سینیٹ قائمہ کمیٹی میں توہین رسالت قانون پر نظرثانی کی تجویز

  • منگل 12 / ستمبر / 2023

پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹر سیمی ایزدی نے توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کرنے کی تجویز پیش کی اور جواب طلب کیا کہ ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات اتنی زیادہ تعداد میں کیوں ہو رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سینیٹر نے ان خیالات کا اظہار آج سینیٹر ولید اقبال کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس کی کارروائی کے آغاز پر قائمہ کمیٹی نے انسانی حقوق کے وزیر اور وزیر مملکت برائے انسانی حقوق کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی نے جڑانوالہ واقعے پر بھی بحث کی۔ اس سانحے میں پرتشدد ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں درجنوں گھروں اور کئی گرجا گھروں کو تباہ کر دیا تھا۔ سیکرٹری انسانی حقوق اللہ ڈنو خواجا نے جڑانوالہ واقعے پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ دو مسیحی افراد پر قرآن پاک کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا تھا۔

پر تشدد ہجوم نے ساٹھ گھروں کو نقصان پہنچایا۔ 92 خاندانوں کو زر تلافی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طرح کے واقعات پر وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے۔ نیشنل کو آرڈیشن کمیٹی قائم کی جائے، پولیس میں بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ دوران اجلاس جڑاں والا جیسے واقعات سے بچنے کے لیے وزارت انسانی حقوق اور قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی۔

تحریک انصاف کی سینیٹر سیمی ایزدی نے کہا کہ توہین رسالت قانون کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ پہلے اس طرح کے واقعات زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ سیمی ایزدی نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں کچھ رہ تو نہیں گیا؟ بہت سے لوگ اس پر بات کرنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ قانون نہیں ہوگا تو پھر کوئی روک تھام نہیں ہوگی۔ ہر واقعے کو روکنے کے لیے قانون ہونا چاہیے، راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ سیمی ایزدی نے کہا کہ راستہ بند نہیں کریں گے، اس قانون کا جائزہ لیں گے۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے سیمی ایزدی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اتنی تعداد کے ساتھ ہونے کی کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ جنت میں جائیں گے۔ ہم صرف توہین رسالت کے قانون پر نظرثانی کریں گے۔ ہمیں اسے تبدیل نہیں کرنا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اس قانون کو کیسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سینیٹر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ لوگ اس معاملے پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں اور ہمیں اس حوالے سے کافی غور و خوض کے بعد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ آج کی میٹنگ میں اس معاملے پر فیصلہ نہیں ہو سکا، دیکھتے ہیں آئندہ میٹنگ میں کیا ہوتا ہے۔