کیا ہم سب اپنے وطن سے ہی مخلص نہیں؟

جناب سپہ سالار پاکستان نے فرمایا ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت ملک سے مخلص نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ سپہ سالار صاحب سے بہتر کون جانتا ہے کہ اس ملک میں کون کون بدعنوانیوں، بد اعمالیوں اور ملک دشمنی میں ملوث ہے۔

کیونکہ جناب سپہ سالار پاکستان کی زیر کمان خفیہ ایجنسیوں کی نظروں سے کچھ بھی اوجھل نہیں ہوتا ہے اور ٹیلی فون پر ہونے والی ساری گفتگو بھی ان کے پاس ریکارڈ ہوتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کے مخلص نہ ہونے کا مطلب ہے کہ ہم پوری قوم ہی برے ہیں کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی جماعت کا رکن، کارکن یا عہدیدار ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو کم از کم ہم سب کسی نہ کسی جماعت کو ووٹ تو دیتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر سپہ سالار صاحب کی بات سے اتفاق ہے کہ پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جس کی قیادت ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر سوچتی اور فیصلے کرتی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر اس کا حل کیا ہے؟

نئی قیادت اور نئی سیاسی جماعتیں کہاں سے لائی جائیں؟ ملکی نظام کا بندوبست کرنا ملکی عوام ہی کا استحقاق ہوتا ہے اور عوام اپنے ہی میں سے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ اگر تو سپہ سالار صاحب نئی ایماندار سیاسی قیادت لا سکتے ہیں تو پھر ان سیاسی جماعتوں پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اس ملک میں آئین کی تو پہلے ہی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جہاں اور بہت سارے کام مبرا آئین ہو سکتے ہیں وہاں ان سیاسی جماعتوں پر بھی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے نئے سپہ سالار صاحب جو حافظ قرآن بھی ہیں، کی نظر میں کچھ ایسے لوگ ہوں جو مومن بھی ہوں اور صادق و امین بھی ہوں۔ لیکن ہم یہ بھی نہیں بھول سکتے کہ اس سے پہلے جو سیاسی قیادت ہے یہ سب بھی ہمارے سپہ سالاروں ہی کی عنایت کردہ ہے۔

ہمارے سپہ سالاروں نے اس ملک کے ساتھ جتنے بھی تجربات کیے ہیں ان میں ابھی تک کوئی کامیا ب نہیں ہوا ہے۔ ہمارے چند ایک سپہ سالاروں نے براہ راست خود بھی لگ بھگ ایک ایک دہائی اس ملک پر حکمرانی کے تجربات کر کے دیکھے مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ اب بھی ساری سیاسی قیادت راولپنڈی سے ہی آشیرباد لے کر آتی ہے مگر بدعنوانی سے باز نہیں آتے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ ہمارے سپہ سالار صاحب اور ان کے ساتھی کورکمانڈرز صاحبان نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ وطن عزیز سے بدعنوانی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے َاور ملکی معیشت کی بحالی میں انقلابی اقدامات اٹھانے کی ٹھان لی ہے۔ ان کے اس جذبہ ایمانی کو دیکھتے ہوئے ہمارے چند برادر اسلامی ممالک نے بھی پاکستان کے اندر ایک سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور برائے راست مدد کا عندیہ دیا ہے۔

اگر ایسا ہے تو یہ پاکستان کے لیے نیک شگون ہوگا۔ یہ خاکسار اپنے ایک گزشتہ کالم میں بھی گزارش کر چکا ہے کہ پاکستانی عوام کا اعتماد بحال کرنے اور کسی سیاستدان کے سر سے مقبولیت کا بھوت اتارنے کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ ہی موثر علاج ہوگا۔ بھوکے عوام کو جب پیٹ بھر کر کھانا ملے گا تو پھر وہ آپ ہی کے گن گائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بے رحمانہ اور منصفانہ احتساب ہو سکے گا اور ملک میں آنے والے برادر اسلامی ممالک کے سرمائے سے سب پاکستانی عوام یکساں طور پر مستفید ہو سکیں گے؟ آئندہ بدعنوانی کے راستے مسدود کر دئیے جائیں گے؟ اور یہ سب نگران حکومت کے چند ماہ کے دور میں ممکن ہو سکے گا؟ آئندہ ہم ان بری اور بدعنوان سیاسی جماعتوں کی لوٹ مار سے محفوظ ہو جائیں گے؟

اگر سوچا جائے تو اس ملک میں وسائل کی کمی تو پہلے بھی نہیں ہے۔ مسئلہ تو وسائل کو تلاش کر کے بروئے کار لانے، وسائل کی درست  تقسیم، بدعنوانی کی روک تھام اور عوام میں بدعنوانی کے خلاف شعور پیدا کرنے کا رہا ہے۔ اگر ملک میں سونے کی کانیں، تیل کے کنوئیں نکل آئیں اور بیرون ملک سے اربوں ڈالر بھی آ جائیں تو بھی جب تک ملک میں ایماندار قیادت نہ ہوگی، وسائل کی درست تقسیم نہ ہوگی ٹیکس کا درست نظام اور لوگوں میں ٹیکس دینے کا رجحان نہ ہوگا۔ لوگوں کو انصاف نہ ملے گا تو پھر بھی ساری دولت کے ضائع ہونے کا احتمال رہے گا اوپر سے آپ اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔ تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا؟ یاد رہے کہ جب بات منصفانہ اور بے رحمانہ احتساب کی ہوتی ہے تو پھر بات صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہتی، پھر آپ کے کئی ساتھی جنرلز، اعلی عدلیہ کے ججز صاحبان، بڑے بیوروکریٹس، کئی بڑے مولانا صاحبان اور بڑے میڈیا ہاوسز کے نام بھی آتے ہیں۔ ان سب کو احتساب کے شکنجے میں لائے بغیر عوام احتساب پر یقین کریں گے نہ بدعنوانی کو روکا جا سکے گا۔ جناب سپہ سالار صاحب اگر تو آپ واقعی سب کا احتساب کر سکتے ہیں اور پاکستانی عوام کا خون چوسنے والی ان سب جونکوں کو ہمارے سروں سے نکال کر ہمیں ان سے نجات دلا سکتے ہیں تو بسم اللہ کریں پھر ہمیں انتخابات کی ضرورت ہے، نہ ہم آئین کا سوال کرتے ہیں۔ لیکن پہلے سوچ لینا کہ اس سے پہلے آپ کے پیش روؤں کے بہت سارے تجربات ناکام ہوئے اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا چکے ہیں۔

انہی تجربات سے ہمارا ملک دو لخت بھی ہو چکا ہے۔ عوام ایک نئے تجربے پر اسی صورت اعتبار کریں گے جب آپ احتساب کا عمل اپنے ادارے سے شروع کریں گے اور قربانی کا آغاز اپنی ذات سے کریں گے. ملک کو مالی بدحالی سے نکالنے کے لیے مالی نظم و ضبط ضروری ہے اور بے جا اخراجات کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت آپ کے ادارے کے افسران سمیت پاکستان کے متعدد اداروں کے افسران کی ایک طرف تنخواہیں لاکھوں میں ہیں تو ساتھ ہی ان کو اربوں کی مراعات بھی دی جا رہی ہیں۔ جبکہ عام مزدور کی کم از کم تنخواہ صرف بتیس ہزار روپے مقرر ہے، وہ بھی اسے مل نہیں رہی ہے۔

ملک میں توازن لانے کے لیے فوری طور پر مراعات یافتہ طبقے سے قربانی لینا ہوگی اور معیشت بہتر ہونے تک تنخواہ کی زیادہ سے زیادہ حد بھی دو لاکھ تک مقرر کرنا ہوگی۔ سرکاری گاڑیوں، مکانوں اور دوسری تمام مراعات کو ختم کیا جائے۔ آپ ایسا کر سکتے ہیں تو پھر بے شک آپ بھی ایک دہائی تک ملک پر حکمرانی کریں۔