کیا بلاول و آصف زرداری اختلاف محض نورا کشتی ہے؟

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے 90  دن کے اندر انتخابات کروانے کے مؤقف پر اصرار کیاہے اور کہا کہ آصف زرداری گھر کے بڑے ہیں لیکن پارٹی کے فیصلے صرف اس سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرتی ہے۔ کمیٹی نے  قانونی ماہرین کے مشورہ  پر ہی 90 دن میں انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان  قیادت ہی  ملک کو درپیش متنوع مسائل  حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ باتیں بدین میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ ان سے  آج صبح پارٹی کے معاون چئیرمین آصف علی  زرداری کے ایک بیان پر تبصرہ کے لیے کہا گیا تھا جو انہوں نے سماجی ویٹ سائٹ ایکس پر جاری کیا تھا۔  آصف زرداری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن  نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندی  کروانے کا پابند ہے۔ انہوں نے آئین کے مطابق انتخابات کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ پارٹی کو الیکشن کمیشن پر پورا اعتماد ہے۔ انہوں نے  پارٹی سیاست سے  بلند ہوکر  معاشی بحالی کے لیے کام کرنے کی ضرورت  پر بھی زور دیا تھا۔  ان کا کہنا تھا کہ ’ ملک اس وقت ایک معاشی بحران سے گزر رہا ہے جس کے لیے ہم سب کو سیاست کے بجائے معیشت کی فکر پہلے کرنی چاہیے کیونکہ یہ ملک ہے تو ہم سب ہیں‘۔

آصف زرداری کے اس بیان کو گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کے اس مطالبے سے متصادم سمجھا جارہا تھا جس میں انہوں نے 90 دن کے اندر انتخابات کروانے پر زور دیا تھا۔ آج بدین میں میڈیا سے بات چیت کے دوران صحافیوں نے ان سے اسی حوالے سے سوال کیے ۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ پارٹی پالیسی اور حکمت عملی میں آصف زرداری کا مؤقف حرف آخر نہیں ہے  البتہ گھر  کے معاملات میں ، انہیں  حتمی حیثیت حاصل ہے۔ پارٹی کے فیصلے   کارکن اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کرنے کی مجاز ہے۔  گزشتہ ماہ  سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس  میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانے پر زور دیا گیا تھا۔  اس اجلاس کی صدارت انہوں نے اور آصف زرداری نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ اجلاس کے دوران قانونی ماہرین نے بتایا تھا کہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی تحلیل  ہونے کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند روز میں سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا نیا اجلاس ہونے والا ہے۔ اگر کسی کو کوئی اختلاف ہے تو وہ کمیٹی کے سامنے اپنی رائے رکھ سکتا ہے‘۔

یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے  پارٹی معاملات میں آصف زرداری کی اتھارٹی کو چیلنج  کیا ہے اور یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ وہ خود  پیپلز پارٹی کے چئیرمین کے طور پر  آصف زرداری کی بجائے  پارٹی کی سنٹرل  ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں پر عمل کرنے کے  پابند ہیں۔   بلاول کی یہ بات یوں بھی خوش آئیند ہے کہ وہ اپنی پارٹی میں  انفرادی یا خاندانی اجارہ داری کی بجائے اداروں کی اہمیت اجاگر کررہے ہیں۔ یہ اصولی مؤقف ملک میں وسیع تر جمہوری مزاج کے فروغ کے لئے  بے حد اہم ہے۔ اس سے اس تاثر کی بھی نفی ہوتی ہے  کہ ملک کی سب  سیاسی پارٹیوں میں موروثیت ہے اور ایک ہی خاندان کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔ اب اگر بلاول بھٹو زرداری ایک اصولی سیاسی مؤقف پر  پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے فیصلوں کو اپنے والد  کی رائے پر فوقیت دینے کی  بات کرتے ہیں تو یہ ایک حوصلہ افزا د سیاسی پیش رفت ہے۔  البتہ  ان چہ میگوئیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ  پارٹی کے دونوں بڑے جو  رشتے میں باپ اور بیٹا بھی ہیں، ملی بھگت سے   اہم سیاسی معاملات میں  ایسے مختلف بیان دے رہے ہیں جن سے  کوئی ایک پوزیشن واضح نہ ہو اور  حالات کے مطابق مؤقف تبدیل کرلیا جائے۔  البتہ اس قسم کی رائے   ’سازشی تھیوری‘ کا سراغ لگانے والے مزاج کی  نشاندہی کرتی ہے۔ اس لئے اصولی طور سے اس پوزیشن  کا جائزہ لینا چاہئے جو ان دونوں لیڈروں کے بیانات میں واضح ہوکر سامنے آئی ہے۔

اس دوران میں یہ سیاسی اشارے بھی  سامنے آئے ہیں کہ   مقررہ آئینی مدت میں انتخابات کا مطالبہ کرنے پر  پیپلز پارٹی کو اسٹبلشمنٹ کی ناراضی کا سامنا ہے۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف واضح ہے اور وہ  نئی حلقہ بندیاں کروانے کے بعد ہی انتخابات کا اشارہ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن  کے اس  غیر واضح طریقہ کار سے  پریشانی میں اضافہ ہؤا ہے  جس کے تحت انتخابی شیڈول  تک کا اعلان کرنے سے انکار کیا جارہا ۔  قیاس یہی ہے کہ اسٹبلشمنٹ بھی موجودہ نگران حکومت  کی مدت میں اضافہ چاہتی ہے  تاکہ اہم معاشی فیصلے کئے جاسکیں۔  آرمی چیف نے تاجروں سے بات چیت میں دوست عرب ممالک  سے ایک سو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری تک کے امکانات  کا ذکر کیا ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ بھی ایسے ہی اشارے دیتے  رہے  ہیں۔ اب نگران  وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ  ’خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم ہونے کے بعد جی سی سی اور کئی دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا گیاہے۔ کونسل کے تحت ملک میں کاروبارمیں آسانی پیدا کی جائے گی ۔ سرمایہ کار آسانی کے ساتھ کاروبارشروع کر سکیں گے اورانہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی‘۔

بلاول بھٹو زرداری نے بدین میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے البتہ نگران حکومت کے دائرہ  کار کے بارے میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ اگر نگران حکومت جادو کی کسی چھڑی سے بجلی کی قیمت میں کمی کردے، ڈالر کی شرح مبادلہ کم ہوجائے، پٹرول کی قیمت کم ہونے لگے، تو ہمیں کیا پوری قوم میں کسی کو بھی ایسے مثبت اقدامات پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔لیکن ملک کو گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں فوری طور سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے وقت درکار ہوگا۔ یوں بھی مسائل کا حل تلاش کرنا کسی نگران حکومت کا نہیں بلکہ عوام کے منتخب نمائیندوں کا کام ہے۔ ہمیں نگران حکومت پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن انہیں کرسی پر قابض نہیں ہونا چاہئے۔ اگر نگران سیٹ اپ اقتدار پر قبضہ کرے گا تو ہمیں اعتراض ہوگا‘۔ 

پیپلز پارٹی کے چئیر مین کا یہ مؤقف بھی اپنے والد آصف زرداری کے اس مؤقف سے  متصادم ہے  کہ’نگران حکومت ایس آئی ایف سی کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالے‘۔  موجودہ نگران سیٹ اپ فوجی قیادت کے ساتھ مل کر اسی راستے پر گامزن ہے۔ آج متعدد وزرا کی پریس کانفرنس  میں ملکی معیشت کی بحالی کے دیر پا منصوبوں و اقدامات پر تفصیل سے بات کی گئی۔ آصف زرداری معیشت کی بحالی کے لئے سیاسی ضرورتوں کو فراموش کرنے کی بات کرتے ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ انتخابات ضروری ہیں تاکہ عوام کے منتخب نمائیندے جائز طور سے ملک کو درپیش مسائل کا مناسب حل تلاش کریں اور عوام کو اعتماد میں لے  سکیں۔

میڈیا کے ذریعے آصف زرادری اور بلاول بھٹو زرداری کے اس مکالمہ کو صرف   دو نسلوں کی سوچ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ  یہ اختلاف ملکی سیاست میں متحرک مختلف درپردہ عوامل  کی نشاندہی کررہے ہیں۔ آصف  زرداری ا پنے مزاج کے مطابق مفاہمت کا  راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ  پارٹی کو کوئی بڑا  نقصان نہ پہنچے اور انتخابات کا مقصد بھی حاصل کرلیا جائے۔ جبکہ  بلاول بھٹو زرداری 90 کے دن کے اندر انتخابات کو عوام کا آئینی حق قرار دیتے ہیں اور بظاہر اس پر مفاہمت پر راضی نہیں ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اس آپشن کو کھلا رکھا ہے کہ چند دنوں میں لاہور میں پارٹی  کی مرکزی کمیٹی اس معاملہ پر کوئی نیا مؤقف بھی اختیار کرسکتی ہے۔ اس اجلاس میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پارٹی قیادت کو ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کیا اشارے مل رہے ہیں اور کیا پیپلزپارٹی تصادم کا راستہ اختیار کرکے  اصولوں کے لیے احتجاج کے نام پر تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد بنانے کی کوشش کرے گی تاکہ مستقبل کے انتخابات میں  اسٹبلشمنٹ کے خلاف  ابھرنے والی رائے کو  سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ یا آصف زرداری سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو اس بات پر  قائل کرلیں گے کہ تصادم  سے  پارٹی کو  نقصان پہنچے گا اور ملک میں جمہوری سفر مزید پیچیدہ  و  مشکل ہوجائے گا۔

تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک پر  16 ماہ تک حکومت کرنے والے بین الجماعتی اتحاد میں دراڑیں واضح ہورہی ہیں۔ یہ اختلاف اس اتحادی حکومت میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی دکھائی دینے لگا ہے اور اہم اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں بھی   یہ اختلاف رائے نمایاں ہورہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کے تضادات  اب میڈیا کے ذریعے سامنے آگئے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) میں نواز شریف اور شہباز شریف کی متضد رائے پر  ابھی تک  عمومی مباحثہ کا حصہ نہیں بنے لیکن ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نواز شریف مزاجاً اسٹبلشمنٹ کی بالادستی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جبکہ شہباز شریف ’آرمی چیف‘ کے سایہ شفقت میں ایک بار پھر وزیر اعظم بننے  کا خواب دیکھ رہے ہیں۔  البتہ اس خواب کی تکمیل کے لئے انہیں نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی امیدوں  کا خون کرنا پڑے گا۔  پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ (ن) میں پایا جانے والے اس اختلاف کو بھی اب سامنے آنا چاہئے تاکہ عوام کو  قیادت کی دعویدار پارٹیوں کی اندرونی سیاست  سے پوری طرح آگاہی ہوسکے۔

اس حوالے سے  بلاول بھٹو زرداری کا یہ مؤقف البتہ  قابل غور ہے کہ ’ ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے ’نوجوان قیادت‘ کی ضرورت ہے۔  نوجوان ہی ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کو گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے۔ انہیں فوری طور سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے وقت درکار ہے‘۔   پیپلز پارٹی کے علاوہ اگر مسلم لیگ (ن) کی  سینئر قیادت بھی اب عملی سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کرکے نوجوان نسل کو آگے آنے اور خود مختاری سے فیصلے کرنے کا موقع دے تو ملکی سیاست میں  تازہ ہوا کے ایک نئے جھونکے کی امید کی جاسکے گی۔