نواز شریف بدحال معیشت کو کیسے درست کریں گے؟

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کی واپسی کے بعد سے ملکی سیاست میں  توقعات و اندیشوں کا اظہار سامنے آیا ہے۔ پارٹی  کی دوسرے درجے کی قیادت گرم جوشی کا مظاہرہ کررہی  ہے اور اسے امید ہے کہ نواز شریف ایک ایسا  ’مقناطیس‘ ثابت ہوں گے جو گزشتہ چند سال کے دوران پارٹی سے مایوس  یا بیگانے ہوجانے والے ووٹر کو واپس لانے میں کامیاب ہو گا۔ جبکہ دوسری طرف یہ سوال بھی سامنے آرہا ہے کہ کیا عدلیہ نواز شریف کو فوری ریلیف دے کر انہیں سیاسی طور سے متحرک ہونے کا موقع فراہم کرے گی؟

اصل حقیقت شاید ان دونوں سوالوں کے بین بین تلاش کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔  اس بات کا امکان تو نہیں  ہے کہ نواز شریف  ملکی سیاست میں کوئی انقلاب برپا کردیں گے لیکن  پنجاب  کے ووٹروں کی بڑی تعداد   نواز شریف سے توقعات رکھتی ہے ۔ خاص طور سے اوسط درجے  کے تاجرطبقہ میں  نواز شریف مقبول رہے ہیں۔  نئی سیاسی مہم جوئی کی صورت میں یہ ووٹر ایک بار پھر پارٹی کی طرف واپس آسکتا ہے تاہم ملکی سیاست میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ کہنا مشکل ہے  کہ کیا نواز شریف  ایک بار پھر ووٹروں کو یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں  گے کہ اگر اقتدار ملا تو وہ نہ صرف ملک کو ترقی کی شاہرہ پر گامزن کردیں گے بلکہ عام شہریوں کی حالت  میں بھی بہتری کی صورت پیدا ہوگی۔

سیاسی طور سے نواز شریف کو سب سے بڑا چیلنج عمران خان کی صورت  میں درپیش ہوگا۔ اگرچہ سانحہ 9 مئی کے بعد  تحریک انصاف  اپنے بقا کی جنگ میں مصروف ہے اور سیاسی میدان میں زیادہ متحرک نہیں ہے۔ عمران خان خود نااہل قرار دیے جاچکے ہیں  اور  اس وقت اٹک جیل میں قید ہیں۔ اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ان کا ووٹ بنک سلامت ہے اور وہ عوام میں بڑی مقبولیت کے حامل ہیں۔ پاکستانی سیاسی تناظر میں مقبولیت کا کوئی مخصوص پیمانہ یا معیار موجود نہیں ہے ۔ میڈیا میں قائم کی جانے والی رائے کا کچھ تعلق تو زمینی طور سے مشاہدہ کیے جانے والے احساسات سے ہوسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کے اس دور میں بڑی حد تک ایسی رائے  سازی کے لیے بھی کئی ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ تحریک انصاف اور عمران خان کے حامی  سوشل میڈیا کے  مؤثر  استعمال کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اس تاثر کو قائم کرنے میں بھی کامیاب ہیں کہ عمران خان  میدان میں نہ بھی ہوں لیکن ان کے نام سے جو بھی انتخاب میں حصہ لے گا ، اسے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوگی۔

تحریک انصاف  اسی لئے مسلسل انتخابات کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اب بھی اس کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں جیسے عذر تراشنے کی بجائے آئین کی مقررہ مدت کے اندر انتخابات کروانے چاہئیں تاکہ عوام و خواص کو پتہ چل جائے کہ کون سی پارٹی درحقیقت پاکستانی عوام کی نمائیندہ ہے۔ یہ دعویٰ  عمران خان کی ذاتی مقبولیت کی بنیاد پر کیا  جاتا ہے بصورت دیگر تحریک انصاف کے پاس نہ تو کوئی ایسا انقلابی سیاسی منشور ہے اور نہ یہی اس نے  ملکی مسائل حل کرنے کا کوئی واضح منصوبہ پیش کیا ہے۔ عمران خان کی انفرادی مقبولیت کو البتہ انتخابی کامیابی کا پیمانہ  نہیں مانا جاسکتا۔  اس لئے دیکھنا ہوگا کہ انتخابات میں عوام کی اکثریت کن عوامل سے متاثر ہوکر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن  یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ ملکی اسٹبلشمنٹ اور عمران خان کے سیاسی مخالفین کی خواہش کے باوجود عمران خان ملکی سیاست میں ایک اہم فیکٹر  کی حیثیت رکھتے ہیں۔  وہ نااہل قرار دیے جائیں یا جیل میں ہوں، کم از کم آئیندہ کسی بھی انتخاب میں ان کے حامیوں کو قابل ذکر کامیابی ضرور ملے گی۔

نواز شریف کو پنجاب میں عمران خان  کے فیکٹر سے نمٹنا ہوگا تاکہ      پنجاب اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی میں  مسلم لیگ (ن) اتنی بڑی تعداد میں  نشستیں حاصل کرسکے کہ وہ آسانی سے  تن تنہا نہیں تو قابل اعتبار  حلیفوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے۔   یہ مقصد حاصل کرنا  جوئے شیر نکالنے  کے مترادف ہوگا کیوں کہ مسلم لیگ  (ن)   نے 16 ماہ تک پی ڈی ایم حکومت کی قیادت کی ہے۔ شہباز شریف کے دور میں ایک تو عوام کو  کوئی معاشی ریلیف نہیں مل سکا ۔ دوسرے جس معاشی تباہی کا الزم دیتے ہوئے تحریک انصاف کو اقتدار سے محروم کیا گیا تھا ، اس کا سلسلہ جاری رہا۔ شہباز شریف کے عہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ملکی معیشت اس سے کئی گنا ابتر حالت میں تھی جس میں عمران خان اسے چھوڑ کر گئے تھے۔

شہباز شریف نے معاشی بدحالی اور اپنی ناکامی کا الزام مسلسل تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں پر عائد کیا تھا لیکن  عوام اب  ان کی اپنی سولہ ماہ کی حکومت کا جائزہ لیتے ہیں اور اس دوران کیے گئے مشکل فیصلوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ ان حالات میں انہیں اس بات پر قائل کرنا ممکن نہیں ہوگا کہ اس وقت پائی جانے والی ساری خرابی کے ذمہ دار عمران خان اور ان کی پارٹی ہے۔  تحریک عدم اعتماد کے  ذریعےحکومت تبدیل ہونے کا ایک یہ نتیجہ بھی سامنے آیا ہے کہ   اب تحریک انصاف کی بجائے  مسلم  لیگ (ن)  اسٹبلشمنٹ کے قریب سمجھی جارہی ہے۔ شہباز شریف کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے اور وہ اسی  سیاسی حکمت عملی کے ذریعے ایک بار پھر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ ستم ظریفی مگر یہ ہے کہ ایک طرف وہ اسٹبلشمنٹ کی سرپرستی چاہتے ہیں تاکہ ایک بار پھر وزیر اعظم بن سکیں تو دوسری طرف انتخابی کامیابی کے لیے انہیں اپنے بھائی نواز شریف کی مکمل اور غیر مشروط تائد کی ضرورت ہوگی ،کیوں کہ شہباز شریف اپنے طور پر یا نواز شریف سے بغاوت کرکے  انتخابی سیاست میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

نواز شریف، تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان سے نالاں تھے۔ اس لیے  انہوں نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت بھی کی اور شہبازشریف کی حکومت کے پیچھے بھی کھڑے رہے۔ البتہ اب  ان سولہ ماہ کی کارکردگی عوام کے علاوہ نواز شریف کے  بھی سامنے  ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ کسی تصادم سے بچنے کے لیے مسلسل  شہباز شریف کی حمایت کریں گے اور   آئیندہ انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی بجائے ایک بار پھر شہباز شریف کو ہی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے پر آمادہ ہوں گے۔  یا وہ خود وزیر اعظم بننے پر اصرار کریں گے اور اسٹبلشمنٹ کے علاوہ عدلیہ کو بھی قائل کرسکیں گے کہ تبدیل شدہ حالات میں  ان کے علاوہ کسی میں  ملک  کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ یہ اشارے سامنے آئے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ  کے لیے شاید نواز شریف  قابل قبول نہ ہوں۔  مسلم لیگ (ن) اگر شہباز شریف کی  صورت  میں  اقتدار  حاصل کرتی ہے تو نواز شریف کو   اپنی بیٹی مریم نواز کی سیاسی امنگوں کا خون بھی کرنا پڑے گا۔ دیکھا جاچکا ہے کہ مریم نواز  ’کراؤڈ پلر‘ تو  ہے لیکن وہ اس مقصد  کے لئے اپنے والد ہی کا نام استعمال کرتی ہیں اور ابھی تک  سیاسی طور سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہونے کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کرسکیں۔

سیاسی بساط پر درپیش چیلنجز سے قطع نظر نواز شریف   اگر شدید سیاسی جد و جہد سے ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو دیکھنا ہوگا کہ  وہ ملک کو موجودہ  مالی و سیاسی بحران سے کیسے باہر نکالیں گے اور ایک بار پھر معاشی بحالی کا سفر کیسے  شروع ہوگا۔ اس کے علاوہ  پاکستان کو عالمی و علاقائی منظر نامہ میں  دوبارہ کیوں کر  اہم  اور ضروری حصہ دار بنایا جائے گا۔  داخلی سیاسی  مشکلات کے علاوہ اس حوالے سے انہیں ٹھوس حکمت عملی کے ساتھ  سامنے آنا ہوگا تاکہ انتخابی مہم کے دوران عوام اور اسٹبلشمنٹ پر واضح ہوسکے کہ   مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ملک کی سمت کیا ہوگی اور کیسے گزشتہ ایک دہائی کے دوران کی جانے والی سیاسی غلطیوں کی اصلاح ممکن ہوگی۔

اس حوالے سے نواز شریف کو بعض اہم  ٹارگٹ مقرر کرنا ہوں گے:

اوّل: ملک میں سیاسی تصادم کی فضا  ختم کی جائے اور سیاسی پارٹیوں میں مکالمہ کا آغاز ہو تاکہ ہر انتخاب کو متنازعہ بنانے کی بجائے مخالف کی فتح یا اپنی شکست تسلیم کرکے پارلیمنٹ میں قومی مقاصد کے لیے مل کر  کام کیا جاسکے۔

 دوئم: اسٹبلشمنٹ کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ  بتدریج سیاسی فیصلوں سے دست بردار ہو اور سیاسی قیادت کو اہم فیصلے کرنے اور ملک کی  سمت متعین کرنے کا  کامل اختیار حاصل ہوسکے۔

 سوئم: ملک میں بنیادی حقوق کی صورت حال بہتر بنائی جائے، سیاسی بنیادوں پر انتقامی کارروائیوں کا خاتمہ ہو، میڈیا کو آزادی دی جائے اور مخالفانہ نقطہ نظر قبول کرنے کا مزاج استوار کیا   جائے۔

چہارم: ملک میں مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ  ہو۔ شدت پسند  گروہوں کو ’اثاثہ‘ سمجھنے کے طرز عمل کا مکمل طور سے خاتمہ  کیا جائے  تاکہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی  کے خلاف فکری و عملی فضا ہموار ہوسکے ۔ اس کے علاوہ پاکستان ایک پر امن اور قابل اعتبار معاشرے کے طور پر سامنے آسکے۔ 

پنجم: معاشی بحالی کے لیے علاقائی  تعاون کے  تمام منصوبوں کو بحال کیا جائے۔ بھارت کے علاوہ، ایران اور افغانستان کے ساتھ ضد و مخاصمت کے تعلق کو تعاون، بقائے باہمی اور دھیرے دھیرے دوستی میں تبدیل کیاجائے۔  پاکستان کے سیاسی لیڈروں کے علاوہ ریاستی اداروں  میں اس بات پر  اتفاق رائے پیدا کیاجائے کہ  ترقی کا راستہ جنگ، ہمسایوں سے تنازعات کو طول دینے اور مسلسل  ہیجان میں  مبتلا رہنے سے طے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے اعتماد سازی اور باہمی احترام کا رشتہ استوار کرنا ضروری ہے۔

ششم:علاقائی مسائل کو  طاقت کے زور پر حل کرنے کا خواب دکھانے کی  بجائے عوام کو یہ مان لینے  کے لیے تیار کیاجائے کہ  جدید عہد میں عزت و احترام اور خوشحالی و فلاح کی منزل پانے کے لیے دشمنی کی بجائے دوستی و تعاون بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے ملکی نصاب میں  دوررس تبدیلیاں  کی جائیں۔  ہمسایہ ملکوں کے بارے میں  نفرت کا پرچار  بند کیا جائے اور  مل جل کر رہنے کا سبق  عام کیاجائے۔

نواز شریف سمیت  مستقبل کا کوئی بھی لیڈر اگر ان چند باتوں کو ملکی معاشی، خارجہ، سیاسی و سماجی پالیسی کا رہنما اصول بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا تو پاکستان کو درپیش موجودہ تہ دار بحران کم نہیں ہوگا بلکہ اس کی شدت میں  اضافہ ہوتا رہے گا۔ ملک کو درپیش مسائل کا حل کسی ایک شخصیت کے  واپس آنے یا اقتدار حاصل کرنے میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ملک کی پالیسیوں اور سوچنے کے طریقے کو تبدیل کرنا ضروری ہوگا۔