سعودی عرب کا جھکاؤ بھارت کی طرف کیوں؟

انڈیا۔مڈل ایسٹ۔یورپ اکنامک کوریڈور کی نقاب کشائی کے بعد بھارت اور سعودی عرب کے مابین ہائیڈروکاربن توانائی کی شراکت داری کو قابل تجدید، پٹرولیم اور اسٹریٹجک ذخائر کے لیے جامع توانائی کی شراکت داری میں اپ گریڈ کرنے سمیت 8معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ تجارت کا حجم 52بلین ڈالر ہے جسے دونوں ممالک آنے والے چند سالوں میں 100 بلین ڈالر تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔

گزشتہ مالی سال بھارت نے سعودی عرب کو 10بلین ڈالر کی برآمدات کیں جب کہ تیل سمیت سعودی عرب سے درآمد کی جانے والی اشیاء کی مالیت40بلین ڈالر رہی۔اس وقت سعودی عرب میں 700سے زیادہ انڈین کمپنیاں کا م کر رہی ہیں جنہوں نے تقریبا200کروڈ ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے جب کہ انڈیا میں سعودی سرمایہ کاری کا حجم 300کروڑ ڈالر ہے۔سب جانتے ہیں کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سعودی ویژن 2023کے مطابق اپنے ملک کو سماجی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی طور پر متنوع بنانے کے مشن پر کمربستہ ہیں اور تیل کی معیشت کے علاوہ وہ مینوفیکچرنگ، سیاحت، سپورٹس اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارت اپنی3.4ٹریلین ڈالر کی معیشت کو 2030تک پانچ ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا خواہاں ہے۔ایسے میں دونوں ملکوں کے پاس دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے بے شمار مواقع ہیں۔مستقبل میں جہاں ایک طرف بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں سعودی عرب 4400کروڑ ڈالر کا ویسٹ کوسٹ ریفائنری اینڈ پیٹرو کیمیکل پروجیکٹ لگانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب بھارت سے اپنے 500بلین ڈالر کے "نیوم پراجیکٹ"کے لیے انڈین ٹیلنٹ اور سرمایہ کاری میں اضافے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

انڈیا۔مڈل ایسٹ۔یورپ اکنامک کوریڈور پراجیکٹ کو سامنے رکھیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ دنیا میں ایک نئی قسم کا کثیر الجہتی نظام آ رہا ہے اور سعودی ولی عہد کا کمال یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کو اس کثیر الجہتی نظام میں مرکزی پوزیشن پر لانے میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔سعودی عرب امریکہ سے ہٹ کر چین، روس اور بھارت کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس جیسی تنظیموں میں اپنا اثرورسوخ بنانے کی کوشش میں ہے۔ ویژن2030 کے تحت سعودی عرب نہیں چاہتا کہ دنیا اسے صرف تیل بیچنے یا حج و عمرہ کی وجہ سے جانے۔گذشتہ کئی سالوں سے سعودی عرب ایک طرف "سخت گیر اسلام"کے روایتی تشخص کو خیر باد کہتے ہوئے اپنے معاشرے میں انقلابی قسم کی سماجی و ثقافتی تبدیلیاں لا رہا ہے تو دوسری طرف وہ اپنی تیل بیسڈ معیشت کو متنوع بنانے کے لیے سیاسی و معاشی تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں بھارت سعودی عرب دوطرفہ تجارتی تعلقات میں آنے والی وسعت اسی پالیسی کا نتیجہ ہے۔سعودی عرب کے لیے بھارت ایک سو چالیس کروڑ سے زائد نفوس کی منڈی ہے۔اس کے علاوہ بھارت سب سے زیادہ تیل سعودی عرب سے خریدتا ہے۔یہ باہمی مفادات پر مبنی تعلق ہے جو کسی مذہبی اور ثقافتی یگانگت کا محتاج نہیں۔برطانوی ڈپلومیٹ لارڈ پامرسن نے خارجہ معاملات بارے کیا ہی خوب صورت اور حقیقت پرمبنی بات کہی تھی کہ  ’بین الاقوامی تعلقات میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن، بلکہ استقلال صرف قومی مفادات کو ہی حاصل ہوتا ہے‘۔

سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مقابلے میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں بھی قومی مفاد کے تعین اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں معیشت سے کہیں زیادہ فکری ونظریاتی عوامل پر زور دے رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بعض قومی ریاستیں کسی فکریا نظریے سے وابستہ ہونے کے باعث قومی مفاد کے تعین میں فکری اصولوں کو مقد م رکھتی رہی ہیں یا پالیسی سازی کی تشکیل میں کسی حد تک اب بھی نظریاتی عوامل کو اہمیت دیتی ہیں لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں سے ریاستوں کی اکثریت ایک طرف قومی مفاد کا تعین کرتے ہوئے حالات سے ہم آہنگی کے معیارکو ترجیح دے رہی ہیں تو دوسری طرف ان کی پالیسی کی تشکیل میں معاشی عوامل کی اہمیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔دیگر ریاستوں کے برعکس پاکستانی ریاست خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اب بھی فکری و نظریاتی عوامل کو حد سے زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔ خارجہ پالیسی میں عرب ممالک سمیت مسلم ریاستوں سے تعلقات کوفروغ دینے کو مقدم رکھنا قابل اعتراض نہیں لیکن عالم اسلام کی یک طرفہ محبت میں تسلسل سے مبتلا رہنا یا دوست عرب ممالک پر حد سے زیادہ انحصا کی پالیسی کسی بھی طرح  درست قرار نہیں دی جا سکتی۔ حقیقت پسندی کی دنیا میں رہنے والے باشعور افراد کے نزدیک مسلم امہ پہلے بھی ایک واہمہ ہی تھی لیکن ہم لوگ اس سراب کو حقیقت سمجھتے رہے۔

سعودی عرب اور بھارت کے تعلقات برابری کی سطح پر قائم ہیں جب کہ ہماری ہر نئی حکومت سعودی عرب اور عرب امارات سے ادھار تیل اور امداد کے حصول کے لیے سابقہ حکومت سے آگے ہوتی ہے۔اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ الیکشن کرانے کے لیے آئی عارضی حکومت بھی سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی متمنی ہے۔ملک کے بڑے اگلے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے 75سے100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے انتظار میں بیٹھے ہیں جب کہ سعودی عرب اور بھارت آنے والے چند سالوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 100ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔بھارت ہر سال سعودی عرب سے اربوں ڈالر کا نقد تیل درآمد کرتا ہے جب کہ ہم سعودی عرب سے ایک سے تین سال کے لیے ادھار پر تیل لیتے ہیں۔ "فقیر کو انتخاب کا حق نہیں "جیسی کہاوت میں ہمارے لئے غوروفکر کا بہت سامان ہے۔تلخ حقائق یہ ہیں کہ امہ امہ کے نام پر ہم سعودی عرب اور عرب امارات کے لئے بوجھ بن چکے ہیں۔2008میں بروس ریڈل نے لکھا تھا کہ1960کی دہائی سے عرب دنیا سے باہر پاکستان کو سعودی عرب سے جتنی امداد ملی ہے اتنی کسی اور ملک کو کبھی نہیں ملی۔اگرچہ ماضی میں پاکستان نے سعودی شاہی خاندان کی حفاظت کا معاہدہ کرنے کے علاوہ دفاعی شعبے میں سعودی عرب کی بھر پور مدد کی لیکن آخر کب تک ہم اس کے عوض سعودی عرب کو قرضوں اور امداد کے لیے مجبور کرتے رہیں گے۔

ہمارے ارباب اقتدار اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی کے برعکس پاکستان کو امداد دینے اور معاشی بحرانوں سے نکالنے کے حوالے سے سعودی حکومت اب پہلے جیسی گرم جوشی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ہچکچاہٹ دکھانے لگی ہے۔معیشت کو پاؤں پر کھڑے کرنے کے لیے ہمیں بنگلہ دیش اور بھارت کی طرح کسی نہ کسی شعبے اور صنعت میں ایکسپورٹس بڑھانی ہوں گی۔روز روزقرضوں اور امداد کے لیے سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے منتیں ترلے کوئی حل نہیں۔