کیا نواز شریف کی ’زیرو رسک‘ واپسی کے لیے میدان تیار ہے؟
- تحریر بی بی سی اردو
- بدھ 13 / ستمبر / 2023
پاکستان مسلم لیگ ن قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اگلے ماہ وطن واپسی کے اعلان نے سیاسی میدان میں ایک ہلچل پیدا کر دی ہے۔ لندن میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 21 اکتوبر کو پورا پاکستان لاہور میں نواز شریف کا استقبال کرے گا۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف علاج کی غرض سے 2019 میں برطانیہ چلے گئے تھے اور پانامہ ریفرنسز میں عدالت کی طرف سے دی گئی چار ہفتے کی مدت میں وہ واپس نہیں آئے، جس کے بعد ان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کر دیے گئے تھے۔ اور اب انہوں نے تقریباً چار برس کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب گزشتہ چند برسوں کے دوران ان کی غیر موجودگی میں سیاسی حریف جماعت پی ٹی آئی کے بیانیے کے باعث ان کی پارٹی کی مقبولیت اور ووٹ بینک کو دھچکہ پہنچا ہے، انھیں خود بھی سیاست سے تاحیات نااہلی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ ان کے سیاسی حریف عمران خان قید میں ہونے کے باوجود بھی عوام میں مقبول ہیں۔
واضح رہے کہ اتحادی حکومت کے دور میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ نواز شریف کی وطن واپسی اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک رسک زیرو نہ ہو جائے۔
ایسے میں ان کی واپسی کے اعلان اور گذشتہ روز ہی موجودہ نگران سیٹ اپ میں ان کے پرنسپل سیکرٹری رہنے والے فواد حسن فواد کی نگران کابینہ میں شمولیت نے چند سوالوں کو جنم دیا ہے۔
کیا نواز شریف کی واپسی کے لیے گراؤنڈ تیار کیا جا رہا ہے اور جب وہ اپنے بھائی کے دور حکومت میں وطن واپس نہیں آسکے۔
اس سوال کے جواب میں سنیئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے لیے فضا کافی سازگار ہو چکی ہے۔ موجودہ نگراں وفاقی و صوبائی حکومت ان کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ نہیں رکھتی لہذا اگر وطن واپسی پر انھیں جیل جانا پڑا تو وہ ایک ’سافٹ‘ جیل ہو گی اور ممکن ہے انھیں عبوری ضمانت بھی مل جائے۔ نواز شریف کے واپس آنے سے سنہ 2018 کا منظر دوبارہ دہرایا جا رہا ہے ’بس اس مرتبہ کرداروں کا فرق ہے۔آج ان کے حریف عمران خان سلاخوں کے پیچھے ہیں اور مسلم لیگ ن پر اقتدار کے دروازے کھل رہے ہیں جبکہ اس وقت عمران خان پر اقتدار کے دروازے کھلے تھے اور انھیں بے دخل کیا گیا تھا۔‘
نواز کی وطن واپسی پر ضمانت ملنے کے سوال پر انہوں نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’گارنٹی دینا بڑا مشکل ہے لیکن ان کے واپسی کے وقت عدل کے ایوانوں میں ایک بڑی تبدیلی ہو چکی ہو گی، موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جگہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سنبھال لیں گے لہذا ان کے لیے اس سے بہتر فضا ہو نہیں سکتی کیونکہ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ جو جج حضرات ان کے خلاف عناد رکھتے تھے ان کے ہاتھ اب اتنے کھلے نہیں رہیں گے۔‘
سنیئر صحافی و تجزیہ نگار نسیم زہرہ کا کہنا ہے نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ عمران خان بھی جیل میں ہیں اور انھیں قانونی مقدمات میں بھی ریلیف مل چکا ہے یا مل جائے گا تو اس لیے وہ آ رہے ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ان کی وطن واپسی کے لیے درست ہے اور انھیں ملک کے کسی حلقے کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘
صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی کا اعلان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نے کیا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق رسک ختم ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے دور حکومت میں معاشی عدم استحکام، مہنگائی، پیٹرول و بجلی کی بڑھتی قیمتیں اور پی ٹی آئی کی عوامی سطح پر خصوصاً پنجاب میں مقبولیت کے باوجود کیا نواز شریف اپنی جماعت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گے؟
اس پر مجیب الرحمان شامی نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا یہ بیان کہ ’اگر ان کی حکومت کو ختم نہ کیا جاتا تو آج پاکستان جی 20 ممالک کی فہرست میں کھڑا ہوتا‘ دراصل ان کے انتخابی مہم کے بیانیے کی ابتدا ہے۔ نواز شریف واپس آ کر انتخابی مہم میں اپنا ایک بیانیہ سامنے لے کر آگے آئیں گے۔ دوسرا نگراں حکومت کی جانب سے ڈالر اور چینی سے متعلق کریک ڈاؤن کا بھی نفسیاتی فائدہ نواز شریف اٹھائیں گے‘۔
نسیم زہرہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کی سیاست میں ایک ’ہیوی ویٹ‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن میں انھیں اور ان کی بیٹی مریم نواز کو ہی کراؤڈ پلر قرار دیا جاتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاکستان واپس آنے سے یقیناً جماعت اور ملکی سیاست پر اثر پڑے گا۔
تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ نواز شریف نے 2018 میں بھی الیکشن سے قبل اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان آ کر جب رسک لیا تھا تو اسی نے پنجاب میں پی ایم ایل کو فیصلہ کن اکثریت دلوائی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اب بھی وہ ہی چیز ہے ان کی واپسی یقیناً مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر نہ صرف متحرک کرے گی بلکہ لیول پلئینگ فیلڈ کی جانب بھی مثبت پیش رفت ہو گی۔ اگلے برس الیکشن میں تمام سیاسی جماعتیں حصہ لیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں ایک بڑی لیڈرشپ اور اس کے بڑے کردار کی ضرورت ہے‘۔
مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ نواز شریف واپس آ کر جماعت کے کارکنوں کی دلجوئی کر سکیں گے اور ان میں جوش اور ولولہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم سازی پر بھی توجہ دیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس سے نہ صرف کارکن متحرک ہو گا بلکہ ووٹر بھی یہ سمجھتے ہوئے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مزاحمت نہیں ہے باہر نکلے گا۔ اس لیے نواز شریف یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ پورے حوصلے کے ساتھ اپنے کارواں کو آگے بڑھا سکیں گے۔‘ سلمان غنی نے اس پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم کی حکومت کی ناقص کارکردگی نے مسلم لیگ ن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور یقیناً اب انتخابات میں جانے کے لیے مسلم لیگ ن نواز شریف کو اپنی آخری آپشن کے طور پر سامنے لے کر آئی ہے کیونکہ وہ اور ان کی بیٹی کراؤڈ پلر ہیں اور وہ اپنے ایک نئے بیانیے کے ساتھ ووٹر کو اعتماد دے سکیں گے۔ اس میں سب سے اہم ان کا استقبال ہو گا جو مسلم لیگ ن کی انتخابات میں کارکردگی کی سمت طے کرے گا۔‘
(رپورٹ: عماد خالق بی بی سی اردو)