مراکش میں7.2 شدت کا زلزلہ، 820 افراد ہلاک

  • ہفتہ 09 / ستمبر / 2023

مراکش میں گزشتہ شب آنے والے خوفناک زلزلے نے ہر طرف تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں تقریباً 820 ہلاک اور دیگر 672 افراد زخمی ہوئے ہی۔ سینکڑوں عمارتیں منہدم ہوگئیں اور ہزاروں شہریوں کو اپنے گھروں سے بھاگنا پڑا۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ نے وزارت داخلہ کی سرکاری ٹی وی پر رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ یہ مرنے والوں کی ابتدائی تعداد ہے جبکہ واقعہ میں 672 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 205 کی حالت تشویشناک ہے۔ ایک مقامی عہدیدار نے بتایا کہ زیادہ تر اموات پہاڑی علاقوں میں ہوئیں جہاں تک ریسکیو کے لیے پہنچنا مشکل ہے۔

زلزلے کے مرکز کے قریب ترین موجود شہر مراکیچ کے رہائشیوں نے بتایا کہ پرانے شہر میں کچھ عمارتیں گر گئی ہیں جوکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ مقامی ٹیلی ویژن پر تباہ شدہ کاروں پر پڑے ملبے کے ساتھ گرے ہوئے مسجد کے مینار کی تصاویر نشر کی گئیں۔ نامعلوم مقامی ذرائع کے مطابق خوفناک زلزلے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

زلزلے کے مرکز کے قریب پہاڑی گاؤں آسنی کے رہائشی مونتاسر ایتری نے بتایا کہ وہاں زیادہ تر مکانات کو زلزلے کے سبب نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور لوگ گاؤں میں دستیاب ذرائع کا استعمال کرکے انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید مغرب میں واقع تاروڈنٹ کے قریب ایک استاد حامد افکار نے کہا کہ انہیں اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا، زلزلے کے بعد آفٹر شاکس بھی آئے تھے۔ زمین تقریباً 20 سیکنڈ تک ہلتی رہی، جب میں دوسری منزل سے نیچے کی جانب بھاگا تو اس وقت دروازے خود بخود کھل اور بند ہورہے تھے۔

مراکش کے جیو فزیکل سینٹر نے بتایا کہ زلزلہ اطلس کے علاقے ایگھل میں آیا جس کی شدت 7.2 تھی۔ امریکی جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 6.8 بتائی اور کہا کہ یہ زلزلہ 18.5 کلومیٹر (11.5 میل) کی نسبتاً کم گہرائی میں آیا۔

ایگھل، ایک پہاڑی علاقہ ہے جس میں چھوٹے کاشتکاری والے دیہات ہیں، شہر مراکیچ سے تقریباً 70 کلومیٹر (40 میل) جنوب مغرب میں ہے۔ زلزلہ رات 11 بجے کے بعد آیا۔  زلزلے میں متعد مکانات گر کر تباہ ہوگئے اور لوگ ہاتھوں سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں اور ریسکیو کے لیے مشینری کی آمد کے منتظر ہیں۔

قدیم شہر کی دیوار کی فوٹیج میں سڑک پر پڑے ملبے کے ساتھ ایک حصے پر اور گرے ہوئے حصوں میں بڑی دراڑیں دکھائی دیں۔ مراکش کے ایک اور رہائشی براہیم ہمی نے کہا کہ اس نے پرانے شہر سے ایمبولینسوں کو نکلتے دیکھا اور کئی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ لوگ خوفزدہ ہیں اور زلزلے کے ایک اور جھٹکے کے خوف سے گھروں سے باہر ہی موجود ہیں۔

زلزلے کے فوری بعد سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز شیئر کی گئیں، جن کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ ویڈیو میں سینکڑوں خوفزدہ لوگوں کو شاپنگ سینٹر، ریسٹورنٹس اور اپارٹمنٹس سے باہر نکلتے اور باہر جمع ہوتے دیکھا گیا۔ گلوبل انٹرنیٹ مانیٹر ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق بجلی کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے مراکیچ میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی منقطع ہوگئی۔

مراکش کے میڈیا کے مطابق یہ ملک میں اب تک کا سب سے خوفناک زلزلہ تھا۔ زلزلے کے جھٹکے پڑوسی ملک الجزائر میں بھی محسوس کیے گئے۔ الجزائر کے سول ڈیفنس نے کہا کہ ان جھٹکوں سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

نگران وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شدید زلزلے سے متاثر ہونے والوں کے لیے ہمارے دل دکھی ہیں۔ پاکستان اس مشکل وقت میں مراکش کی ہر ممکن مدد کرے گا۔ دنیا کے دیگر لیڈروں نے بھی مراکش کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔