ناروے کے بلدیاتی انتخابات

ناروے میں بلدیاتی انتخابات 11 ستمبر 2023 کو مکمل ہورہے ہیں۔ پچھلے 2، 3 ماہ سے بھرپور انتخابی مہم 8 ستمبر 2023 کو ختم ہوجائے گی - ساتھ ہی 8 اگست 2023 سے پیشگی ووٹ کاسٹ کا مرحلہ بھی مکمل ہونے والا ہے۔

پیشگی ووٹ دینے کی اہم بات یہ ہے کہ ووٹر ملک کے کسی بھی شہریا گاؤں کے پولنگ بوتھ سے اپنے ضلعے اور یونین کونسل کے لیے ووٹ دے سکتا- پیشگی ووٹنگ اس لیے شروع کی گئی ہے تاکہ ملک کے زیادہ سے زیادہ شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں- جبکہ 10 اور 11 ستمبر 2023 کو ووٹر صرف اپنی یونین کونسل کے مقامی پولنگ بوتھ پر ووٹ کاسٹ کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔

موجودہ بلدیاتی انتخابات میں 18 ملکی سطح کی سیاسی پارٹیاں ( یونین کونسلز ، ضلع کونسلز ) میں حصہ لے رہی ہیں - جبکہ مقامی مسائل کو حل کرنے کے لیے کئی ضلعوں میں نئے گروپ اور علاقائی پارٹیاں بھی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔

پارٹیوں نے ملک کے ہر ضلع ، ہر یونین کونسل میں لوگوں کے بنیادی مسائل کو اجاگر کیا ، ساتھ ہی اپنی اپنی پارٹی کی طرف سے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ووٹرز کے سامنے اپنا اپنا انتظامی ، سیاسی پروگرام رکھا۔ اب ووٹرز پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اپنے ضلع ، اپنی اپنی یونین کونسل میں کس پارٹی کو اکثریتی ووٹ سے نوازتے ہیں۔  جس سے پھر یہ پارٹی یا مخلوط پارٹی اتحاد ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اگلے 4 سال اقتدار میں رہے گے۔ جن ایشوز کو بلدیاتی انتخابات میں نارویجین سیاسی پارٹیوں نے ایجنڈے پر کھا وہ ایشوز یہ ہیں:

نرسری سکولوں میں سہولیات، سیکنڈری سکولوں میں تعلیم معیار اور سہولیات ، مقامی لیول پر صحت کی سہولیات اور اولڈ ہوم، موسمی تبدیلیاں ،ماحولیاتی آلودگی، گھریلو کوڑے کو ٹھکانے کا انتطام اور پبلک ٹرانسپوٹ، کھیلوں کے میدان اور آرگنائز طریقے سے کھیلوں کا فروغ، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھانا، مقامی سطح پر زراعت کی ترقی اور دوسرے ذرائع آمدنی کا فروغ ، شہروں سے ٹریفک کم کرنے کے لیے روڈ ٹیکس میں اضافہ، مقامی انفراسٹرکچر ، پانی اور سیوریج کا نظام ، ملک میں نئے آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی مختلف اضلاع میں آبادکاری ، مقامی زبان ، ثقافت کو سیکھنے کے لیے مختلف کورسز کا اجرا وغیرہ۔

ناروے میں پائیدار جمہوری روایات کا نظام ہونے سے یہاں پر پارٹیاں سیاسی نظریات پر سیاست کرتی ہیں۔ انہی سیاسی نظریات کی تشریح سے اقتدار میں آتی ہیں۔ پورے ملک میں 2 بڑے سیاسی نظریے انتخابات کے وقت آپس میں مقابلے میں ہوتے ہیں۔  ایک دائیں بازو کا نظریہ ہے جو سرمایہ دار لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔  دوسرا نظریہ بائیں بازو کا جو مزدور اور عام لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ جبکہ کچھ پارٹیاں سنٹر کے سیاسی نظریات کی حامی ہوتی ہیں۔

پچلھے چند سالوں سے ٹیکنالوجی کے فروغ کی وجہ سے زیادہ لوگ سنٹر سیاسی نظریے کے حامی نظر آتے ہیں۔ سنٹر سیاسی نظر یے میں ووٹرز کے اضافے نے اب ناروے کے زیادہ تر اضلاع ، یونین کونسلوں میں اقتدار سنٹر سیاسی نظریات رکھنے والی پارٹیوں کے مرہون منت ہے۔  کیونکہ جس طرف سنٹر نظریات کی پارٹیوں کا رحجان ہوگا وہی مخلوط اتحاد ملکی ضلعوں اور یونین کونسلوں کا اقتدار حاصل کر سکے گا۔

ناروے کی آبادی 55 لاکھ کے قریب۔ جبکہ ووٹرز کی تعداد 43 لاکھ ہے- 2023 کے بلدیاتی انتخابات میں 53370 یونین کونسلر امیدوار سیاسی میدان میں اترے ہیں جبکہ 7400 ضلعی امیدوار سیاسی میدان میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ناروے میں 356 یونین کونسلیں ہیں  اور 11 ضلعے ہیں۔

ناروے کے ان بلدیاتی انتخابات میں ہر پارٹی میں پاکستانی نژاد تارکین وطن اور دوسرے ممالک کے تارکین وطن امیدوار بھی بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں۔  گیارہ ستمبر 2023 کو انتخابات کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد تقریباً 5500 عوامی نمائندے ، ملکی حکومت کے نچلی سطح کے انتظامی ڈھانچے ( یونین کونسلز ، ضلع کونسلز ) کے اقتدار کے مالک بنیں گے۔ ان عوامی نمائندوں کی نگرانی میں پوری حکومتی مشینری کام کرے گی۔

قارئین یہ ہے وہ سیکنڈے نیون رفاہی حکومتی ماڈل جس نے ملک کے ہر انسان کو بنیادی سہولیات مہیا کی ہیں۔ جس کی وجہ سے نارڈک ممالک کا یہ حکومتی ماڈل پوری دنیا میں ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے، جس فلاحی حکومتی ماڈل کو دیکھ کر دوسرے ممالک بھی اپنے ہاں اسے نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔