بجلی کے بھاری بلوں کاغیر روایتی حل تلاش کیا جائے گا: وزیر اعظم

  • منگل 05 / ستمبر / 2023

نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے بجلی بلوں کے مسئلے کا غیر روایتی حل فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ حکومت ابھی تک اس حوالے سے کوئی ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

گزشتہ روز وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران نگران وزیر اعظم نے کہا کہ صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ آپشنز تلاش کیے جا رہے ہیں۔ حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے وعدوں سے انحراف کیے بغیر بجلی کے بلوں کے معاملے پر عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ذمہ دارانہ فیصلے کرے گی۔

گردشی قرضوں، بجلی کی چوری اور ٹیکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے نگران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قلیل مدتی حل متعارف کرائے گی۔

قبل ازیں گزشتہ روز وزیراعظم نے پاور سیکٹر کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی جس میں انہوں نے حکام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر بجلی چوری کرنے والوں اور واجبات کے نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا اور متعلقہ حکام کو اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ حکومتی اسٹرکچر کو نئے سرے سے ڈیزائن کیے بغیر نگران سیٹ اپ بنیادی طور پر معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کو از سر نو ترتیب دینے پر مرکوز ہے تاکہ معاشی بحالی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) معاشی بحالی کی حکمت عملی ہے جس میں زراعت، معدنیات ، دفاعی پیداوار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی گئی ہ۔ے

انہوں نے کہا کہ بجلی اور ٹیکس کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت وسط مدتی اصلاحات کی بنیاد فراہم کرے گی۔ معاشی منصوبہ بندی کے لیے اسٹریٹجک راہ متعین کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملی تشکیل دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

صحافیوں سے ملاقات میں انوارالحق کاکڑ نے کہا ہے کہ سعودی عرب اگلے 2 سے 5 سال میں پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے ساتھ حکومت نج کاری کا عمل بھی بحال کرے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے کان کنی، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ یہ پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سعودی عرب کی حکومت نے نگران وزیراعظم کے اس بیان کے حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ سعودی عرب کی حکومت اگر اس پیش رفت کی تصدیق کرتی ہے تو یہ پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سعودی حکومت کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔

نگران وزیراعظم نے سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی نشان دہی نہیں کی لیکن گزشتہ ماہ بیرک گولڈ کارپوریشن نے کہا تھا کہ وہ ریکوڈک کے منصوبے میں پاکستان کے شراکت دار کی حیثیت میں سعودی عرب کی آمد کا خیرمقدم کرے گا۔ پاکستان کے معدنی وسائل 60 کھرب ڈالر کی مالیت کے ہیں جبکہ ریکوڈک کے حوالے سے بیرک گولڈ کا خیال ہے کہ کاپر اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے خزانوں میں سے ہے۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ان کی حکومت نج کاری کے دو منصوبوں کے معاہدوں کی تکمیل کرے گی، ممکنہ طور پر اگلے 6 ماہ کے دوران دو ریاستی اداروں کی نج کاری ہوگی اور توانائی کے علاوہ ایک اور سرکاری ادارے کی بھی نج کاری ہوگی۔