ہماری شرح خواندگی کیوں نہیں بڑھ رہی؟
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 08 / ستمبر / 2023
8ستمبر پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواندگی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے کروڑوں (77کروڑ)ناخواندہ افراد کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔
عالمی سطح پر جائزہ لیں تو مجموعی طور پر دنیا کا لٹریسی ریٹ یا شرح خواندگی کافی بہتر یعنی86فیصد سے زائد ہے تاہم دنیا کے مختلف خطوں اور قوموں کی شرح خواندگی میں نمایاں فرق ہے۔
ترقی یافتہ قوموں سمیت دنیا کے31ممالک میں لٹریسی ریٹ99فیصد ہے جب کہ گرین لینڈ، ناروے،اینڈورا، جنوبی کوریا اور ازبکستان میں شرح خواندگی100فیصد ہے۔پچاس فیصد سے کم شرح خواندگی والے ملکوں میں نمایاں نام افغانستان، مالی، جنوبی سوڈان، چاڈ اور نائجر ہیں۔افغانستان کی شرح خواندگی43فیصد جب کہ نائجر کی37فیصد ہے۔ ان پڑھ بالغوں کی سب سے زیادہ تعداد جنوبی ایشیا، مغربی ایشیااور افریقی ممالک میں ہے۔قوموں کے حوالے سے دیکھیں توعیسائی اقوام میں خواندگی کی شرح90فیصد سے زائد ہے جب کہ مسلمانوں میں یہ شرح60فیصد ہے۔15عیسائی ممالک ایسے ہیں جہاں شرح خواندگی100فیصد ہے جبکہ مسلم ممالک میں ایک بھی ایسا ملک نہیں جس کی شرح خواندگی100 فیصدہو۔
ہمارے ہاں شرح خواندگی جانچنے کا پیمانہ یہ لیا جاتا ہے کہ فرد انگریزی،اردو یا کسی علاقائی زبان میں کوئی اخبار یا میگزین پڑھ سکے، ایک سادہ خط لکھ سکے اور ریاضی کی بنیادی جمع تفریق کر سکے تاہم اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت یا یونیسکو کے مطابق فرد کی خواندگی جانچنے کا معیار کسی بھی تحریری یازبانی مواد کو پہچاننے، سمجھنے، تشریح کرنے، تخلیق، رابطہ کاری اور شمار کرنے کی صلاحیت ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں خواندگی جانچنے کا معیار ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کافی نرم ہے لیکن اس کے باوجود ہماری شرح خواندگی62.8فیصد کے لگ بھگ ہے جو کہ دنیا کے مقابلے میں بہت نیچے ہے۔خطے کے ممالک میں صرف افغانستان ہی ہم سے نیچے ہے۔بنگلہ دیش اور بھارت کی شرح خواندگی بلترتیب75ور77فیصد ہے۔ایران میں خواندگی کی شرح 85فیصد جب کہ چین کی شرح خواندگی97فیصد کے قریب ہے۔
اگر دینا کے ترقی یافتہ ممالک پر محض ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کی ترقی کا اصل راز تعلیم ہی میں مضمر ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں شروع دن سے ہی تعلیم کے شعبے کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی جس کا یہ مستحق ہے۔اٹھارویں ترمیم کے بعد اگرچہ تعلیم صوبائی دائرہ عمل میں شامل ہے اور صوبے اپنے طور پر تعلیم کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم خرچ کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن اس کے باوجودگزشتہ سال کے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجموعی تعلیمی اخراجات کا تخمینہ مجموعی جی ڈی پی کاصرف 1.7فیصد تھا۔اقوام متحدہ کا تعلیم و ثقافت سے متعلق ادارہ یونیسکوترقی پزیر ممالک کو تعلیم کی مد میں کم از کم جی ڈی پی کا 4فیصد مختص کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ ناروے، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ایک ممالک اپنی جی ڈی پی کا چار فیصد سے بھی زائد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔دنیا بھرمیں بیشتر ریاستیں تعلیم کو یا تو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہیں یا پھر تعلیمی اداروں کو غیر منافع بخش تنظیموں کے تحت چلاتی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم جیسے اہم شعبے کو نجی شعبے کے سپرد کر کے تعلیم کو منافع بخش کاروبار بنا دیا گیاہے۔
آئین کے آرٹیکل 25اے کے تحت ریاست 5سے16سال تک کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہمارے ہاں نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی تعداد سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے زیادہ ہے جس کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ ریاست ہر بچے کومفت تعلیم دینے کے بنیادی فریضے میں بری طرح ناکام ہے۔ریاستی اور حکومتی سطح پر ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی میں ناکامی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے ہاں پڑھنے کی عمر کے 2 کروڑ 30لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جو کہ کسی بھی ایک ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ہمارے ہاں وقتاً فوقتاً اسکولوں سے باہر بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر مختلف قسم کے پروگراموں کا اجرا ہوتا رہا ہے لیکن حکومتوں کی قبل از وقت تبدیلی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان پروگرامز پر صیح طرح سے عمل درآمد نہیں ہو پاتا۔ایسا ہی ایک پروگرام سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے احساس تعلیمی وظائف کے نام سے شروع کیا تھا جس کے تحت وفاقی حکومت نے پاکستان کے تمام اضلاع میں غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کی تعلیم کی راہ میں حائل مالی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے بچوں کو پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطحوں پر سہہ ماہی تعلیمی وظائف دینے کا اعلان کیا تھا۔ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے دور میں اسی طرح کے ایک اور پروگرام کے تحت بھٹہ مزدور بچوں کو تعلیمی وظائف جاری کر کے خواندگی کی شرح کو محدود پیمانے پر بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی۔اس کے علاوہ مختلف ادوار میں انسانی ترقی کے قومی کمیشن سمیت مختلف اداروں کی جانب سے ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں خواندگی مراکز قائم کیے جاتے رہے ہیں لیکن ڈھاک کے تین پات کے مترادف نتیجہ کچھ بھی نہیں۔
تلخ حقائق یہ ہیں کہ خواندگی کو فروغ دینے کے لیے شروع کیے جانے والے ایسے پروگراموں کے باوجود ابھی تک سوا دو کروڑ سے زیادہ ببچے اسکولوں سے باہر ہیں۔گلوبل انوویشن انڈیکس کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق کم شرح خواندگی اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کم ہونے سے پاکستان تخلیقی صلاحیتوں کی کمی کا شکار ہے۔گزشتہ ایک دہائی سے ملک میں خواندگی کی شرح 60فیصد کی شرح پر جمود کا شکار رہنے کے بعد اب قدرے سست رفتاری سے بڑھنے لگی ہے۔اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شرح خواندگی 0.4فیصد بڑھ کر 62.8فیصد تک پہنچ گئی ہے۔دیہی علاقوں میں شرح خواندگی 54فیصد جب کہ شہروں میں 77فیصد ہے۔ہمارے ہاں ابھی بھی چھ کروڑ سے زائد افراد ایسے ہیں جو پڑھنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہیں۔صنفی، سماجی اور معاشی حالات اور رسم و رواج کی وجہ سے سندھ میں 58فیصد جب کہ بلوچستان میں 78فیصد لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔حرف آخر یہی کہ تعلیم کو ترجیحات میں سب سے نیچے رکھنے سے آزادی کے76برسوں بعد بھی ہمارے قریبا40فیصد لوگ ناخواندہ ہیں۔
ہمارے ہاں ریاست کے ’بڑوں‘کو دشمن کے بچوں کو تو پڑھانے کی فکر لاحق ہوئی لیکن اپنے بچوں کو پڑھانا ہماری ترجیح میں سرفہرست کبھی نہیں رہا۔آزادی کے76برسوں میں اگر ہم ہر سال ایک فیصد کے حساب سے بھی اپنے لوگوں کو خواندہ بنانے کی کوششیں کر لیتے تو آج ہماری خواندگی کی شرح76فیصد تک تو ضرور پہنچی ہوتی۔