چودھری رحمت علی ٹرسٹ کی طبی وتعلیمی خدمات
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 06 / ستمبر / 2023
برطانوی مفکر برٹرینڈ رسل کہتے ہیں کہ بہت سے مرد اور خواتین انسانوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ پریشان خیالی میں مبتلا رہتے ہیں اور ان کی توانائیاں اور صلاحتیں بے حد معمولی دکھائی دیتی ہیں۔ اپنی ناتوانیوں کے تصور سے وہ گہری مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جن کا انسانی خدمت کا جذبہ زیادہ شدید ہوتا ہے، ان کو اپنی ناتوانی کے احساس سے رنج بھی زیادہ پہنچتا ہے۔
بات یہ ہے کہ توجہ اگر فوری مستقبل تک محدود رہے تو پھر لگتا ہے کہ ہم واقعتا کوئی کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتے۔ کسی خون خرابے کو یا کسی بڑی جنگ کو ختم کروانا غالباہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔فورا ہی ہم تعلیم سمیت کسی بھی شعبے میں نئی روح نہیں پھونک سکتے۔اس قسم کے معاملات میں ہم کو خرابی اور بدی کا احساس تو ہو سکتا ہے لیکن ہم معمول کے طریقوں کی مدد سے ان کو یک دم ختم نہیں کر سکتے۔ہم کو مان لینا چاہیے کہ دنیا کا نظام غلط طریقے سے چل رہا ہے اور یہ بھی کہ پلک جھپکتے ہی اس کو راہ راست پر نہیں لایا جا سکتا، لہذا ہماری امیدوں کا تعلق آنے والے کل یا مستقبل قریب سے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہم کو وہ زمانے پیش نظر رکھنے چاہیں جب وہ تصورات اکثر لوگوں تک پھیل جائیں گے اور مقبول عام ہو جائیں گے جو آج صرف چند لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ ہم میں ؎؎حوصلہ اور صبر ہو تو ہم ایسے خیالات پر غور وفکر کر سکتے ہیں اور ایسی امیدیں پال سکتے ہیں جو جلد یا بدیر لوگوں کو متاثر کریں گی اور ان کو عمل پر اکسائیں گی۔رسل کہتے ہیں کہ خیالات کی طاقت بل آخر کسی اور انسانی طاقت سے عظیم ترثابت ہوتی ہے۔جو لوگ سوچنے کی اہلیت رکھتے ہیں اورانسانی ضرورتوں کے مطابق سوچنے کا تخیل رکھتے ہیں وہ عام طور پر جلد(زندگی میں) یا بدیر (مرنے کے بعد)اپنا مقصد حاصل کر لیا کرتے ہیں۔
اپنے گردونواح اور حلقہ احباب پر نگاہ ڈالیں توایسی کئی ایک شخصیات آپ کو دکھائی دے سکتی ہیں جو محض پختہ عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ کی گئی محنت کے بل بوتے پرجلد یا بدیر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔انسانوں اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں افراد ہمارے تعاون اور ستائش کے اس لیے حق دار ہونے چاہیں کہ وہ نجی سطح پر سرگرم عمل رہ کر وہ کام کر جاتے ہیں جنہیں ہمارے ہاں عام طور پر ریاست اور حکومت کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔چودھری رحمت علی(لفظ پاکستان کے خالق) کے دیرینہ دوست ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی بھی سماجی خدمت کے جذبے سے سرشارایک ایسی ہی شخصیت تھے۔ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی نے قیام پاکستان کے اگلے ہی سال(1948) میں پہلے گونگے بہرے بچوں کی تعلیم وتربیت کے آل پاکستان ڈیف اینڈ ڈمب ویلفیئر سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس نے ملک میں گونگے بہرے بچوں کے لیے لاہور میں پہلا ادارہ قائم کیا اور بعد ازاں 70کی دہائی کے نصف میں انہوں نے ڈاکٹرعبدالرشید چودھری و دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر چودھری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ایس ایم کے واسطی کی رحلت کے بعد ان کے بیٹے ڈاکٹر سید عثمان واسطی بھی ٹرسٹ کے زیر تحت اداروں کو چلانے کے لیے بہترین ٹیم تشکیل دے چکے ہیں۔
چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے زیر انتظام 80کی دہائی کے نصف میں ایک ہسپتال اور ایک مسجد واقامتی مدرسہ قائم ہوا جب کہ 90کی دہائی کے اوائل میں لڑکیوں او ر لڑکوں کے لیے الگ الگ ہائی اسکولز قائم کیے گئے۔اس کے علاوہ اس ٹرسٹ کے زیر انتظام2022میں ایک جونئیر سکول بھی قائم ہوا۔اسی کی دہائی میں بننے والا چودھری رحمت علی میموریل ہسپتال کئی بار ہونے والے اضافوں کے بعد اب ایک بڑے ہسپتال میں تبدیل ہو چکا ہے۔گزشتہ دنوں برادرم خالد رسول صاحب کی دعوت پر پہلے سے موجود ڈینٹل یونٹ کی توسیع اور تزئین نو کے سلسلے میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ اس سلسلے میں ہونی والی میٹنگ اور بریفنگ میں بتایا گیا کہگزشتہ دو تین سالوں میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اس وقت دو سے اڑھائی لاکھ لوگ سالانہ بنیادو ں پر ہستپال سے علاج معالجے کی سستی اور معیاری سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔
او پی ڈی پرچی فیس صرف 50روپے ہے جب کہ ہسپتال کی لیب سے 50پرسنٹ ڈسکاونٹ کے ساتھ تمام ٹیسٹوں کی سہولت میسر ہے۔بریفنگ کے بعد ہسپتال کے جنرل سیکرٹری خالد رسول صاحب نے میڈیا کے دوستوں کو سارے ہسپتال کا وزٹ کرایا۔یہ دیکھ کر طمنانیت کا احساس ہوا کہ اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں برائے نام پرچی فیس پر غریب اور متوسط طبقے کو ماہر اور کوالیفائیڈ ڈاکٹروں سے چیک اپ اور علاج معالجے کی خدمات حاصل ہیں۔سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف سمیت تمام عملے کا مریضوں کے ساتھ شائستہ سلوک تھا۔عام طور پر سرکاری اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے احساسات کو مجروح کیا جانا عام ہے لیکن یہاں باوقار انداز میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
چودھری رحمت علی ٹرسٹ صحت کے علاوہ تعلیمی میدان میں بھی لازوال و تاریخی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔تعلیم کے میدان میں چودھری رحمت علی ٹرسٹ ایجوکیشن کمپلیکس کے تحت قائم کیے گئے تعلیمی اداروں میں تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے۔چودھری رحمت علی گرلز ہائی سکول ٹاؤن شپ میں امین مکتب فار سپیشل ایجوکیشن لاہور کے تعاون سے سپیشل ایجوکیشن سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں بچوں کو
Inclusive educational system
کے تحت خسوصی تعلیم و تربیت فراہم کی جاتی ہے۔چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں اس وقت اڑھائی ہزار بچے زیر تعلیم ہیں جہاں بچوں کو انتہائی مناسب فیس میں نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے بل کہ انہیں اسکولز کے وسیع و عریض میدانوں میں ہم نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔ ان اسکولوں کے معیار تعلیم کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں سے فارغ التحصیل طالب علم طب سمیت کئی ایک اہم شعبوں میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔قارئین محترم!سرکاری اداروں کی نسبت سماجی ویلفئیر ادارے اپنی کارکردگی کے لیے عوام کے سامنے جواب دہ رہ کر عطیات اور مالی معاونت کے طلب گار ہوتے ہیں۔چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے ماہانہ اخراجات سوا کروڑ سے زائد ہیں جب کہ توسیع اور مزید سہولیات کے لیے عطیات اور معالی معاونت کا تخمینہ الگ۔چودھری رحمت علی ٹرسٹ کے زیر تحت صحت اور تعلیم کے اداروں کی کارکردگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ عوام اپنی استطاعت اور حیثیت کے مطابق اس ادارے کے ساتھ اپنے مالی تعاون کو مزید بڑھاتے ہوئے جاری و ساری رکھیں۔