ایک زمین، ایک کنبہ اور ایک مستقبل
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 09 / ستمبر / 2023
جی 20 دنیا کے امیر ترین ممالک یا گروپ کی سربراہی پچھلے برس بالی میں بھارتی وزیراعظم نریندرامودی کو سونپی گئی تھی۔ 9ستمبر 2023 کو اس کی اٹھارویں دو روزہ کانفرنس نیو دہلی کے نوتعمیر شدہ کنونشن سنٹر بھارت منڈیان میں ہورہی ہے۔
اس کا سلوگن ہے ’ایک زمین، ایک فیملی اور ایک فیوچر‘۔ بھارتی حکومت نے اس سلوگن کے ساتھ ہی اسے ”وائس آف گلوبل ساؤتھ“ کا نام دیا ہے۔ آج بھارت اس مقام تک کیسے پہنچا ہے کہ دنیا کے خوشحال ترین ممالک کی سربراہی کرے۔ اس سربراہی کانفرنس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور اس میں دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے کون کون سے حکمران شریک ہیں۔ نیز اس سے بھارت اور دیگر ممبر ممالک کو کون سی کامیابیاں حاصل ہوں گی۔ اس کا جائزہ لینے سے قبل یہ دیکھتے ہیں کہ جی 20 ہے کیا اور اس میں کون سے طاقتور ممالک شامل ہیں؟
جی 20 دراصل جی 8 اور جی 7 ہی کی ایک طرح سے ایکسٹینشن یا توسیعی تنظیم ہے جس میں ابتداً امریکا، روس، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور جاپان شامل تھے۔ جون 1999 میں جرمنی کے شہر کولون میں ان جی 8ممالک کا اجلاس ہوا تو اس میں یہ طے پایا کہ اس میں دیگر مضبوط معیشتوں کو بھی شامل کرلیا جائے۔ یوں 26ستمبر 1999 کو جی20 کی بنیاد رکھی گئی اور اس کا پہلا باضابطہ اجلاس دسمبر 1999 کو جرمنی ہی کے شہر برلن میں منعقد ہوا جس میں دنیا کے معاشی طور پر مضبوط ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی۔ یہ کل 19ممالک اور ایک یورپین یونین پر مشتمل ہے۔ ان انیس ممالک میں ابتدائی آٹھ ممالک یعنی امریکا، روس، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی اور جاپان کے علاوہ شامل ہیں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، چائنہ، انڈیا، جنوبی کوریا، میکسیکو، انڈونیشیا، سعودی عرب، ترکی، ساؤتھ افریقہ بمع یورپی یونین شامل ہیں۔
ان ممالک کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا کی اقتصادی پیداوار کا 85فیصد اور عالمی جی ڈی پی کا 80فیصد ان طاقتور ممالک کے پاس ہے۔ عالمی تجارت کا اسی فیصد انہی کے کنٹرول میں ہے اور یہ پوری دنیا کی دو تہائی آبادی کے حاملین ہیں۔ افریقی یونین کو بھی اس میں مستقل گیسٹ کے طور پر مدعو کیاجاتا ہے عالمی مالیاتی فنڈ سپین، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، یو این انٹرنیشنل بزنس انسٹیٹیوٹ ایشیا پیسیفک کوآپریشن ورلڈ بنک آسیا،
کو بھی مستقل مہمان کی حیثیت حاصل ہے۔ اس دفعہ اٹھارویں سمٹ میں بھارتی وزیراعظم نریندرامودی سے سنگاپور ماریشس، نائجیریا، مصر اور عمان کو بھی خصوصی طور پر سربراہی کانفرنس میں مدعو کیا ہے۔ اس میں ان تمام ممالک کے مرکزی سٹیٹ بنکوں کے سربراہان بھی شرکت کرتے ہیں کیونکہ گروپ کا مقصد یا ٹارگٹ ہی عالمی اقتصادیات کا کنٹرول اور مالیاتی استحکام ہے۔ جس میں تجارت کا فروغ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
غذائی قلت پر قابو پانا، پائیدار ترقی، موسمیاتی فنڈنگ گلوبل وارمنگ، ڈیجیٹل تبدیلی سیاحت کا فروغ اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی کاوشیں بھی شامل ہیں۔ بلاشبہ گروپ 20 کو عالمی طاقتوں کی آویزش میں کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ موسمیاتی بحران میں تیزی کے ایشوسے بھی بڑھ کر یوکرین تنازعہ اس وقت چھایا ہوا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا ایک نوع کے بحرانی دور سے گزر رہی ہے۔ بڑے بڑے ممالک کو بھی توانائی اور مہنگائی کے مسائل درپیش ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے صدر پیوٹن خود دہلی نہیں پہنچے بلکہ انہوں نے اپنے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو بھیجا ہے اور ویسے بھی وہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں اپنے جنگی جرائم کی وجہ سے مطلوب ہیں۔ امریکی و مغربی ممالک اس کانفرنس میں پوری کوشش کریں گے کہ روس کے خلاف کسی نوع کی مذمتی قرار داد منظور کروائیں لیکن چائنہ اور بھارت اس میں مزاحمت کریں گے۔
مودی کے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران بھی اس نوع کا ایشو کھڑے ہوا لیکن وزیراعظم مودی نے روس پر تنقید کرنے کی بجائے اس بیان پر اکتفا کیا کہ یوکرین کی خودمختاری پر حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ چینی صدر شی بھی خود اس کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔ ان کی نمائندگی چینی وزیراعظم کررہے ہیں۔ اس کی وجوہ کچھ واضح ہیں اور کچھ غیر واضح۔ اندرونی معاملات کے علاوہ بیرونی طور پر بالخصوص ان دنوں امریکا اور بھارت کے ساتھ ایک نوع کا تناؤ چل رہا ہے۔ مئی میں جو جی ٹونٹی ٹورازم ورکنگ گروپ میٹنگ سری نگر میں منعقد ہوئی تھی، چائنہ نے اس میں بھی یہ کہتے ہوئے شرکت نہیں کی تھی کہ یہ متنازع خطے میں ہورہی ہے۔ چین کے یہاں اقصائے چن اور سرحدی تنازعات بھی چل رہے ہیں۔ اب یہ پہلا موقع ہے کہ صدی شی خود نہیں پہنچے اس کے باوجود سری نگر کانفرنس کامیاب رہی تھی اور تو اور متحدہ عرب امارات نے وہاں اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کرتے ہوئے تجارتی مراکز اور شاپنگ مالز شروع کروائے۔
جی20 سمٹ میں اگرچہ دیگرسپر پاورز کے قائدین نئی دہلی پہنچے ہیں، بالخصوص برطانوی وزیراعظم رشی سونک، اتنی بڑی ذمہ داری پر فائز ہونے کے بعد پہلی مرتبہ سرکاری دورے پر بھارت آئے ہیں۔ چونکہ ان کی پہچان ایک بھارت نژاد ہندو کی بھی ہے اس لیے عوامی سطح پر یہاں ایک نوع کی خاص اہمیت انہیں حاصل ہے۔ لیکن وزیراعظم مودی سب سے زیادہ اہمیت امریکی صدر جوبائیڈن اور سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کو دے رہے ہیں۔ اور بھارت میں اُن کا قیام بھی زیادہ ہے۔ بائیڈن نے بھارت سے ویتنام کے دورے پر پہنچنا ہے اور ہم پاکستانی تو اب اس پوزیشن میں نہیں رہے ہیں کہ امریکی صدر ہمیں بھی ایسی کسی اہمیت کے قابل سمجھیں، اور یہاں آئیں۔ البتہ سعودی کراؤن پرنس کی تشریف آوری کے لیے ہم لوگ ضرور پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں اور دعائیں مانگ رہے ہیں کہ سرکارِ مدینہ انہیں یہاں بھیج دیں۔
ہمارے بالمقابل بھارت کو آج دنیا میں وہ حیثیت حاصل ہوچکی ہے جس کا پون صدی قبل ہمارے قائدین نے شاید تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ حال ہی میں چندریان 3 کی کامیابی نے بھارت کو جس طرح پوری دنیا میں عزت و عظمت بخشی ہے آج جی20 کی بھرپور کامیابی نے اس کا عالمی طاقت کی حیثیت سے امیج مزید بڑھادیا ہے۔ اتنی بڑی عالمی قیادت کی دہلی آمد اور بھارتی ستائش نے ایک ارب چالیس کروڑ عوام میں ایک نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ اس موقع پر بھارتی وزیراعظم مودی نے عالمی برادری کو جو نیا سلوگن اور نیا لوگو دیا ہے وہ دلچسپ ہے: کنول کے پھول کی رونمائی کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ کنول کی سات پنکھڑیاں دنیا کے سات براعظموں کی نشاندہی کررہی ہیں۔ کنول کا پھول انڈین سولائزیشن کے افسانوی ورثے، عقیدے اور حکمت کا عکاس ہے۔ ہمارا منتر: ایک دنیا، ایک کنبہ اور ایک مستقبل ہے۔ وزیراعظم مودی نے کرونا پس منظر میں مزید کہا کہ حالات کیسے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں، کنول کے پھول کھلتے ہی رہتے ہیں۔ میں اس نوع کے عالمی ایونٹس کو محض سرکار تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، اپنے عوام کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔
ایک زمانہ تھا جب ہمارے بہت سے عرب ممالک بھارت کو اتنی بڑی مسلم آبادی کے باعث او آئی سی میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پاکستان کے شدید دباؤ اور احتجاج کے باعث یہ ممکن نہ ہوسکا مگر آج ہمارے معاشی طور پر خوشحال یا امیر مسلم ممالک اسی بھارت کو ہم سے کہیں زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ یہ وہ فرق ہے جو جنونیت کی راہ اپنانے اور شعوری و سائنٹیفیک ترقی کرنے میں ہے۔ عصرِ حاضر میں عزت دار وہ ہے جس کے گھر خوشحالی ہے۔ پنجابی محاورہ ہے جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔ لہٰذا ان بدلتے حالات میں درویش کا اپنی قوم کے مؤثر طبقات کو مشورہ ہے کہ وقت کی آواز سنو، بدلتے حقائق کو محض پروپیگنڈے کے زور سے نہی چھپایا جاسکتا۔ اپنی روایتی و بوسیدہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی فرماؤ۔ ہم بھارت سے کیوں جلن، حسد یا غصہ محسوس کریں؟
ہم صدیوں اکٹھے رہے ہیں آج بھی ہم سے زیادہ مسلمان وہاں بس رہے ہیں۔ ہماری تہذیب و ثقافت اور تاریخ ایک ہے۔ ہمارا یہ خطہ ایک ہے۔ آج عالمی سطح پر اُن کا یہ سلوگن ابھرا ہے ’ایک زمین ایک کنبہ اور ایک ہی مستقبل‘، اس کی معنویت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔