اس زمانے میں بھی ہم بیگانے؟
- تحریر مختار چوہدری
- جمعرات 07 / ستمبر / 2023
اس کرہ ارض پر 2 سو سے زائد آزاد ممالک اور کچھ خود ساختہ ریاستیں بھی ہیں۔ اس کرہ ارض پر ابھی تک کچھ ایسے علاقے اور جنگل بھی ہیں جہاں پتھر کے زمانے یا اس سے بھی پہلے زمانے کے رسم و رواج کے ساتھ انسان رہتے ہیں۔ لیکن آج کی اس جدید دنیا میں علم اپنی معراج کو چھو رہا ہے۔
معلومات کے ان گنت ذرائع ہیں دنیا سمٹ کر ایک موبائل فون تک آ گئی ہے۔ اب کوئی یہ کہے کہ اسے فلاں چیز کا علم نہیں تھا تو یہ اس کی سستی اور کاہلی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ یا پھر اپنی سوچ پر ایک خاص قسم کے پردے کی وجہ سے ہوگا۔ ورنہ اب نئی ایجاد ہوتی ہے تو اگلے چند دنوں میں پوری دنیا جان چکی ہوتی ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں بھی حیران کن طور پر دنیا پاکستان سے واقف نہیں اور ہم دنیا سے کہیں دور اپنی سوچوں میں جی رہے ہیں۔ وجہ اس کی ایک طرف دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے متعصب میڈیا ہے۔ اور دوسری طرف ریاست پاکستان میں عوام کی درست معلومات تک رسائی کا فقدان ہے۔
اگر دنیا ہمیں صحیح طرح نہیں سمجھ رہی تو اس میں بھی ہمارے حکمران طبقے کا دوہرا معیار اور ان کی غلطیاں ہیں اور ہمیں معلومات تک رسائی نہ دینے کا جرم بھی ہمارے حکمران طبقے کے سر ہے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کے عوام کے بنیادی حقوق میں یہ شامل ہوتا ہے کہ ان کی درست معلومات تک رسائی ہو اور یہ ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں پہلے دن سے ہی عوام کو جہاں دوسرے حقوق نہ ملے، درست معلومات تک رسائی کے حق سے بھی عوام کو محروم رکھا گیا ہے۔ ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ قائد اعظم کو لے جانے والی ایمبولینس کو کیا ہوا تھا۔ ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ ہمیں متحدہ پاکستان میں بنگالیوں کی شکایات کا کچھ علم تھا نہ ملک کے دو لخت ہونے کی کہانی کسی نے بتائی۔ بس اتنا بتایا گیا کہ کسی لیڈر نے تم ادھر ہم ادھر کہا تھا۔ کیا اس سے ملک ٹوٹ سکتا ہے؟ ملک تھا یا ریت کا گھروندا؟
بھٹو کی پھانسی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا اور ضیا الحق کے طیارے میں آموں کی پیٹی جہاز میں کس نے رکھوائی اور پیٹی کے اندر کیا رکھا ہم تو کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ بینظیر کی حکومت میں ان کے بھائی کو کس کے کہنے پر قتل کیا گیا اور بینظیر کو کس نے سر گاڑی سے باہر نکالنے کا مشورہ دیا اور کس نے ان پر گولی چلائی ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ نواز شریف کو دو تہائی اکثریت ہوتے ہوئے اقتدار سے کیسے محروم کر دیا گیا اور تمام سیاستدانوں پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کیوں ثابت نہ کیے جا سکے اور ان کو سزاؤں سے کون بچاتا ہے۔ ہمیں کچھ پتا نہیں ہے۔ ہمیں تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اقتدار کس کے پاس ہے۔ کیونکہ وزیراعظم کوئی اور ہوتا ہے، اندرونی اور بیرونی فیصلے کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہوتا ہے۔
ہمارے عوام تک جو بیانیے پہنچتے ہیں ان کے مطابق پاکستان ہی دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے اور ہم ہی وہ پاک صاف قوم ہیں جو مرنے کے بعد ہر صورت جنت میں جائیں گے۔ دوسری طرف دنیا ہمارے بارے کیا سوچتی ہے۔ یہ وہی جانتے ہیں جو مختلف ممالک میں جاتے، وہاں اپنے پاسپورٹ کی قدر دیکھتے اور وہاں رہ کر مشاہدات کرتے ہیں۔ ہمارے بارے دنیا کی سوچ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں سیاحت کے لیے کتنے لوگ آتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے۔ جس میں ہر طرح کے موسم آتے ہیں۔ جس کے اندر آثار قدیمہ کی بہت پرانی تاریخ ہے۔ جس کے شمالی علاقے قدرتی حسن سے مالا مال ہیں۔ اور پاکستان کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ مہمان نواز اور دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہاں سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پاکستان کا تصور ایک دہشت گرد ملک کے طور پر لیا جاتا ہے۔ جہاں لوگ مذہبی جنون میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں سیاحت کرنے والے پاکستان میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔
یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی لہر رہی ہے اور اب بھی کئی علاقوں میں دہشت گردی کے اکا دکا واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا 80 فیصد علاقہ بالکل محفوظ ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں ریپ کے اتنے زیادہ واقعات ہوتے ہیں کہ وہاں بھارتی خواتین محفوظ ہیں نہ غیر ملکی۔ بھارت میں مذہبی جنون بھی ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی غیر محفوظ ہیں، اسی طرح جنوبی افریقہ سمیت افریقہ کے کئی ممالک کے اندر جرائم کی شرح پاکستان سے دو سو گنا زیادہ ہوگی لیکن ان تمام ممالک میں ہر سال سیاحوں کی بہت بڑی تعداد جاتی ہے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں سیاحت ایک بہت بڑی انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اور دنیا کے ہر ملک کے بجٹ میں سیاحت کا حصہ ہوتا ہے۔ صرف مسلم ممالک کا جائزہ لیا جائے تو ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، ملائیشیا، انڈونیشیا اور وسط ایشیائی ریاستوں کی بہت بڑی آمدن کا ذریعہ سیاحت ہے۔ اگر ہماری حکومت دنیا کو پاکستان کی درست تصویر اور تصور دکھا سکے، اپنے سیاحتی علاقوں کی تشہیر کر دے اور سیاحوں کو صرف تحفظ کی ضمانت دے سکے تو اگلے چند برس میں لاکھوں سیاح اور اربوں ڈالر کا زر مبادلہ پاکستان میں آ سکتے ہیں۔ اور پھر دنیا کے سامنے ہماری درست تصویر بھی آ جائے گی اور سب جان جائیں گے کہ پاکستانی ایک اچھی قوم ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی نصاب اور بچوں کی تربیت کے نظام کو بھی درست سمت دینا ہوگی جس سے ہمارے نوجوان اپنے ذہنوں کو کشادہ کر کے سوچ سکیں اور دنیا کو درست طریقے سے سمجھ سکیں۔ کیونکہ جس طرح دنیا ہمیں بلاوجہ دہشت گرد سمجھتی ہے۔ اسی طرح ہم پاکستانیوں کے یورپ بارے کئی غلط تصورات ہیں۔ ہم خود کو کچھ زیادہ ہی پاک صاف سمجھتے ہیں اور دوسروں کو نجس سمجھتے ہیں۔ ہمیں اپنے رویوں اور اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب حکمران قوم کے سامنے سچ بولیں گے اور عوام کو درست معلومات فراہم کریں گے۔