جی 20 سمٹ کا عالمی سیاست میں رول؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 13 / ستمبر / 2023
کیا آج کی دنیا قدیمی روایتی تعصبات کو خیرباد کہتے ہوئے جنگجو ذہنیت اور منافرت کی جگہ نیو ورلڈ آرڈر کے تحت امن و شانتی اور معاشی ترقی و خوشحالی پر استوار ہورہی ہے؟ کیا آج کی دنیا میں لڑائی یا مسابقت اپنی اپنی معیشتوں کو مضبوط و توانا بنانے پر ہے؟
جی 20 معاشی طور پر خوشحال اور مضبوط ممالک کا ایساکلب ہے جس میں اگرچہ چین اور روس جیسے ممالک بھی شامل ہیں لیکن اثر ورسوخ کے لحاظ سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو اس میں کلیدی حیثیت اس وجہ سے حاصل ہے کہ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور انڈیا جیسے مضبوط معیشت کے حامل ممالک بڑی حد تک امریکا کے اتحادی ہیں۔
ہمارے میڈیا میں چائینہ کے بیلٹ اینڈ روڈ کاریڈور پر بہت کچھ بولا لکھا گیا ہے اب یہ بھی ملاحظہ فرمالیاجائے کہ جی 20 کے اٹھارویں اجلاس منعقدہ نئی دہلی میں انڈیا، مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کاریڈور سے جس ہیوی منصوبے کی نقاب کشائی ہوئی ہے وہ نہ صرف یہ کہ بیلٹ اینڈ روڈ سے دس گنا بڑا ہے بلکہ کئی حوالوں سے تہلکہ خیز ہے جس نے ہماری عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ جس طرح اس کانفرنس کا سلوگن تھا ”ایک دنیا، ایک فیملی اور ایک فیوچر“ اس کی مطابقت میں یہ پراجیکٹ انڈین معیشت کو مڈل ایسٹ سے جوڑتے ہوئے اسے یورپ اور امریکا تک استوار کردے گا۔ اسے ”شپنگ اینڈ ریل کاریڈور“ کا نام بھی دیاجارہا ہے اس میں ریلوے، بندرگاہیں یعنی پورٹس، ہائیڈروجن پائپ لائنز، الیکٹریسٹی اور ڈیجیٹل ڈیٹا نیٹ ورکس کے ذریعے رابطے قائم کیے جائیں گے۔ ممبئی سے دبئی تک شپنگ، دبئی سے سعودی عرب اور جارڈن سے گزرتے ہوئے اسرائیلی بندرگاہ حیفہ تک ریلوے لائن بچھائی جائے گی اور وہاں سے یورپ تک کاریڈور بنائی جائے گی گرین ہائیڈروجن کی تیاری اور ٹرانسپورٹ کے لیے انفراسٹرکچر بھی اس راہداری کے ذریعے بنے گا۔
یہ ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل ڈیٹا ٹرانسفر کو بھی زیر سمندر کیبل کے ذریعے مضبوط بنائے گا مغربی جمہوریتوں میں اسے گیم چینجر کا نام دیا جارہا ہے۔ قبل ازیں کنٹینروں کو نہر سویز سے گزرنا پڑتا تھا جس میں وقت اور سرمایہ یا لاگت بھی بڑھ جاتی تھی اب یورپ سے بھارتی تجارت چالیس فیصد تیز ہوجائے گی۔ چھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے جو مال چھتیس دنوں میں پہنچتا تھا وہ اب چودہ دنوں کی بچت کے ساتھ بائیس دنوں میں پہنچے گا یورپی یونین کی صدر کا کہنا ہے کہ انڈیا، مڈل ایسٹ اور یورپ کی یہ اقتصادی راہداری صرف ریلوے یا کیبل تک محدود نہیں یہ براعظموں اور تہذیبوں کے درمیان گرین ڈیجیٹل برج ہے۔ چینی بیلٹ اینڈ روڈ کاریڈور محض بھاری شرح سود پر دیگر ممالک کے لیے قرضوں کا شدید بوجھ تھا جب کہ یہ IMEC تمام مضبوط معیشت کے حامل ممالک کے باہمی مالی تعاون و اشتراک پر استوار ہے جس کے لیے سب سے بڑھ کر امریکا 200ارب ڈالر خرچ کرے گا۔ انفرسٹرکچر کے لیے بھارتی صلاحیت و تکنیک سے مستفید ہوا جائے گا ۔ بالخصوص ریلوے سسٹم کو مربوط بنانے کے لیے اسی طرح دیگر یورپین اور مڈل ایسٹ ممالک بھی اس میں رول ادا کریں گے۔ اٹلی کی وزیراعظم نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ چینی کاریڈور کو خیرباد کہنے جارہی ہیں۔ امید ہے چائینہ اس کا برا نہیں منائے گا۔ امریکی و عرب کمپنیاں بھارت میں انویسٹ کریں گی اور بھارتی ماہرین ان ممالک میں خدمات سرانجام دیں گے۔ سعودی عرب نے بھی دو لاکھ انڈینز کو اپنے ہاں مدعو کیا ہے جبکہ چوبیس لاکھ انڈینز پہلے ہی مختلف شعبہ جات میں یہاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور سعودیہ انڈیا میں سو ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ بھی کرنے جارہا ہے۔ سعودی عرب پانچ سو ارب ڈالر کی خطیر رقم سے جو نیوم سٹی بسارہا ہے بھارتی ماہرین اس میں بھی ہر نوع کی معاونت کررہے ہیں۔ سعودی اور ریاض ائیرلائنز بھی انڈیا کے لیے سرگرم ہوچکی ہیں۔
سعودی کراؤن پرنس ایم بی ایس نے اپنے تین روزہ دورۂ بھارت کے آخری دن فرسٹ لیڈرز سٹریٹجک پارٹنرشپ کونسل کے اجلاس میں پرائم منسٹر مودی کے ساتھ مشترکہ صدارت کرتے ہوئے پچاس کے قریب معاہدے کیے ہیں جن پر عملداری کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے یہ معاہدے خلیج تعاون کونسل تک بڑھائے جائیں گے سعودی عرب آندھرا پردیس میں جو آئل ریفائنری پروجیکٹ لگانے جارہا ہے وہ اس کا حصہ ہے۔ دہلی میں جی 20 سمٹ کی سربراہی کرتے ہوئے مودی نے سہ طرفہ مفادات اٹھائے ہیں ایک طرف خوشحال مسلم ممالک کو اپنے ساتھ جوڑا ہے جس کے لیے جمہوریہ مصر اور متحدہ امارات کے علاوہ بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے۔ سعودی عرب، انڈونیشیا اور ترکی تو پہلے ہی جی 20 کے ممبران کی حیثیت سے شریک تھے۔
ترک صدر طیب اردگان کے متعلق خیال کیاجاتا تھا کہ وہ بھارت کے لیے شاید گرمجوشی نہیں رکھتے مگر دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ We will be proud if India becomes permanent member of UN Security Council۔ اردگان نے شیخ حسینہ کے ساتھ مہاتما گاندھی کی سمادھی پر حاضری دیتے ہوئے دیگر عالمی لیڈروں کے ساتھ احترام پیش کیا یہ منظردیدنی تھا۔ وزیراعظم مودی کی دیگر عرب ممالک بالخصوص خلیج تعاون کونسل سے تعلق بڑھانے کی کاوشیں بھی ملاحظہ کی جاسکتی تھیں۔ اسی طرح چین کا افریقی ممالک میں جو اثررسوخ قائم تھا مودی نے بڑی حد تک اسے بھی رام کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جن دنوں بھارت میں چندریان کی کامیابی کا جشن منایا جارہا تھا مودی ساؤتھ افریقہ میں موجود تھے۔ اسی طرح انہوں نے نائجیریا کو قریب لانے میں بھرپور گرم جوشی دکھائی اور وہاں کوئی 19ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے
جی 20 سمٹ کی سربراہی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے افریقن یونین کو جی 20 کا باضابطہ ممبر بنوالیا ہے۔ واضح رہے کہ افریقن یونین پچپن افریقی ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے اور مودی نے سمٹ اجلاس کے دوران جس عزت افزائی کے ساتھ ممبر ممالک سے اس کی منظوری حاصل کرتے ہوئے افریقن یونین چیف کو دعوتِ خطاب دیتے ہوئے بلایا، جے شنکر بھارتی وزیرخارجہ ان کی ٹیبل پر پہنچے اور ساتھ لے کر آئے۔ ان کے خطاب میں شکریے کی جو گرمجوشی تھی یوں محسوس ہورہا تھا کہ انڈیا نے دنیا کی سترہ فیصد آبادی کے دلوں کو جیت لیا ہے۔ انہی کے لیے مودی نے گلوبل ساؤتھ کا لوگو دیتے ہوئے نہ صرف اپنا کنبہ قرار دیا بلکہ مستقبل میں ایک ساتھ آگے بڑھنے کے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پوری دنیا میں تعاون، اعتماد اور جڑاؤ کو اس طرح بڑھائیں گے کہ ہماری آنے والی نسلوں میں دوستیاں اور تعلق واسطے قائم ہوجائیں۔ یہ اس اپروچ کا نتیجہ تھا کہ سعودی کراؤن پرنس دہلی میں کھڑے ہوکر یہ کہتے سنائی دیے کہ ہماری ہند کے ساتھ صدیوں پر محیط اچھے تعلقات کی تاریخ ہے اور ہمارا انڈیا کے ساتھ کبھی کوئی تنازعہ یا اختلاف نہیں رہا، جس سے واضح طور پر سمجھا جاسکتا تھا کہ اس حوالے سے اگر کوئی بات تھی بھی تو وہ کسی دوسرے کی وجہ سے تھی۔
انہوں نے بھارت کے ساتھ سوشل، کلچرل اور اکانومی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے تعاون کو ویلڈن انڈیا کہا وہ جتنا بڑا ڈیلیگیشن لے کر بھارت آئے تھے ان کا سواگت اور گارڈ آف آنر بھی اتنا ہی شاندار تھا سعودی کنڈم میں جو چوبیس لاکھ انڈین ہیں ان کے حوالے سے بھی خاصی اچھی گفتگوئیں ہوئیں ۔ اس سے بھی بڑھ کر جی 20 کی خاص بات یہ تھی کہ بھارتی وزیراعظم نے یونائیٹڈسٹیٹس اور کنگڈم آف سعودیہ کے بیچ آتی غلط فہمیوں یا یہ کہ ہر دو شخصیات بائیڈن اور ایم بی ایس میں فاصلے کو قربت میں بدلتے ہوئے ایک نوع کا بڑھاوا دیا جس پر دونوں شخصیات نے مودی کی ستائیس کی اور جوبائیڈن نے سعودی عرب سے اسرائیل تک ریلوے ٹریک کی تعمیر کو دونوں ممالک کے تعلقات جوڑنے میں بھی معاون قرار دیا۔ مودی کی یہ خواہش محسوس کی جاسکتی تھی کہ مڈل ایسٹ ممالک چائینہ کی طرف رجوع کرنے کی بجائے انہیں اپنا دوست سمجھیں اور اپنے اصل اتحادی امریکا کی قربتوں میں خوشی محسوس کریں۔
نیو دہلی جی 20 سمٹ ڈیکلریشن یا جائینٹ سٹیٹمنٹ کے حوالے سے ان خدشات کا اظہار کیاجارہا تھا کہ شاید یوکرین جنگ کے باعث یہ ممکن نہ ہوپائے کیونکہ مغربی جمہوری ممالک اس میں جس نوع کی روسی مذمت چاہتے تھے اسے قبول کرکے مودی اپنے تاریخی طور پر پرانے اتحادی رشیا کو ناراض کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں خوبصورتی سے بیچ کی راہ یوں نکالی گئی کہ روس کا نام لیے بغیر کسی بھی جنگجوئی یا جارحیت کی مذمت کی گئی یہ کہا گیا کہ عصرِ حاضر جنگ کا نہیں اکانومی کا دور ہے۔ آٹھ پیراگراف میں دہشت گردی کی بھی خوب دھلائی کی گئی خارجہ تعلقات کے توازن کی یہ خوبصورتی تھی کہ روسی قیادت نے انڈیا کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ کچھ اسی نوع کا طرز عمل امریکی صدر جوبائیڈن کا بھی تھا جنہوں نے ویتنام پہنچتے ہی نہ صرف نریندرا مودی کی شان میں قصیدہ پڑھا بلکہ چائینہ کو بھی یقین دلایا کہ وہ اس کے خلاف کچھ کرنے نہیں جارہے ہیں۔ اس ساری تگ و دو کا ہر دو ممالک کے علاوہ ذاتی حیثیت میں بائیڈن کو کوئی فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے البتہ اگلے برس مودی کو ضرور پہنچے گا۔ یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ اس دویا سہ روزہ کاروائی میں پاکستان کا اچھے یا برے معنوں میں کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ اندرون ملک مہاتما گاندھی کی شخصیت پر جتنے بھی تیر و نشتر برسائے جاتے ہیں قابلِ ستائیس بات یہ ہے کہ مہاتما کی سمادھی پر جس طرح ننگے پاؤں دنیا کی طاقتور ترین قیادتوں نے حاضری دی۔ وہ لمحات تاریخی طور پر یادگار اور متاثرکن لگے۔
نیز برطانوی وزیراعظم رشی سونک کی سرگرمیاں بھی پوری کتاب کا عنوان تھیں۔ جوبائیڈن کی طرح رشی سونک نے شیخ حسینہ صاحبہ کی جو عزت افزائی کی وہ بھی لاجواب تھی۔ البتہ کینڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اپنی بھرپورعوامی پاپولیریٹی کے باوجود جس طرح خالصتانی مسئلے پر کھچے کھچے دکھائی دیے۔ اپنے جہاز کی مرمت کے بعد امید ہے وہ اس وچار کی مرمت و درستی پر بھی دھیان دیں گے۔ 37صفحات پر مشتمل طویل سمٹ ڈیکلریشن پر بحث اگلے کالم کے لیے اٹھائے رکھتے ہیں۔