معاشی انقلاب یا مکمل تباہی کی طرف پیش قدمی؟

پاک فوج کی کور کمانڈر کانفرنس نے ملک میں معاشی ترقی کی راہ میں حائل غیرقانونی رکاوٹوں کی روک تھام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کا عزم کیا ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف  نے لاہور اور کراچی میں ملک کے تاجروں و صنعتکاروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں  نے   ایکسچینج ریٹ میں شفافیت کے  لئے  منی ایکسچینج  کو ٹیکس نیٹ میں  لانے کی ضرورت  پر زور دیا تھا۔

پاک فوج کا کہنا ہے  کہ ’معاشی استحکام، نمو اور  ایسی تمام غیرقانونی سرگرمیاں کی روک تھام کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے جن  سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔  کانفرنس میں پائیدار امن کے لیے بلوچستان کے سرحدی اضلاع اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ ایک طرف آرمی چیف اور پاک فوج ملکی معیشت کی بحالی کے لئے نئی سرگرمی سے سامنے آئے  ہیں تو دوسری طرف ملک میں انتخابات کے حوالے سے بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک روز پہلے پاکستان بار کونسل نے صدر عارف علوی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی مشاورت کے بغیر 10 نومبر کو  قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔ ایوان صدر سے اس  بارے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

آج وکلا کے سیمینار سے  خطاب کرتے  ہوئے  سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری اور  سینئر وکیل اعتزاز احسن نے انتخابات منعقد نہ کروانے کا سارا الزام الیکشن کمیشن پر عائد کیا۔ عابد زبیری کا دعویٰ  تھا کہ  سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود  پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات نہ کروانے میں ناکام رہنے پر چیف الیکشن کمشنر  سکندر سلطان راجہ کے خلاف آئین  کی شق  6 کے تحت مقدمہ قائم کیا جائے۔ کیوں کہ وہ عدلیہ کے حکم کی خلاف ورزی اور آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔   الیکشن کمیشن پر اس وقت بھی   فوری  طور سے انتخابات کروانے کے لئے شدید دباؤ ہے۔   آئین کے مطابق قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد  90 دن کی مدت میں انتخابات ہونے چاہئیں لیکن الیکشن کمیشن نے نئی مردم شماری کو عذر بناکر پہلے نئی حلقہ بندیوں کا کام مکمل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسی لئے ابھی تک انتخابی شیڈول سامنے نہیں آیا۔  نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ  تویہ بھی کہہ چکے ہیں کہ  فوری طور سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں  ہوسکتا۔

مبصرین  بھی نئے انتخابات کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہیں۔ اگرچہ   بعض اندازوں کے مطابق فروری میں نئے انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں لیکن اس بارے میں یقین سے کوئی بھی بات نہیں کہی جاسکتی کیوں کہ الیکشن کمیشن انتخابات کا قصد ظاہر کرنے کے باوجود کوئی ٹائم فریم دینے سے گریز کررہا ہے۔ اس دوران حکومت انتظامی اصلاحات وٹیکس وصولی اقدامات   کا قصد کررہی ہے اور آرمی چیف تن دہی سے  ملکی معیشت کی بحالی  کے لئے سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور اور کراچی میں  انہوں نے تاجروں سے  طویل  ملاقاتیں کیں اور معاشی بحالی کے متعدد آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔  اس کے علاوہ آج  259 ویں  کور کمانڈر کانفرنس میں بھی  معیشت کی بحالی ہی اہم موضوع تھا ۔  کانفرنس نے معاشی بے قاعدگی ختم کرنے کے لئے بھرپور  تعاون کا یقین دلایا ہے۔  نگران حکومت کے ساتھ ایسے تعاون کا اعلان اس تاثر کو تقویت دینے کا سبب بنے گا کہ فوجی  قیادت شاید ملکی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے  تک موجودہ نگران سیٹ اپ کو ہی فعال دیکھنا چاہے گی تاکہ ایسے مشکل اور اہم فیصلے کیے جاسکیں  جومنتخب نمائیندے ووٹروں کی ناراضی کی وجہ سے  کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس لیے  ایسے معاملات نگران  حکومت کے دور میں ہی   نمٹا دیے جائیں۔

آرمی چیف نے تاجروں کے ساتھ ملاقاتوں میں  خاص طور سے  سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے  ایک سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ  کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے   دس سے بیس ارب ڈالر کے تعاون کے اشارے دیے ہیں۔  نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ بھی تسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ دوست عرب ممالک  پاکستان میں کثیر سرمایہ کاری کا وعدہ کررہے ہیں اور جلد ہی اس کا آغاز ہوجائے گا۔  گویا ملک  میں اگرچہ انتخابات کا اہتمام کرنے کے لئے  نگران حکومت قائم کی گئی ہے۔ بادی النظر میں اس حکومت کی آئینی عمر  90  دن ہے لیکن  مختصر مدت کے  لئے قائم ہونے والی  یہ حکومت  اور پاک فوج ملک میں ایسے معاشی   اقدامات  کا ارادہ ظاہر  کررہی ہیں، جنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے طویل المدت منصوبہ بندی اور نگرانی کے لئے  ٹھوس قانونی جواز  پر  قائم حکومت  ضروری ہے۔ 

تاہم اس بارے میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ عرب ممالک کو اس سے غرض نہیں ہے کہ پاکستان  میں آئین کے مطابق  کوئی حکومت قائم ہوتی یا نہیں لیکن وہ ملک   میں امن و استحکام کے لئے فوج کی یقین دہانی  ضروری سمجھتے  ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر بظاہر یہ یقین دہانی کروارہے ہیں، اسی لئے وہ خود اور نگران وزیر اعظم یقین سے عرب ممالک کی طرف سے ایسی کثیر سرمایہ کاری کا اعلان کررہے ہیں جس پر عمل درآمد کی صورت میں ملکی معیشت تیزی سے ترقی کرسکتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں عوام  کی سیاسی پسند و ناپسند میں بھی تبدیلی آسکتی ہے ۔ پھر فوج بھی یہ کوشش کرے گی کہ وہ ایک بار پھر اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کے ذریعے کوئی ایسی حکومت قائم کروائے جو سرمایہ فراہم کرنے والے ممالک  کے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی تکمیل  میں  معاونت کرے۔

اگرچہ کثیر سرمایہ کاری اور ملکی معاشی بحالی  کے قصے دل خوش کن ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک  کے موجودہ  سیاسی و انتظامی بحران میں   امن و استحکام کا مقصد کیسے حاصل ہوسکے گا۔ کیا فوج تن تنہا طاقت کے زور پر مخالف آوازوں کو دبا کر  کوئی ایسا ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو سرمایہ کاروں کو مطمئن کرسکے تاکہ سرمایہ کی ترسیل میں کوئی مسئلہ نہ ہو اور عوام بھی خوشحالی کو دستک دیتا دیکھ کر اس صورت حال کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔    اور   بنیادی حقوق، قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے نعرے لگانے والے عناصر   شفاف انتخابات اور آئینی حکومت کے مقصد میں ناکام ہوجائیں گے۔  کیا پاکستان میں کوئی ایسا معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے کہ   عوام کی ساری  معاشی و سماجی پریشانیاں دور ہوجائیں اور اپنی خوشحالی اور ملکی ترقی کے نام پر وہ ووٹ کے ذریعے حکومت کرنے کے آئین حق پر مفاہمت کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے؟ یا معاشی بحالی کے نام پر جس جوش و خروش کا  مظاہرہ کیاجارہا ہے ، وہ ایک نئی ناکامی اور تباہی کا سبب بن  جائے  گا؟

جن دوست ممالک کے نام لے کر ایک سو ارب ڈالر لانے کا اعلان کیا جارہا ہے،  اگر ان  کی طرف سے  بھی ان وعدوں کی تصدیق ہوجائے تو ملک  کی منڈیاں ، سرمایہ دار اور  تاجر بہتری کی امید میں  سماجی  بے چینی کم کرنے میں ضرور اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور اگر  دو چار ماہ میں اس سرمایہ  کا کچھ حصہ بھی ملک میں آنا شروع ہوگیاتو  معاشی صورت حال اور سیاسی رویے تبدیل ہونے  کا قوی امکان  ہے۔ لیکن  ابھی تک زبانی اعلانات کے سوا کسی کے پاس کچھ نہیں ہے خواہ یہ  اعلانات و وعدے ملک کے طاقت ور ترین شخص آرمی چیف ہی کی طرف سے کیوں نہ کیے گئے  ہوں۔ ایسے میں  یہ اندیشہ بہر طور موجود رہے گا کہ  اگر سرمایہ کاری کے وعدے پورے نہ ہوئے یا ملک میں کوئی ایسی انقلاب آفرین  ساختیاتی  تبدیلیاں نہ لائی جاسکیں جو اربوں ڈالر کی کثیر سرمایہ کاری کو مفید  بنانے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لئے ضروری ہوتی ہیں تو  پھر پاکستان میں تصادم کی موجودہ صورت حال کا کیا حل تلاش کیا جائے گا۔

بدقسمتی سے  اس وقت کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے ۔  فوج نگران حکومت کے ساتھ مل کر ایک خاص ایجنڈے پر عمل کرنے کے درپے ہے لیکن اس کے مکمل خد و خال آرمی چیف اور ان کے چند ساتھیوں کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہیں۔  البتہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے اداروں کے  بارے میں شبہات پیدا ہورہے ہیں اور اداروں کے مابین اختلافات بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔  اسلام آباد ہائی کورٹ نے   آج  ہی  اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسروں کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا  ہے۔ ان اعلیٰ سول افسروں  پر  تحریک انصاف کے  لیڈروں  شہر یار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو عدالتی حکم کے باوجود حراست میں رکھنے کا ملزم سمجھا جارہا ہے۔  ایسی ہی کارروائی لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے بھی دیکھنے میں آسکتی ہے جہاں ایک جج نے پرویز الہیٰ کو گرفتار نہ کرنے کے حکم کی خلاف ورزی پر  بعض پولیس افسروں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کیے  ہیں۔   عدالتیں البتہ یہ سوچنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ کیا  درمیانے درجے کے چند افسروں کے خلاف توہین عدالت کے الزام میں کارروائی، سیاسی لیڈروں اور  انسانی حقوق کے لئے سرگرم عناصر کے خلاف ریاستی  اقدامات کی روک تھام  کرسکے گی؟ اس سے پہلے لا  پتہ افراد کے معاملات میں اعلیٰ عدلیہ بار بار کی تنبیہ اور دھمکیوں کے باوجود کوئی خاص تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت موجودہے۔  فوج اور نگران حکومت معاشی احیا کے نام پر جمہوری روایات کو کچلنے کے درپے ہیں۔ عدلیہ درمیانی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔   اس سے  اداروں کے درمیان بدگمانی میں تو  اضافہ ہورہا ہے لیکن نہ تو عوام کا احساس محرومی ختم ہورہا ہے اور نہ ہی انصاف کے تقاضے پورے ہو رہےہیں۔ فی الوقت سیاسی  عناصر   صورت حال کا جائزہ لینے اور  کوئی حکمت عملی اختیار کرنے کے لئے  مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں۔  سیاسی پارٹیوں میں اختلافات میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اتحادی حکومت میں شامل  پارٹیاں بھی ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کی تیاری کررہی ہیں۔

 کیا ان حالات میں  انتخابات ملک میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہوں گے۔  کیوں کہ اس کھیل کا کوئی بھی کردار اس اہم جمہوری عمل کے لئے تیاری کرتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے میں وکیلوں کے جوشیلے نعرے کیسے عوام کے حق حکمرانی کا مقصد حاصل کرسکتے ہیں؟