نواز شریف کی واپسی کسی مسئلہ کا حل نہیں

شہباز شریف نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ  نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس پہنچیں گے اور وہ خود اپنے ’لیڈر‘ کا فقید المثال استقبال کریں گے۔ فی الوقت شہباز شریف چونکہ خود بھی لندن میں ہیں اور اکیس اکتوبر ابھی ڈیڑھ ماہ کی دوری پر  ہے، اس لئے نہ جانے اس وقت تک شہباز شریف یا ملکی سیاست کون سی قلابازی کھا لے۔ یادش بخیر شہباز شریف پہلے بھی نواز  شریف کی واپسی کا اعلان کرتے رہے ہیں لیکن ان میں سے کوئی دعویٰ پورا نہیں ہوسکا۔

ملکی سیاست میں اس وقت خلا کی کیفیت ہے۔ الیکشن کمیشن  تمام  تر دباؤ کے باوجود انتخابات کی تاریخ دینے پر راضی نہیں ہے۔ گزشتہ روز ایوان صدر سے یہ معلومات عام کی گئی تھیں کہ صدر عارف علوی کسی بھی وقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرسکتے ہیں۔  گزشتہ ہفتہ کے دوران اسلام آباد میں وکیلوں کی قومی کانفرنس نے بھی صدر علوی سے درخواست کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کی رائے کا انتظار نہ کریں بلکہ  آئینی اختیار کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیں۔  عارف علوی کے عہدہ صدارت کی مدت چونکہ 9 ستمبر کو پوری ہوچکی ہے، اس لیے اب وہ ملک کے عبوری صدر ہیں یعنی اس وقت تک اس عہدہ پر متمکن رہ سکتے ہیں جب تک نئی اسمبلی  منتخب نہ ہوجائے اور صدر منتخب کرنے والا الیکٹورل کالج ایک نئے  صدر کا انتخاب نہ کرلے۔  اس لیے ایوان صدر سے انتخابات کے حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے دعویٰ کیا تھا کہ عارف علوی اب ملک کے ’باقاعدہ ‘ صدر نہیں ہیں بلکہ ان کی پوزیشن بھی ’نگران‘ ہی کی ہے جو انتخابات کا اعلان نہیں کرسکتے۔

انتخابات  کے سوال پر مسلم لیگ (ن)  کا مزاحمتی یا دفاعی رد عمل ناقابل فہم ہے۔ ایک  سیاسی پارٹی کی بنیاد ہی عوام   کی حمایت سے فراہم  ہوتی ہے۔ اس لیے ہر جائز و حقیقی سیاسی پارٹی  ایک تو ہمہ وقت انتخابات کے لیے تیا ررہتی ہے ، دوسرے   وہ کبھی بھی انتخابی عمل سے گریز کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی۔  جو پارٹی بھی ایسا طرز عمل اختیار کرتی ہے تو اس کی عوامی مقبولیت کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ کیا وہ واقعی ملک میں جمہوری و آئینی نظام پر یقین رکھتی ہے یا اس طریقہ کو محض اقتدار کا  ذریعہ سمجھتی ہے۔ اور جب اسے اندازہ ہوتا ہے کہ انتخابات میں اسے شکست ہوجائے گی تو وہ  اس  سے فرار کا راستہ اختیار کرلے اور حکومت میں ہوتے ہوئے یا سیاسی گروہ کے طور پر انتخابات کے خلاف بیانیہ استوار کرنے کی کوشش کرے۔  مسلم لیگ (ن) اس وقت ایسی ہی  مشکل سے دوچار ہے لیکن  اس  کا یہ طرز عمل نون لیگ کی قیادت اور سیاسی پروگرام کے بارے میں عوام  کی آنکھیں کھول رہا ہے۔ ہوسکتا ہے  کہ کسی بھی ہتھکنڈے سے  مسلم لیگ (ن)  فوری طور سے انتخابات ٹالنے میں کامیاب ہوجائے یا انتخابات منعقد ہونے کی  صورت میں کسی  نادیدہ ’جھرلو‘ کے ذریعے  اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن میں آجائے لیکن ایسے سب طریقے عوام   میں اس کی ساکھ بحال نہیں کرسکیں گے۔ اقتدار کا حصول ہی اگر شریف برادران یا مسلم لیگ  (ن)  میں ان کے ساتھیوں کا مطمح نظر ہے تو غیر جمہوری طریقے سے یا  مشکوک ہتھکنڈوں سے  اقتدار تک پہنچ  کر   مسلم لیگ (ن) دھیرے دھیرے اپنے انجام کی طرف بڑھنے لگے گی۔

ان حالات میں صدر عارف علوی تحریک انصاف کے واضح دباؤ اور شاید اپنے دل کی خواہش کے باوجود    ابھی تک انتخابات کا اعلان کرنے  کا  حوصلہ نہیں کرسکے۔ شاید انہیں یاد آتا  ہو کہ پارٹی کے دباؤ پر انہوں نے چند ہفتے پہلے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں ترامیم کے بلوں  پر دستخط کرنے کے حوالے سے جو مؤقف اختیار کیا تھا، اس سے ان کی اپنی پوزیشن ہی خراب ہوئی تھی اور یہ سوال سامنے آیا تھا کہ کیا ملک کی صدارت کے عہدے پر فائز شخص بھی بعض سیاسی  مجبوریوں اور ذاتی طمع  میں  جان بوجھ کر غلط بیانی کرسکتا ہے۔  یہ بل بہر طور منظور شدہ قوانین کے طور  پر نافذ کردیے گیے ہیں اگرچہ نگران حکومت اور تحریک انصاف نے  اس حوالے سے  متضاد مؤقف اختیار کیا ہے۔  اس لیے صدر عارف علوی انتخابات  کا اعلان کرنے کے حوالے سے  شک و شبہ کا شکار ہیں۔   وہ  شاید یہ قیاس کرنا چاہ رہے ہوں کہ ایسا کوئی اعلان خود ان سے ان کا  ’عہد‘ چھیننے کا سبب تو نہیں  بن جائے گا۔ اسلام آباد میں یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ   بعض  طاقت ور حلقے سینیٹ کے چئیر مین  صادق سنجرانی کو  عارف علوی کی جگہ صدارت پر فائز دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ یوں بھی  صدر اگر انتخابات کا اعلان کردیں اور اس اعلان کے مطابق انتخابات منعقد  ہوجائیں تو نئی اسمبلی کے قیام کے ساتھ  ہی نیا صدر منتخب ہوجائے گا۔ اور عارف علوی کی عبوری صدارتی مدت پوری ہوجائے گی۔ ذاتی حرص کا تقاضہ تو یہی ہونا چاہئے کہ وہ انتخابات میں جلدی کرنے کی بجائے، اس میں  تاخیر کا باعث بنیں۔ شاید یہ خیال بھی ’معصوم و بے ضرر‘ عارف علوی کے نازل دل کو چھو کر گزرتا ہو؟

تحریک انصاف کے علاوہ  90 دن کی مدت کے اندر انتخابات کروانے کا دوٹوک  مؤقف فی الوقت پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے اختیار کیا ہے۔ تاہم  انہوں نے جس طرح سیاسی معاملات میں اپنے والد آصف زرداری کے نقطہ نظر کو  میڈیا بات چیت میں مسترد کیا ہے اور اس کے بعد مسلسل خبروں میں رہنے کے لیے   ’مقبول بیان‘ دینے کی کوشش کی ہے، اس سے  یہ شبہ بھی پیدا ہونے لگا ہے کہ یہ مؤقف ان  کی سیاسی راست بازی و اصول پرستی کا  پرتو ہے یا وہ پیپلز پارٹی کو کسی بھی طرح موجودہ بحران سے نکالنے  کے لیے عوام کی توجہ حاصل کرنے  کی ’حکمت عملی ‘ پر کاربند ہیں۔ ان بیانات میں خاص طور سے   حکومت میں اپنی سابق حلیف  جماعتوں کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ عدم مقبولیت کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہی ہیں یا آج کا تازہ بیان  کہ  اس وقت ملک میں تمام سیاسی  جماعتوں کو  یکساں ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘ میسر نہیں ہے۔ 

بلاول بھٹو زرداری کے یہ بیانات سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اگر ملک میں اس وقت سب پارٹیوں  کو یکساں مواقع فراہم نہیں ہیں تو اتحادی حکومت میں اہم ترین شریک پارٹی کے طور پر پیپلز پارٹی خود اپنی ذمہ داری سے انکار نہیں کرسکتی۔ اس کے علاوہ اس وقت الیکشن کمیشن آف پاکستان نئی مردم شماری  منظور ہونے کی وجہ سے حلقہ بندیوں کے بہانے  بروقت انتخابات منعقد کروانے سے گریز کررہا ہے۔   پیپلز پارٹی یہ صورت حال پیدا کرنے کی یکساں طور سے ذمہ دار ہے۔ اوّل تو  آصف زرداری  نے واضح کیا ہے کہ مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔ دوسرے یہ کہ شہباز شریف نے  وزیر اعظم کے طور پر اپنے آخری دنوں میں    رائے شماری کی منظوری کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے علاوہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوتے ہیں۔ کونسل نے متفقہ طور سے مردم شماری کے نتائج منظور کرلیے تھے حالانکہ اس وقت بھی سب پارٹیوں کو علم تھا کہ  اگر مردم شماری کے نتائج کو سرکاری طور سے منظور کرلیا گیا تو الیکشن کمیشن پہلے  نئی حلقہ بندیاں کرے  گا اور انتخابات کا معاملہ لٹک جائے گا۔

اس وقت  نہ تو  سندھ سے پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس اجلاس پر اعتراض کیا بلکہ اس کے فیصلے میں شریک ہوئے اور نہ ہی  بلاول بھٹو زرداری یا پیپلز پارٹی نے یہ نکتہ  اٹھایا کہ مردم شماری منظور کرنا منتخب وزرائے اعلیٰ کا کام ہے۔ ملک کے دو صوبوں میں نگران وزرائے اعلیٰ  کس حیثیت میں مردم شماری جیسے اہم معاملہ کو منظور کرسکتے ہیں۔ جبکہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے  یہ دونوں نگران وزرائے اعلیٰ  انتخابات کروانے میں ناکام رہے تھے  اور اب آٹھ  ماہ سے غیر آئینی طور سے ان عہدوں پر براجمان ہیں۔

ان حالات میں نواز شریف  کی طرف سے وطن واپس آنے کا ایک بار پھر اعلان کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو نہ جانے کیوں لگتا  ہے کہ نواز شریف کے آتے ہی کوئی ایسا سیاسی طوفان برپا ہوجائے گا کہ عوام کی اکثریت عمران خان اور تحریک انصاف کو بھول کر نواز شریف کے  کی طرف دوڑی چلی آئے گی۔ حالانکہ نواز شریف اور مریم نواز نے’ووٹ کو عزت دو‘ کے نعرے پر   مہم چلاکر تحریک انصاف  کے مقابلے میں اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیہ استوار  کیا تھا۔ لیکن عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لا کر اور شہباز شریف جیسے خوشامدی اور اسٹبلشمنٹ کے خادم  کو وزیر اعظم بنوا کر  خود ہی اس نعرے کو دفن بھی کیا اور عوام کی اکثریت کو بدگمان  کرنے کا سبب بھی بنے۔ اس فیصلے کے جو بھی عوامل ہوں ، ان کے بارے میں کبھی  عوام کو اعتماد میں نہیں لیا گیا پھر شہباز شریف کے  ذریعے عسکری قیادت سے دوستی کا ایک نیا دور شروع کرکے نواز شریف نے خود ہی اپنے مزاحمتی کردار کو ’جعلی‘ ثابت کردیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ  16 ماہ  کی حکومت میں شہباز شریف نے  ملکی معیشت  بحال کرنے کی  بجائے  اسے مزید زیر بار کیا۔ قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہؤا، ڈالر مہنگا ہونے سے اشیائے صرف مہنگی ہونے لگیں اور  عام لوگوں کے حالات دگرگوں ہوئے  ہیں۔ اس کارکردگی کے بل بوتے پر  کوئی سابق حکومت عوام سے قبولیت کی سند حاصل نہیں کرسکتی۔

یہ حقیقت بھی سب کے سامنے ہے کہ نواز شریف  طبی معائنے کے لیے عدالت سے اجازت ملنے پر چند ہفتوں کے لیے برطانیہ گئے تھے لیکن  وہ چار سال سے وہیں مقیم ہیں۔  قانونی لحاظ سے  ان کی حیثیت ’عدالتی مفرور‘ کی ہے ۔  ملک واپس آنے پر انہیں کسی عدالت سے ریلیف ملنے سے قبل  استقبالیہ جلوس کی قیادت سے پہلے پولیس کی حراست میں کوٹ لکھپت جیل جانا چاہئے۔ بہتر ہوگاکہ نواز شریف اپنے استقبال کے  منصوبے بنوانے کی بجائے خود کو ایک قانون پسند شہری کے طور پر  حکام کے حوالے کریں اور عدالتوں سے انصاف یا رحم کی درخواست کریں۔ اس کے برعکس یہ تاثر قوی کیا جارہا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطابندیال  کے ہوتے نواز شریف کو انصاف نہیں مل سکے گا اور قاضی فائز عیسیٰ کے  چیف جسٹس بننے پر نواز شریف کو ویسا ہی ریلیف ملنے لگے گا جو  اس وقت عمران خان کو دیا جارہا ہے۔ اس طرز عمل سے نواز شریف اپنے علاوہ اگلے ہفتے سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بننے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی  پوزیشن بھی خراب کررہے ہیں۔

نواز شریف کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب وہ   جولائی 2018 میں اپنی علیل اہلیہ کو لندن میں زیر علاج چھوڑ کر مریم نواز کے ہمراہ لاہور پہنچے تھے ، اس وقت بھی شہباز شریف بڑی دھوم دھام سے بڑے بھائی یا ان کے اپنے الفاظ میں’قائد‘ کا استقبال کرنے گھر سے نکلے تھے لیکن وہ  لاہور شہر ہی میں گھومتے رہے تھے  اور  پولیس،  نواز  شریف اور مریم نواز کو گرفتار کرکے جیل لے گئی تھی۔ شہباز شریف آج بھی عسکری قیادت کے اتنے ہی وفادار ہیں جتنے وہ 2018  میں تھے۔ بلکہ 16 ماہ وزیر اعظم رہنے کے بعد اب تو پھر سے وزیر اعظم بننے کی خوہش انہیں مسلسل بے چین رکھتی ہے۔ ایسے میں  کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب بڑے بھائی اور قائد کو پشت دکھادیں۔

نواز شریف ضرور وطن واپس آئیں لیکن وہ پہلے  ملکی عدالتوں کو مطمئن کرنے کا اہتمام کریں اور اپنے بھائی کے ساتھ مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں معاملات طے کرلیں تاکہ پاکستان واپس آکر وہ ایک بار پھر باہر جانے پر مجبور نہ ہوجائیں۔