ملک میں نئی آئینی عدالت قائم ہونی چاہئے
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 11 / ستمبر / 2023
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے دل کے پھپھولے پھوڑے ہیں اور شکایت کی ہے کہ اس سال فروری کے دوران متعدد آئینی مقدمات سپریم کورٹ کے سامنے آئے جن میں عدلیہ کا امتحان لیا گیا۔ چیف جسٹس نے ان معاملات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے لیکن یہ ضرور بتایا ہے کہ آڈیو لیکس کیس کے فیصلہ میں ان معاملات کا ذکر کردیا گیا ہے۔ جسٹس عمر عطابندیال کی تقریر کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ملک میں ایک علیحدہ آئینی عدالت کی ضرورت ہے۔
اس وقت سب معاملات کا بوجھ سپریم کورٹ پر ہے۔ اگرچہ عدالت عظمی میں 17 ججوں کی گنجائش رکھی گئی ہے جو ملک کی آبادی اور سپریم کورٹ پر مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی وجہ سے بسا اوقات کم محسوس ہوتی ہے لیکن ابھی تک اس تعداد میں اضافہ کی کوئی ٹھوس تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بجائے اعلیٰ عدالت میں تقرریوں کے معاملہ میں ہونے والی سیاست کے نتیجہ میں اکثر سپریم کورٹ کے 17 جج بھی پورے نہیں ہوتے۔ اس پہلو سے قطع نظر سپریم کورٹ پر کام کے بوجھ کی وجہ سے ایسے مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جن پر سپریم کورٹ مناسب مدت کے اندر فیصلہ نہیں کرپاتی۔ وکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر کیسوں میں ایک ہی سماعت میں معاملہ طے ہونے کا امکان ہے لیکن کام کے دباؤ اور سپریم کورٹ پر غیر متوقع مقدمات کی بھرمار کی وجہ سے ایسا نہیں ہوپاتا۔
اب ایک ہفتے کے اندر سبک دوش ہونے والے چیف جسٹس نے شکایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کو اس سال کے شروع میں آئینی معاملات میں الجھا دیا گیا۔ اس بیان کے دیگر پہلوؤں سے قطع نظر اس کا ایک پیغام تو واضح ہے کہ موجودہ افرادی قوت کے ساتھ عدالت عظمی کے لئے عام لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ الجھے ہوئے آئینی معاملات کو سلجھانا سہل نہیں ہے۔ جسٹس بندیال نے درحقیقت سپریم کورٹ کی اسی کمزوری کا اعتراف کیا ہے۔ اگرچہ وہ اس کی ذمہ داری سابقہ حکومت پر ڈالنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کی ’ضد‘ کی وجہ سے متعدد آئینی نکات پر سپریم کورٹ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ سابقہ حکومت کے حوالے سے چیف جسٹس کی ’ خفیہ خواہش‘ کا ذکر یوں کرنے کا حوصلہ ہؤا ہے کیوں کہ آڈیو لیکس کیس میں جسٹس عمر عطابندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے چند روز پہلے جو فیصلہ جاری کیا تھا ، وہ درحقیقت سابقہ حکومت کے خلاف شکایت نامہ تھا اور شہباز حکومت کو عدالت کی آزادی پر حملہ کرنے اور ججوں کو دباؤ میں لانے کا قصور وار قرار دیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ کو اس مشکل سے نجات دلانے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ ملک میں ایک آئینی عدالت ہو جو کسی آئینی الجھن کی صورت میں حتمی رائے دینے کی مجاز ہو۔ اس آئینی عدالت کا چیف جسٹس بھی علیحدہ ہو اور اس کا مینڈیٹ واضح کردیا جائے کہ وہ کن امور پر کس صورت حال میں غور کرنے اور حکم صادر کرنے کی مجاز ہوگی۔ یہ فیصلہ ہونے کی صورت میں مستقبل کی عدلیہ کو جسٹس عمر عطابندیال کی اس شکایت سے نجات حاصل مل سکے گی کہ آئینی معاملات کا بوجھ سپریم کورٹ کو ’امتحان ‘ میں ڈال دیتا ہے۔ اس امتحان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے عہدے میں بے پناہ اختیارات جمع ہوگئے ہیں۔ کسی متوازن جمہوری و آئینی انتظام میں فرد واحد کو اتنے زیادہ اختیارات حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔ اس کا حل بھی آئینی عدالت کے قیام سے تلاش کیاجاسکتا ہے۔ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے کاندھوں سے آئینی گتھیاں سلجھانے کا بوجھ ہٹا یاجاسکتا ہے۔
اس وقت سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نہ صرف تن تنہا آئین کی تشریح کرنے اور اپنی مرضی کو پارلیمنٹ پر نافذ کرنے کے قابل ہے بلکہ آئینی شق 184(3) کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے وزیر اعظم سمیت کسی بھی شخص کو اس کے عہدے سے فارغ کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سوموٹو اختیار صرف چیف جسٹس کا اختیار ہے اور وہ جیسے اور جب چاہے ، اس کا استعمال کرسکتا ہے۔ اس طرح آئین کی تشریح کے ساتھ سوموٹو کے نام پر چیف جسٹس نے تقریباً ہرقسم کا اختیار اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ چیف جسٹس تو بہر حال ایک جج ہے اور بنچوں میں تمام فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ لیکن جسٹس بندیال نے عملی طور سے ثابت کیا ہے کہ کیسے کوئی چیف جسٹس اپنے انتظامی اختیارات اور گروہ بندی کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے ہر فیصلہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ جسٹس بندیال جیسا چیف جسٹس چاہے تو سینئر ترین ساتھی جج کو ہر اہم معاملہ سے علیحدہ رکھ سکتا ہے، اس کی تحریری گزارشات حتی کہ عدالتی احکامات کو نظرانداز کرسکتا ہے اور مرضی کے جج بنچ میں شامل کرکے اسے عدلیہ کی کامل آزادی کا نام بھی دے سکتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر ملک میں کوئی آئینی عدالت ہوگی تو ایک تو سپریم کورٹ کو اس مشکل سے نجات مل جائے گی کہ وہ قانونی موشگافیوں کے علاوہ آئینی گتھیاں سلجھانے کا کام بھی کرے۔ دوسرے چیف جسٹس کے اختیار سے علیحدہ ایک عدالتی اتھارٹی یہ طے کرنے کی مجاز ہوگی کہ آئین درحقیقت سپریم کورٹ یا ہائی کورٹس کے ججوں کو کیا اور کتنے اختیارات دیتا ہے۔ اس وقت تو سپریم کورٹ ہی آئین کی تشریح کرتی ہے۔ خود ہی اپنے اختیار کا تعین کرتی ہے اور اگر پارلیمنٹ چیف جسٹس کے بنچ سازی کے اختیارات کے بارے میں قانون منظور کرتی ہے تو اسے عدلیہ کی خود مختاری پر حملہ قرار دے کر مسترد کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔ یہ اختیار جب کسی آئینی عدالت کے پاس ہوگا تو پارلیمنٹ کے منظور کیے ہوئے قوانین کی آئینی حیثیت کا فیصلہ وہ جج نہیں کریں گے جو خود ہی اس تشریح سے اپنے اختیا رمیں اضافہ کرلیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جن مشکل آئینی معاملات کا ذکر کیا ہے، ان میں یہ بنیادی اصول خاص طور سے قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے براہ راست پارلیمنٹ سے محاذ آرائی کا ماحول پیدا کیا اور خود کو پارلیمانی فیصلوں سے بالا قرار دیا۔ آئینی عدالت قائم ہونے کی صورت میں کم از کم یہ فیصلہ مختلف جج کرسکیں گے کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو کون سے اختیارات مل سکتے ہیں اور کون سا قانون آئینی تشریح کے مطابق عدلیہ کی خود مختاری پر حملہ کہا جاسکتا ہے۔ آئینی عدالت کے جج ایسا فیصلہ کرتے ہوئے اس نکتہ پر واضح ہوں گے انہیں خود اس تفہیم و تشریح سے کوئی اضافی اختیار نہیں ملے گا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے ججوں کو بھی اطمینان ہوگا کہ ان کی قانونی و آئینی حدود کا تعین کسی دوسرے فورم پر ہورہا ہے۔
آئینی شق 184(3) کے تحت چیف جسٹس کو حاصل اختیار کا معاملہ بھی ایک اہم آئینی گتھی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ وکلا تنظیموں اور سیاسی لیڈروں کے بار بار اصرار کے باوجود سپریم کورٹ نے سوموٹو اختیا رکے بارے میں کوئی واضح حدود متعین نہیں کیں۔ بلکہ یہ چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیار بن کر رہ گیا ہے جس میں ایکشن لینے کا فیصلہ بھی چیف جسٹس کرتا ہے اور اس کے بعد بنچ بھی اس کی مرضی سے ہی تشکیل پاسکتا ہے۔ پارلیمنٹ نے چیف جسٹس کی بجائے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں کو بنچ سازی کا اختیار دینے کے لیے قانون سازی کی تھی لیکن اس قانون کو عدالتی آزادی پر حملہ قرار دے کر مسترد کردیا۔ ماضی قریب میں متعدد جج سپریم کورٹ کی سربراہی کرچکے ہیں لیکن کسی نے بھی سوموٹو اختیار کے ’ناجائز یا غلط استعمال‘ کی روک تھام کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ حتی کہ اس درخواست کو بھی شرف قبولیت نہیں بخشا گیا کہ اس معاملہ پر فل کورٹ بنچ میں فیصلہ کرلیا جائے۔ لیکن ابھی تک کوئی چیف جسٹس اپنا یہ خصوصی اختیار کم کرنے پر راضی نہیں ہے۔ اب یا تو پاکستانی پارلیمنٹ اس حوالے سے آئینی ترمیم کا اہتمام کرلے یا پھر آئینی عدالت قائم کرکے اس مسئلہ کو حل کیا جاسکتا ہے تاکہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس خود ہی اپنے اختیارات اور قوانین کے بارے میں اپنی پسند نافذ کرنے کا طریقہ نہ اپنائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عدالت عظمی میں ججوں کی تقرری کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے بھی سربراہ ہوتے ہیں۔ اس پوزیشن میں بھی اگرچہ ان کے پاس ایک ہی ووٹ ہوتا ہے اور باقی ارکان میں 4 دیگرسینئر جج، ایک سپریم کورٹ کا سابق چیف جسٹس یا جج، اٹارنی جنرل ، وزیرقانون اور پاکستان بار کونسل کا نمائیندہ شامل ہوتا ہے۔ لیکن عملی طور سے اس کمیشن پر بھی چیف جسٹس اپنی جارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ججوں کی تقرری کے سوال پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا ہتھکنڈا اختیار کیاجاتا ہے۔ خود چیف جسٹس عمر عطا بندیال اس طرز عمل کا مظاہرہ کرکے اپنی مرضی کے ججوں کو سپریم کورٹ میں شامل کرواچکے ہیں۔
اسی طرح ججوں کے احتساب کے ادارے سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس ہوتی ہے۔ اس کونسل میں کارروائی کے بارے میں بھی کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہے بلکہ بطور چئیرمین یہ چیف جسٹس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ کب کسی جج کے خلاف غور کے لیے جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلائے یا کسی جج کے خلاف ریفرنس پر سالوں غور نہ کیا جائے۔ اس وقت بھی جسٹس عمر عطابندیال کے نزدیکی متعدد ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہیں لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلانے کی زحمت نہیں کی جاتی۔
کسی بھی عہدے میں اتنے اختیارات جمع کردینے سے نہ تو انصاف کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور نہ ہی اختیارات کی تقسیم میں توازن دیکھنے میں آتا ہے۔ آئینی عدالت قائم ہونے سے چیف جسٹس کی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی کم ہوسکے گا اور اس کے اختیارات بھی محدود ہوسکیں گے۔ مستقبل قریب میں یہ اقدام کرنا بے حد اہم ہے۔ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کے ساتھ تنازعہ اور آئینی مسائل پر مشکلات کا ذکر کرکے اس جانب ٹھوس اشارہ کیا ہے۔