جلتی ہوئی بریکنگ نیوز اور 110منزلہ قبرستان کی کہانی
- تحریر رضی الدین رضی
- اتوار 10 / ستمبر / 2023
یہ110منزلہ قبرستان کامنظرتھا، قبرستان کی ہرمنزل میں زندہ لوگ تھے جنہیں کچھ دیربعد نعشوں میں تبدیل ہوناتھا۔ یہ لوگ بے بسی کے عالم میں کھڑکیوں سے جھانکتے تھے اورکھڑکیوں کے نیچے آگ تھی۔ وہ آگ سے بچنے کے لئے کھڑکیوں سے چھلانگ لگاتے تھے اورزمین سے ٹکراکر پاش پاش ہوجاتے تھے۔
گویا آگ سے بچنے والوں کو بھی موت سے کوئی نہ بچاسکا۔ امریکہ نے دنیا بھر میں نفرت کی جوآگ بھڑکائی تھی وہ آگ خود اس کو لپیٹ میں لے چکی تھی۔ عالمی تجارتی مرکزمیں پہلی بار موت کا کاروبار جاری تھااورہم ہزاروں میل دور ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کریہ جلتی ہوئی بریکنگ نیوز دیکھ رہے تھے اور اس کی تپش بھی محسوس کر رہے تھے ۔ ہمارے سامنے ایک کے بعد دوسرا طیارہ آتاتھا اور110منزلوں پرمشتمل ایک اورقبرستان کی بنیاد رکھ کر خود بھی اس کاحصہ بن جاتاتھا۔ امریکی سڑکوں پربھاگتے تھے آگ تھی خون تھا، گردوغبارتھا اوردھواں تھا۔ انہوں نے آج تک یہ سب کچھ ہالی ووڈ کی فلموں میں ہی دیکھاتھا لیکن ہمارے لئے تواس میں کچھ بھی انہونا نہیں تھا۔ ہم یہ نعشیں بغداد میں بھی دیکھ چکے تھے ، کشمیر میں بھی اورفلسطین میں بھی۔ آتش وآہن کایہ کھیل جب عراق میں جاری تھا تو اس وقت بھی سی این این کی نشریات چوبیس گھنٹے جاری رہتی تھیں لیکن اس وقت اس کے نیوز کاسٹرزاورمبصرین کے چہروں پرفتح رقم تھی۔ اُس وقت بھی سکرین پرجہازنمودارہوتے تھے لیکن وہ اپنے ٹارگٹ کانشانہ بناکر عجلت میں واپس چلے جاتے تھے۔
یہ جہاز توہم نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ جس کے پائلٹ کو معلوم تھا کہ اس نے ہدف کوبھی نشانہ بنانا ہے اورواپس بھی نہیں جانا ۔ پائلٹ جانتا تھا کہ اس نے 110منزلہ قبرستان میں خود ہی دفن نہیں ہونا بلکہ امریکی غرور اورتکبر کوبھی اپنے ساتھ منوں مٹی تلے دفن کردیناہے۔ امریکی غرور تو دفن ہوگیا لیکن اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ لوگ بھی مارے گئے۔ وہ لوگ جودہشت گردوں کی اس لڑائی میں شریک نہیں تھے، وہ جواپنے گھروں سے معمول کے مطابق اپنے دفتروں کوگئے تھے یاوہ لوگ جواپنے پیاروں سے ملنے کے لئے طیاروں میں سوار ہوئے تھے اورطیارے اغواءکرلئے گئے تھے ان میں امریکی بھی تھے ،برطانوی بھی تھے ، عرب بھی تھے اورپاکستانی بھی۔
اورہم لوگ جوٹی وی سیٹوں کے سامنے بیٹھے امریکہ مردہ باد کے خواب کو حقیقت کاروپ دھارتے دیکھ رہے تھے اس بات سے لاتعلق تھے کہ مرنے والے صرف عیسائی یایہودی نہیں انسان بھی ہیں خون انسان کابہہ رہاتھا اورخون کارنگ توایک ہی ہوتاہے۔ میں نے 11ستمبر 2001 کو یہ سارا منظر روزنامہ نوائے وقت ملتان کے نیوزروم میں دیکھ رہا تھا۔ نیوز روم میں ایک کیبن تھا جو ٹی وی مانیٹرنگ کے لیے بنایاگیا تھا اور اس کیبن میں عموماً اقبال ہراج صاحب کی ڈیوٹی ہوتی تھی۔ وہ ٹی وی کی خبریں اسی کیبن سے بنا کرباہر بھیجتے رہتے تھے اور ڈیسک پرمیں یا راﺅ وسیم اصغر ان کی سرخیاں بنا کر عاشق صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ یہ کوئی شام پانچ سے چھے بجے کا وقت تھا جب اقبال ہراج نے بتایا کہ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ایک طیارہ ٹکراگیا ہے۔ میں نے خبرکونظر اندازکردیا اور ”کوئی بات نہیں“ کہہ کر دوبارہ کام میں مگن ہوگیا۔ میرے بائیں جانب نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ ٹیلی فون پر بات کررہے تھے۔ اسی دوران کیبن سے ہراج صاحب کی زور دارآواز آئی ”ایک اور طیارہ “ ۔
اس آواز نے ہم سب کوبھی ٹی وی کی جانب متوجہ کردیا۔ عاشق صاحب ٹیلی فون چھوڑ کر تیزی سے کیبن میں پہنچ گئے اور پھر چند ہی لمحوں کے بعد کیبن سے عاشق صاحب کی آواز آئی ”لو جی ہیٹرک ہوگئی اے “۔ یعنی تیسرا طیارہ بھی ٹریڈ سنٹر میں جا گھسا تھا۔ پھر نیوزروم میں وہی ماحول پیدا ہوگیا جو ایسی خبروں پر نیوز روم کا معمول ہوتا ہے۔ یوں لگتاتھا کہ طیارہ ٹریڈ سنٹر کی بجائے نیوز روم پرآن گرا ہے۔ اس کے بعد ہراج صاحب کی جگہ مجھے ٹی وی کے سامنے بٹھا دیاگیا کہ اب وہاں کسی سینئرکی ضرورت تھی اور اب ایک ایک لمحے کی خبر تیزی سے بنا کر کمپیوٹر سیکشن کے حوالے کرنا تھی۔ اسی دوران پینٹاگون پربھی ایک طیارہ آن گرا اورپھر نوائے وقت کے نیوز روم میں فتح کے شادیانے بجنے لگے اورکیوں نہ بجتے کہ اسلام کا بول بالا جوہورہا تھا۔ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ اس واقعہ کے نتائج کیا ہوں گے۔ ان کے لیے ایک بات ہی اہم تھی کہ امریکہ آگ میں جل رہا ہے۔ ہم رات گئے تک تیزی سے خبریں بناتے رہے۔ اخبار کا ہرصفحہ انہی خبروں سے بھردیا گیا۔ مقامی خبروں اور پریس ریلیزوں کی تو اس روز کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ پریس ریلیز مافیا نے حسب معمول ان حملوں کی شان میں بیانات بھی ارسال کیے لیکن اس روز صرف امریکی ردعمل اہمیت اختیارکرگیا تھا۔
امریکی صدرجارج بش جونیئر نے اس حملے کو امریکہ پر حملہ قراردے دیا اور الزام اسامہ پر آگیا جو افغانستان میں روپوش تھا اوراس کی تلاش میں امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنا تھا۔ جلتے ہوئے ٹریڈ سنٹر اور منہدم ہوتی ہوئی عمارتوں کی دھول میں جو چہرے ہیرو کے طورپر سامنے آئے وہ ان آگ بجھانے والوں کے تھے جو اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر جلتے ہوئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں داخل ہوئے اور پھر باہر نہ آسکے۔ نوبجے کی ڈاک کاپی سے لے کر رات ڈیڑھ بجے کی لوکل کاپی تک کتنی مرتبہ اخبارمیں ردوبدل ہوئی آج 22 برس بعد یہ تو یاد نہیں لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ اس واقعہ نے خود ہمیں بھی ہلا کررکھ دیا تھا۔ میرے صحافتی کیریئر میں یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے کہ جس کی مثال نہ ماضی میں ملی اور نہ مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔
نیوزروم سے فراغت کے بعد کسی چائے خانے پربیٹھنا ہمارا ہمیشہ سے معمول رہا ہے۔ ریلوے اسٹیشن چونکہ رات بھر آباد رہتا ہے اورخبروں کا مرکزہوتا ہے۔ اس لیے صحافتی کیریئر کا بیشتر وقت ہم نے نیوز روم کے بعد ریلوے پلیٹ فارم کے ٹی سٹالوں پر گزارا۔ اس دوران کچھ ایسے ٹرین حادثات بھی ہوئے جن کی خبریں ہم نے اسٹیشن سے دفتر واپس جا کر” سٹاپ پریس “ کے طورپر شائع کیں ۔ خاص طورپر سانگی ریلوے اسٹیشن پر ذکریا ایکسپریس کے حادثے کی خبر صرف نوائے وقت میں شائع ہوئی تھی اوریہ خبریں ہمیں ریلوے ٹی سٹال سے ملی تھی۔ مشرف کے دور میں یوں ہوا کہ مختلف محکمے فوجی افسروں کے حوالے کردیے گئے۔ ایک کرنل صاحب ریلوے کے انچارج بنادیے گئے۔ ریلوے میں بھی دیگر محکموں کی طرح کرپشن عام تھی۔ صحافیوں نے جب یہ کرپشن اخبارات میں شائع کی تو کرنل صاحب آپے سے باہرہوگئے اورانہوں نے ریلوے اسٹیشن پر صحافیوں کا داخلہ بالکل اسی طرح ممنوع قراردے دیا جیسے آج کل نشترہسپتال میں ان کا داخلہ بند ہے۔ سو ہم نے بھی ریلوے اسٹیشن کی بجائے شہر کے دیگر علاقوں میں بیٹھنا شروع کردیا۔
نشترہسپتال اور اس کے اردگرد کی سڑکوں پرواقع چائے خانے بھی صحافیوں میں ہمیشہ سے مقبول رہے ہیں کہ نشترہسپتال بھی خبروں کا بہرحال مرکز ہوتا ہے۔ کسی حادثے یا پولیس مقابلے کے بعد سب سے پہلے ایمبولینسیں نشترہی پہنچتی ہیں۔ جب ر یلوے اسٹیشن ہمارے لیے نوگو ایریا بن گیا ہم نے نشترہسپتال کے قرب وجوار میں پناہ ڈھونڈی۔ اس زمانے میں دوست میڈیکل کمپلیکس زیرتعمیر تھا اور جس جگہ سے اس کی سیڑھیاں اوپر کمپلیکس میں جاتی ہیں کم وبیش اسی جگہ چائے کا ایک کھوکھا تھا۔ یہ کھوکھا دراصل ان مزدوروں کی وجہ سے آباد تھا جو دن بھر اس کمپلیکس کا تعمیراتی کام کرتے تھے۔ 11ستمبر 2001 کو نیوز روم سے دوبجے فراغت کے بعد ہم نشترہسپتال روڈ کے اسی کھوکھے پر پہنچ گئے۔ اصغر زیدی ، محسن نواز اور الیاس دانش ان دنوں روزنامہ خبریں میں کام کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے وہ رات ہم نے اسی ہوٹل پراس انہونی خبر پر بحث کرتے گزاری تھی۔ یہ حملہ کس نے کیا، کیسے ہوا اورسپرپاور کی سکیورٹی کیسے ناکام ہوگئی۔ ظاہر ہے اس رات کی بحث کا یہی موضوع تھا۔
اس واقعہ کے بعد بہت سے شبہات اور مفروضے زیربحث آئے۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ نے یہ حملہ خود کیا تاکہ وہ افغانستان میں اڈے قائم کرسکے۔ کچھ لوگ آج بھی اس واقعے کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ کئی فلموں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ جس روز ورلڈ ٹریڈ سنٹرپرحملہ ہوا اس دن اس تجارتی مرکز میں کام کرنے والے تمام یہودی چھٹی پر کیوں تھے۔ یہ قیاس آرائیاں غلط ہیں یا درست ، یہ مفروضے کیوں پیدا ہوئے؟ کس نے انہیں پروان چڑھایا؟ یہ ہمارا موضوع نہیں ۔ بعد کے دنوں میں اس واقعہ نے پاکستان کے مستقبل پر بہرحال دوررس اثرات مرتب کیے۔ حملے کے اگلے ہی روز پرویز مشرف نے امریکی صدر جارج بش کویقین دہانی کرائی کہ پاکستان کا اس کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔ 13ستمبر کو امریکی وزیردفاع کولن پاﺅل نے مطلوبہ تعاون اور مطالبات کی فہرست پاکستان کے حوالے کردی۔ 15ستمبر کو پاکستان نے کابل سے اپنے سفارت کار واپس بلالیے۔ 16ستمبر کو طالبان سے اپیل کی گئی کہ اسامہ کو تین روز میں پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔ اورپھر افغانستان پر وہ حملہ شروع ہوا جو دوبرس قبل 15اگست 2021 کوامریکہ کی عجلت میں واپسی پر منتج ہوا۔
اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھاکہ دہشت گردوں کی اس مہم جوئی کی ہمیں کیا قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ امریکیوں نے پرل ہاربرکے رد عمل میں ایٹم بم چلادیا تھا لیکن یہ پرل ہاربرسے کہیں بڑا واقعہ تھا۔ اور پھر اس کے بدلے میں امریکہ نے ہم سے جو کچھ حاصل کرناتھا کرلیا۔ جنرل ضیا کے اقتدار کو11سالہ طوالت دینے میں افغانستان پر روسی حملہ کام آیا تھا۔ اوراس مرتبہ بھی لاٹری ایک ڈکٹیٹر کی ہی نکلی ۔ پرویز مشرف نے امریکہ کی تمام شرائط تسلیم کرکے اپنا اقتداراگلے دس سال کے لیے مستحکم کرلیا۔ 110منزلہ عمارت کا ملبہ صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان پربھی گرا تھا۔ جو دہشت گردی اس حملے کے بعد شروع ہوئی وہ کسی نہ کسی صورت آج 2023 میں پاکستان میں بھی جاری ہے اور افغانستان میں بھی۔
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)