غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے نئی ویزا پالیسی
خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے ایک نئی ویزا پالیسی متعارف کروائی ہے جس کا مقصد خلیج تعاون کونسل اور دیگر ممالک کی جانب سے خاطر خواہ سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔
یہ فیصلہ سرمایہ کاری سہولت کونسل کی جانب سے 2 روزہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں اس کے دیگر اراکین سمیت آرمی چیف نے بھی شرکت کی۔ سرمایہ کاری سہولت کونسل کا قیام رواں برس کے آغاز میں خلیجی ممالک اور دیگر دوست ممالک سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ تاہم وفاقی وزیر قانون احمد عرفان اسلم نے گزشتہ روز بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے برعکس (جس کے تحت چین سے اہم فنڈز حاصل کیے جاچکے ہیں) مغربی ممالک نے تاحال سرمایہ کاری سہولت کونسل سے کوئی وعدے نہیں کیے۔
انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری سہولت کونسل اور سی پیک میں چینی سرمایہ کاری کے لیے مختلف دائرہ کار اور شعبے ہیں۔ سی پیک سڑکوں، بنیادی انفرااسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے جبکہ سرمایہ کاری سہولت کونسل چین کو معدنیات اور اُن دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع دیتی ہے جو راہداری منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت جی سی سی ممالک کے ساتھ معاہدوں میں کافی درجے تک پیش رفت ہوچکی ہے۔ ہم پہلے سعودی عرب کے ساتھ معاہدے پر دستخط کریں گے جو کہ سال کے آخر تک متوقع ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے اعتراف کیا کہ وہ سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت صرف انڈونیشیا کی جانب سے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کیے جانے سے واقف ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک اور دیگر غیر جی سی سی ممالک نے ابھی تک کوئی پختہ وعدہ نہیں کیا۔
سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نئے ویزا رجیم سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سفارت خانے ایسے کاروباری افراد کو ویزے دیں گے جن کے پاس میزبان ممالک یا کسی عالمی کاروباری تنظیم کا خط موجود ہو۔ علاوہ ازیں پاکستانی چیمبرز اور تاجروں کی جانب سے غیر ملکی کاروباری افراد کو مدعو کرنے کے لیے جاری دستاویز بھی ویزا کے اجرا کے لیے کافی ہوں گی۔
وزیر اعظم کے سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری سہولت کونسل کے دوسرے سیشن کا اہتمام ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے وزارت خارجہ، داخلہ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور آبی وسائل کی وزارتوں سے تجاویز لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ وزارتوں نے بڑے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبے پیش کیے۔
نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک فعال سفارت کاری پر عمل پیرا ہے اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری سہولت کونسل کو چین، امریکا اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بریفنگ دی گئی۔ جی سی سی ممالک نے سرمایہ کاری کونسل میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو آسان شرائط پر ویزے جاری کیے جائیں گے اور سرمایہ کاروں کے عملے کو بھی ویزے کی پیشکش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور چینی، ڈالر، تیل، کھاد، گندم وغیرہ کی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا، اسمگلنگ اور بھتہ خوری کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔