ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 05 / ستمبر / 2023
نادرہ مہرنواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہورہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔
بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور کے عکس پبلیکیشنز کے سی ای او محمد فہد نے ذاتی دلچسپی سے مصنفہ کی خواہش و مرضی کے مطابق اس کی طباعت کا اہتمام کیا ہے۔ کتاب کی دیدہ زیب اور دلکش اشاعت قاری کو پہلی ہی نظر میں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس حد تک پبلشر کی محنت اور مصنفہ کے حسن نظر اور انتخاب کی داد دینا بنتی ہے۔ کتاب کا سرورق ناروے کے ایک دلکش منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تصویر نادرہ مہرنواز کی بہو نے اتاری لیکن اس کا انتخاب کرکے مصنفہ نے اپنی خوش نظری کا ثبوت فراہم کیا ہے۔
سرورق کتاب کے عنوان اور متن میں شامل مضامین کی نمائیندگی کا حق ادا کرتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہی قاری سمجھ سکتا ہے کہ یہ کتاب ایک ایسے حسین ملک کے بارے میں ہے جو قدرتی مناظر سے مالا مال ہے ۔ مضامین کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ ناروے کے لوگوں نے اس ملک کو اپنے سب باشندوں کے لئے حسین تر بنانے کے لئے خوب محنت کی ہے ۔ یوں یہ کتاب ایک ملک اور وہاں کے عوام کا تعارف ہی نہیں بلکہ پڑھنے والوں کے لئے سبق آموز بھی ہوجاتی ہے۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی ملک کے فطری حسین نظارے ہی اس کی خوبصورتی کے لئے کافی نہیں ہوتے بلکہ وہاں رہنے والے سب لوگوں کے لئے کسی سرزمین میں امکانات اور سہولتوں کی فراہمی سے ہی کوئی ملک شاندار ممالک کی صف میں شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہریوں کے اطمینان اور سہولتوں کے مختلف عالمی جائزوں میں ناروے کا نام ہمیشہ پہلے چار پانچ ممالک میں شامل ہوتا ہے۔ زیر بحث کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اہل ناروے نے یہ منزل کیسے حاصل کی۔
نادرہ مہرنواز کا کمال یہ ہے کہ اگرچہ انہوں نے مضامین کا یہ سلسلہ ’ہم سب‘ میں ناروے کے تعارف کے لئے شروع کیا تھا لیکن کتاب میں انہیں اس ترتیب سے شامل کیا گیا ہے کہ قاری کو ناروے کی تاریخ ، جمہوری نظام، انسانی حقوق کی صورت حال اور تارکین وطن کے معاملات کے بارے میں ایک تسلسل سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ کہیں یہ ربط ٹوٹتا نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نادرہ مہرنواز کا انداز بیان انتہائی دلنشین ہے، جس کے بارے میں وجاہت مسعود کاکہنا ہے کہ ان کی تحریر میں ’ایسا سہج سبھاؤ پایا جاتا ہے جیسے موتیے کے سفیر پھولوں کا ڈھیر، گرم رات میں ٹھنڈک اور خوشبو کا سحر‘۔ صاحب ایسی میٹھی سجیلی تحریر میں ناروے جیسے خوبصور ت ملک، جمہوری روایات اور انسانوں کی برابری کے بارے میں معلومات کا خزانہ جمع کردیاجائے تو اس کی توصیف کے لئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔
’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ کی جامعیت کا اندازہ کرنا ہو تو اوسلو ، ناروے کے ایک شہری اور استاد خادم حسین ملک کی یہ سند ثبوت کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے کہ ’مجھے ناروے میں رہتے ہوئے پچاس سال ہوگئے ہیں اور شعبہ تعلیم سے بھی منسلک رہا ہوں، اس کے باوجود میں نے ناروے کے بارے میں اس قدر معلومات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ میری رائے میں محترمہ نے ایک ایک مضمون پوری دیانتداری ، محنت و لگن سے قلمبند کیا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مصنفہ نے ہر موضوع اور ہر کردار کو قریب سے جاننے کی کوشش کی اور ایسے حقائق تلاش کیے ہیں جس کے لیے عام انسان کوشش نہیں کرتا‘۔
عام انسان کی ’سہل پسندی‘ سے قطع نظر کسی ملک کی تاریخ ، ثقافت و جغرافیے، زبان و ادب اور لوگوں و نظام حکومت کے بارے میں معلومات ایک ہی جگہ سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ اس مقصد کے لئے مختلف کتابوں کو کھنگالنا پڑتا ہے تاکہ ہر شعبہ کے بارے میں کوئی تاثر قائم کیا جاسکے۔ یہ اعصاب شکن کا م ہے ۔ البتہ نادرہ مہرنواز نے جامع انداز میں یہ معلومات ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میں اکٹھی کردی ہیں۔
یہ کتاب ناروے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی نعمت ہے اور طالب علموں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔ ناروے میں انٹرمیڈیٹ کی سطح تک اردو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ہر سال اردو جاننے والے درجنوں طالب علم اس مضمون کا امتحان دیتے ہیں۔ ایسے طالب علموں کے لئے یہ کتاب ایک بہتر ریفرنس کی حیثیت رکھتی ہے۔ ناروے کے محکمہ تعلیم کو اس طرف توجہ دینی چاہئے کہ معلومات سے لبریز یہ کتاب طالب علموں کو اردو سیکھنے میں بھی مدد دے گی اور لگے ہاتھوں ناروے کی ثقافت و طرز زندگی کے متعدد نہاں پہلو ؤں سے بھی آگاہی فراہم کرے گی۔
ایسی کتاب کو سلیبس میں حوالہ کی حیثیت ملنی چاہئے اور امتحانی سوال مرتب کرنے والے بھی پاکستان سے شائع ہونے والے مواد کو بنیاد بنانے کی بجائے ناروے کے بارے میں ناروے کی ایک مصنفہ کی لکھی ہوئی ایک کتاب استعمال کریں۔ اتفاق سے یہ کتاب دلکش اردو زبان میں لکھی گئی ہے جو طالب علموں میں اس زبان کو جاننے کا شوق پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔