انوار الحق کاکڑ کی باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت ملک میں فوجی قیادت کے ترجمان یا وکیل سے زیادہ نہیں ہے اور وہ یہ خدمت بخوبی ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے قومی سلامتی، فوج کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی میں امریکی ہتھیاروں کے استعمال جیسے امور پر گفتگو کرتے ہوئے علاقے میں مستقل امن کو بھارت کی ذمہ داری اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کو ’غیر ریاستی عناصر‘ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریاست کی طرف سے طاقت کے استعمال اور بنیادی شہری حقوق کے برعکس فوجی عدالتوں میں مقدمات کو درست قرار دیا ہے۔ یہ باتیں کسی ایسے شخص کے منہ سے ادا نہیں ہوسکتیں جو چند ہفتوں کے بعد اقتدار کسی منتخب حکومت کے حوالے کرنے کی تیار ی کررہا ہو۔
دوسری جانب لاہور میں آرمی چیف نے ملکی معاشی بحالی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے تاجر نمائیندوں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ جیسے نگران وزیر اعظم خارجہ و سلامتی امور میں حتمی رائے دینے کے مجاز نہیں ہیں بعینہ ملکی معیشت کو سنبھالنا بھی آرمی چیف کے فرائض کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن ہمارا آرمی چیف معاشی شفافیت اور کثیر سرمایہ کاری کے منصوبوں کو گیم چینجر کہتے ہوئے ، اس کام کی قیادت کرنا چاہتا ہے۔ قومی سیاست میں فوج کے کردار سے انکار ممکن نہیں ہے ۔ اس کردار کو محدود کرنے کے لئے تمام سیاست دانوں کو نہایت ہوشمندی سے کام لینا ہوگا جو فی الوقت عنقا ہے۔ اسی لئے فوج کا غیر منتخب سربراہ خود کو مسیحا کے منصب پر فائز سمجھتا ہے۔
البتہ نگران وزیر اعظم اور آرمی چیف پر واضح ہونا چاہئے کہ ان کا یہ طرز عمل ملک میں پائے جانے والے سیاسی و معاشی بحران کو کم کرنے کی بجائے اسے گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔ نگران حکومت کے نام پر ایک کٹھ پتلی انتظام کے ذریعے عوام کو امور مملکت میں حصہ دار ہونے کے احساس سے محر وم کرنے کا موجودہ طریقہ، تمام تر ’نیک نیتی ‘ کے باوجود ناکامی کا سفر ثابت ہوگا۔ پاک فوج اگر واقعی ملک میں معاشی اصلاح کی حامی ہے تو اسے کسی غیر منتخب عبوری حکومت کو پتوار بنانے کی بجائے انتخابات کی مکمل حمایت کرنی چاہئے۔ اور جاننا چاہئے کہ منتخب قیادت کے ساتھ مل کر ہی معاشی بحالی کا کوئی منصوبہ کامیاب ہوگا۔ براہ راست آمریت کی طرح بالواسطہ آمرانہ نظام بھی کسی بحران کا حل نہیں ہوتا۔