سیاسی اشرافیہ کی مفاد پرستی سے فوج کی طاقت میں اضافہ ہؤا ہے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 08 / ستمبر / 2023
پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کا مطالبہ دہرایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے منتخب حکومت ہی اقدامات کرسکتی ہے۔ اس لئے انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات ہونے چاہئیں اور ان میں تحریک انصاف سمیت جو پارٹی بھی اکثریت حاصل کرتی ہے، اسے حکومت کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ میڈیا سے گفتگو میں فوج اور تحریک انصاف کے درمیان جاری چپقلش پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چئیرمین کا کہنا تھا کہ پہلے کٹھ پتلیاں عوام پر مسلط کی جاتی ہیں اور جب ان کٹھ پتلیوں نے عسکری تنصیبات پر حملے کیے تو انہیں سزا دینے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ’ کٹھ پتلیاں بنانے والوں کے لیے بھی واضح پیغام ہے کہ آپ کو بھی پاکستان کے عوام خبردار کرتے ہیں کہ ہمارے اوپر اس قسم کے تجربے کرنا بند کریں‘۔
انتخابات کے انعقاد اور سیاست میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما کی باتوں سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا لیکن بلاول بھٹو زرداری خود سولہ ماہ تک ایک ایسی حکومت میں وزیر خارجہ کے طور پر کام کرتے رہے ہیں جو فوج کی بالواسطہ اعانت سے ہی وجود میں آئی تھی۔ کسی سیاست دان کے ایسے رویے کو قبول نہیں کیا جاسکتا جو انتخابات سے پہلے اسٹبلشمنٹ مخالف ووٹر کو رجھانے کے لئے فوج کو کٹھ پتلیاں بنانے کا طعنہ دیتا ہے لیکن جب اقتدار کے کھیل میں حصہ لینے اور مفاد سمیٹنے کا موقع آتا ہے تو وہ فوج کے ہر کردار کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ ملکی سیاسی پارٹیاں اگر آئینی اصولوں کی بنیاد پر سیاست کریں اور کسی حکومت کے خلاف صرف اس لئے ریشہ دوانی کا حصہ نہ بنیں کہ اس سے انہیں فوری فائدہ حاصل ہوسکتا ہے تو ملک میں جمہوری نظام کے لئے بہتر حالات کا ر پیدا ہوسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک کے سیاسی لیڈروں کے قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ اسی لئے عوام کا اعتبار بھی کمزور ہورہاہے اور فوج کو بھی سیاسی بساط پر مرضی کے مہرے چلنے کا موقع ملتا ہے۔
ملک میں صرف تحریک انصاف ہی عسکری قیادت کا سہارا لے کر اقتدار تک نہیں پہنچی ۔ پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے بھی اپنے اپنے وقت پر اس طریقے کو حصول اقتدار کا سہل ترین راستہ سمجھا تھا۔ اسی لئے ملکی معاملات پیچیدہ اور مشکل ہوچکے ہیں اور ان کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ پیپلز پارٹی اگر واقعی ملک میں آئینی انتظام کی حامی ہے اور انتخابات کو ہی مسائل کا حل سمجھتی ہے تو اسے عمران خان کو تحریک اعتماد کے ذریعے ہٹا کر اقتدار میں حصہ داری کی کیا ضرورت تھی۔ وہ انتخابات کے مطالبے پر قائم رہ سکتی تھی یا جب عمران خان نے اپنے اقتدار کو لاحق خطرہ دیکھ کر قومی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا تھا تو وہ اس موقع کو غنیمت جان کر عوام کی رائے کے لیے میدان عمل میں اترنے پر آمادہ ہوتی۔ پاکستان جمہوری اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمان نے ایک روز پہلے ہی انکشاف کیاہے کہ اگر پیپلز پارٹی عدم اعتماد پر ضد نہ کرتی تو بہت پہلے انتخابات منعقد ہوجاتے لیکن آصف زرداری بہر صورت عمران خان کو شکست دے کر خود اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے۔
اس پس منظر میں پہلے بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کو اپنی یہ پوزیشن واضح کرنا چاہئے کہ ایک ایسے موقع پر جب عمران خان کی حکومت ناکام ہورہی تھی، تحریک انصاف ملک و قوم کو درپیش مسائل کا حل نہیں کرپارہی تھی ، اس حکومت کے بارے میں نت نئے اسکینڈل سامنے آرہے تھے تو کیاوجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی معیت میں دوسری سیاسی پارٹیاں فوری انتخابات کے مطالبے سے دست بردار ہوکر اسی اسمبلی کے ذریعے اقتدار کا حصہ بننے پر تیار ہوگئیں جسے وہ 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کا نتیجہ قرار دیتی تھیں۔ اس حوالے سے ایک دوسرے پر الزام تراشی ہی کافی نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمان سمیت سابقہ اتحادی حکومت میں شامل سب جماعتوں کو یہ واضح کرنا چاہئے کہ ایک منتخب حکومت کے خلاف عدم ااعتماد اگرچہ سیاسی قوتوں کا حق ہوتا ہے لیکن تحریک انصاف کے خلاف یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے بین الجماعتی اتحاد کو ساڑھے تین سال تک عمران خان کا ساتھ دینے والی متحدہ قومی تحریک اور بلوچستان عوامی پارٹی کا تعاون حاصل کرنا پڑا۔ ان پارٹیوں کو تحریک انصاف سے توڑنے کے لئے کون سی قوتیں اس وقت پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کو تعاون فراہم کررہی تھیں؟ اس سوال کا جواب بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری اور شہبا ز و نواز شریف کے علاوہ مولانا فضل الرحمان پر بھی واجب ہے۔ مولانا بعد از وقت پیپلز پارٹی پر الزام تراشی سے کوئی سیاسی مقصد حاصل نہیں کرسکتے ۔ انہیں یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے بارے میں پیپلز پارٹی کی ہٹ دھرمی کا جو قصہ اب سنا رہے ہیں، وہ اس وقت عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا گیا جب یہ اہم فیصلے کیے جارہے تھے جن کی وجہ سے ملکی معیشت مزید زیر بار ہوئی، بے چینی و بے یقینی میں اضافہ ہؤا اور عمران خان کی سیاسی مایوسی نے ایک بڑے بحران کو جنم دیا۔
اسے ستم ظریفی ہی کہا جائے گا کہ فوج کے تیا رکردہ منصوبے کا حصہ بن کر عمران خان نے ساڑھے تین سال تک اقتدار کے مزے لیے اور اس سے محروم ہونے کے بعد اب وہ اپنی سیاسی بقا کے لئے فوج ہی کے خلاف سیاسی محاذ آرائی کررہے ہیں۔ دوست دشمن سب جانتے ہیں کہ عمران خان کی جمہوریت پسندی بس اس حد تک ہی سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف ہے، جب تک یہی فوج تحریک انصاف کے ساتھ کسی نئے ’انتظام‘ کے نتیجے میں دوبارہ اسے اقتدار میں لانے کے لئے مدد فراہم کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری بھی اسی لئے اسٹبلشمنٹ کے خلاف بیانیہ مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ عمران خان کا فوج مخالف بیانیہ ملک کا سارا پاپولر ووٹ سمیٹ کر نہ لے جائے۔ اور وہ بھی اس میں اپنا حصہ وصول کرلیں ۔
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) ’ووٹ کو عزت دو ‘ کے عوض 16 ماہ اقتدار کے مزے لینے کے بعد اب اس سیاسی نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش کررہی ہے جو فوج مخالف سے فوج دوست ہونے کے سفر میں عوامی حمایت سے محرومی کی صورت میں اسے اٹھانا پڑا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کے پاس اب کوئی نیا بیانیہ نہیں ہے اسی لئے وہ انتخابات کے بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔جبکہ شہباز شریف وزیر اعظم کے طور پر اپنے آخری چند ہفتوں میں آرمی چیف کی خوشامد کے نئے ریکارڈ قائم کرکے خود کو مستقبل میں وزارت عظمی کا بہترین امید وار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ شہباز شریف کا یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو مسلم لیگ (ن) شاید ملکی تاریخ کے ایک نئے دھاندلی شدہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے لیکن اس کے عوض نواز شریف کو اپنے اور مریم نواز کے سیاسی مستقبل پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ پاکستان واپسی کے حوالے سے نواز شریف کو یہی سب سے بڑی مشکل درپیش ہے۔ انہیں طے کرنا ہے کہ بھائی کے ساتھ ’اتحاد‘ قائم رکھنے کے لئے کیا اب انہیں قربانی دینا ہوگی یا وہ رشتوں کو بھلا کر اصولی سیاسی مؤقف اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
اس سارے منظر نامہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیاسی لیڈر وں کی اسٹبلشمنٹ مخالف بیان بازی کسی سیاسی اصول کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اسے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے ایک طرف عوام کو بہلایا جاتا ہے اور دوسری طرف فوج سے ساز باز کرکے اقتدار میں حصہ لینے کا سمجھوتہ کیا جاتا ہے۔ سیاست دانوں کے اسی دوہرے کردار نے ملک میں فوج کی سیاسی و معاشی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ اسی لیے جو عبوری حکومت انتخابات کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی تھی ، وہ معاشی بحالی و سرمایہ کاری کے نام نہاد منصوبوں میں فوج کی بی ٹیم کا کردار ادا کررہی ہے۔ اور پیپلز پارٹی سمیت جو پارٹیاں اس وقت بروقت انتخابات کی دہائی دے رہی ہیں، چند ماہ پہلے وہی پنجاب اور خیبر پختون خوا میں آئینی مدت کے اندر انتخابات میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔ بلاول بھٹو زرداری اس وقت تو فوج کو سیاسی کٹھ پتلیاں بنانے کا طعنہ دے رہے ہیں لیکن ان کی پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر گزشتہ اسمبلی کے آخری دنوں میں ایسے قوانین منظور کیے تھے جس سے ملکی معاملات پر فوج اور ریاستی اداروں کی دسترس مضبوط ہوئی ہے۔
ملک میں ضرور بروقت انتخابات ہونے چاہئیں۔ شفاف انتخابات بھی آئین کا تقاضہ اور عوام کا حق ہے لیکن یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک سیاسی لیڈر وں کا مطمح نظر محض اقتدار کی سیاست ہوگا اور وہ ملکی معاملات کی بہتری اور آئینی تقاضوں کے مطابق جمہوری نظام قائم کرنے کے اصول کو نیک نیتی سے قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت ملک میں ریاستی جبر اور فوجی قیادت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے لیکن فوج کو یہ طاقت سیاسی جماعتوں کی باہمی جنگ اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان اور تحریک انصاف کو ’گھبرانا نہیں ہے‘ کا مشورہ دیا ہے۔ حالانکہ ایک ذمہ دار سیاسی لیڈر کے طور پر انہیں عمران خان کی مشکلوں کا تمسخر اڑانے کی بجائے ، ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی ذیادتی کو مسترد کرکے مطالبہ کرنا چاہئے تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت کو رہا کیا جائے، ان کے خلاف جعلی مقدمے ختم کیے جائیں اور ملک میں ایک بار پھر کسی ایک سیاسی پارٹی کو تنہا کرکے تباہ کرنے کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں اس مشکل کا سامنا کرچکی ہیں۔ لیکن اب وہ تحریک انصاف کے خلاف اقدامات کو اپنی سیاسی کامیابی کے لئے نیک شگون سمجھ کر جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے انحراف کررہی ہیں۔ ایسی سیاسی اشرافیہ کے ہوتے ملکی سیاست سے فوج کے اثر و رسوخ کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے؟