نریندرامودی اور رشی سونک مہان سیوک

دہلی میں منعقدہ اٹھارویں جی 20 سمٹ جیسی خوبصورتی اور گہما گہمی شاید دنیا نے پہلے سترہ اجلاسوں میں کم ہی ملاحظہ کی ہو۔ دہلی کے وسط میں نو تعمیر شدہ بھارت منڈیان کنونشن سنٹر کا عجب سماں دکھائی دیا۔

بارش سے بھیگے ہوئے سبزے پر عالمی قائدین جب ننگے پاؤں راج گھات میں مہاتما گاندھی کی خوبصورت سمادھی پر حاضری کے لیے دھیمی چال چلتے سرنگوں ہوئے کھڑے تھے، ان لمحات میں تمام بھارتی اپنا سرفخر سے بلند کرسکتے تھے۔ کہ اپنے جس باپو پر تنقید کے تیر برسانے کا کوئی موقع وہ کم ہی جانے دیتے ہیں، اُسی مہاتما کے چرنوں میں دنیا کے طاقتور ترین ممالک کی عالمی قیادت ہدیۂ تبریک یا خراجِ تحسین پیش کررہی تھی۔ سب سے بڑھ کر بھارتی پردہان منتری نریندرامودی عالمی قائدین کا سواگت کرتے ہوئے انہیں گاندھی جی سے جڑی کھادی کے مفرل گلے میں پہنا رہے تھے اور صابر متی میں لے جائے بغیر صابر متی کے رشی کی یادیں اور آدرش دنیا والوں کو باتوں اور اشاروں میں سمجھا رہے تھے۔

سناتن دھرم یا ہندو مت کی سادگی و عاجزی و انکساری میں کیا خوبصورتی ہے۔ گریٹ بدھا سے لے کر عظیم شاعر رابندرناتھ ٹیگور تک بشمول مہاتما گاندھی سبھی سادگی و عاجزی کا نمونہ و ماڈل رہے۔ سچ کہتے ہیں جس ٹہنی کو پھل لگتا ہے، وہی جھکتی ہے یا شاید جس میں جھکنے کی کوالٹی و صلاحیت ہوتی ہے قدرت بھی اپنی نوازشات کا ثمر یا پھل اُسی کی تقدیر میں لکھتی ہے۔ ہندو کا سینہ کتنا وسیع اور دل کتنا بڑا ہے، شاید اس کے صلے میں قدرت نے آج ہندوستان، ہند، بھارت یا انڈیا کے واسیوں کو دنیا میں اس قدر قابلِ عزت و احترام مقام بخشا ہے۔

چیڑپھاڑ یا کھلواڑ کے نعرے لگانے والے آج شاید شرمندگی محسوس کریں کہ اس بھارت ماتا کا فرزند مودی جس طرح آج پوری دنیا کو یہ سلوگن دیتا پایا جاتا ہے سب کا اتہاس سب کا ویکاس، ون ورلڈ، ون فیملی اینڈ ون فیوچر انسانیت سے بلیسنگ والا یہ نیا خوبصورت نعرہ ہے اور طرزِ عمل بھی اسی کی مطابقت میں۔ جسے شک ہے وہ بے شک بڑے شوق سے اپنے آئین کا تقابل بھارتی آئین سے کرتے ہوئے اصلیت ملاحظہ فرما لے۔ رہ گئیں سوسائٹیاں یا سماج کی خرابیاں، اُن کا بھی اگر منصفانہ تقابلی جائزہ لیاجائے تو حق سچ یا انصاف کی آواز ایک دن ضرور جعلی پروپیگنڈے پر حاوی ہوکررہے گی۔

شاید ہندو کی سرشت میں امن و شانتی ہے جو انہوں نے کبھی کسی غیر ملک پر دھاوا نہیں کیا، کبھی کسی پر قبضہ نہیں جمایا بلکہ اکثر و بیشتر اپنا آپ دوسروں کے ہاتھوں لوٹا یا رشی سونک کا دادا کسی زمانے میں خطۂ ہند کے شہر گوجرانوالہ مغربی پنجاب کا رہائشی تھا۔ اچھا ہوا کہ وہ براستہ کینیا گریٹ برٹن تک پدھار گیا۔ اگر وہ یہاں سے ہجرت کرتے ہوئے افریقہ نہ جاتے تو اُن کی فیملی شاید انگلینڈ بھی نہ پہنچ پاتی۔ آج قدرت کی کیا نوازش ہے کہ ان کا ہونہار پوتا انگلستان کا پردھان منتری ہے۔ درویش نے لکھا کہ اچھا ہوا جو وہ سنتالیس سے قبل ہی اپنا وطن چھوڑ افریقہ جابسے ورنہ بٹوارے کے ہنگاموں میں بھاگتے ہوئے کسی اتنگ وادی کے ہتھے چڑھ جاتے اور اُن کی لاش اس ٹرین یا مال گاڑی میں پڑی ملتی جس پر یہ لکھا ہوا تھا کہ گاندھی اور نہرو کے لیے تحفے۔

آج یہی رشی سونک جو اتنی تاریخی سپر پاور کا پردھان منتری ہے۔ قدرت نے اُسے یہ عظیم تاریخی رتبہ بخشا ہے مگر اس کی ذات اور شخصیت میں شری رام چندرجی مہاراج نے کس قدر سادگی و عاجزی رکھی ہے کہ وہ اپنی ہند یاترا کے دوران جی 20 سمٹ سے نکلتے ہوئے اپنی امیر ترین انڈین پتنی کے ساتھ صدیوں قدیمی تاریخی رام کتھا مندر میں ننگے پاؤں داخل ہورہا ہے۔ بھگوان کے چرنوں میں ماتھا ٹیکتا ہے اور بولتا ہے کہ میں یہاں پرائم منسٹر آف یوکے کی حیثیت سے نہیں آیا ہوں۔ بھگوان رام کا سیوک بن کر ایک ہندو یاتری کی حیثیت سے ماتھا ٹیکنے آیا ہوں۔ یہی گریٹ انسان بنگلہ دیش کی پردھان منتری شیخ مجیب الرحمن کی سپتری شریمتی شیخ حسینہ کو ملتے ہوئے کیا خوبصورت منظر دکھاتا ہے۔ شیخ حسینہ صاحبہ کرسی پر براجمان ہیں اور یہ ساتھ گھٹنوں کے بل ایک ٹانگ نیچے بچھائے کس محبت و احترام کے ساتھ بیٹھے گفتگو کرتے پایا جاتا ہے۔

وہ برٹش قوم بھی کتنی عظیم ہے جس کا یہ انمول انسان پردھان منتری ہے۔ وہ آکسفورڈ کے مندر میں پوجا پاٹ کرے یا دہلی کے مندر میں ماتھا ٹیکے یا تمام تر ہندو اطوار کھلے بندوں اپنائے، کہیں اس کے اوپر پورے برطانیہ میں کوئی کیچڑ نہیں پھینکتا، کوئی تضحیک نہیں کرتا کوئی تنقید کے تیر و نشتر نہیں چلاتا کہ تو ہمارے ایک مسیحی میجارٹی والے ملک کا وزیراعظم پردھان منتری یا پرائم منسٹر ہوتے ہوئے یہ ساری پوجا پاٹ کیوں کرتا پایا جاتا ہے۔ اس سے مسیحیت کی کوئی توہین ہوتی ہے نہ بلاسفیمی لگتی ہے، نہ پردھان منتری کی گدی پر کوئی زد پڑتی ہے۔

درویش کو اچھی طرح یاد ہے کہ ایک زمانے میں پاکستان کا صدر ضیا سری لنکا کے دورے پر تھا۔ وہاں کسی سٹوپا یا مندر میں اس بیچارے نے مہاتما بدھا کی مورتی پر روایتی اسلوب میں جس طرح دیگر معززین و سپیشل گیسٹ پھولوں کی پتیاں پھینک رہے تھے، چند پتیاں پھینک دیں تو پاکستانی متعصب میڈیا میں یوں تھرتھلی مچ گئی۔ اس قدر گھٹیا تنقید ہوئی کہ جیسے ہمارے صدر نے کوئی بدترین پاپ کرڈالا ہو اور یہ تنقیدی نشتر طویل عرصے تک چلتے رہے ۔ بھارتی پردھان منتری نریندرامودی نے بھی جی 20 اور ان سے منسلک عالمی قیادت کو جس طرح بھارت دیش کے باپومہاتما گاندھی کی سمادھی پر حاضری دلوائی ہے اس پر وہ ہم سب کی تحسین و ستائیش کے حقدار ہیں۔ عام بھارتیوں کو بھی یہ ادراک ہونا چاہیے کہ جس طرح پوری دنیا تاج محل کو بھارت کا روشن تاریخی نگینہ مانتی ہے اور محبت کی اس یادگار کو دیکھنے کی متمنی رہتی ہے، اسی طرح جدید ہند کے باپو پوری مہذب اور باشعور دنیا میں ایک عظیم مہاتما اور عدم تشدد کے پرچارک و علمبردار کی عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ دنیا انہیں سری رام چندرجی، کرشنا مہاراج، جیزز اور بدھا کے حقیقی پیروکار کی حیثیت سے جانتی و مانتی ہے۔ اس لیے اگر آپ لوگ ان کا عالمی قد نیچا کریں گے تو خود اپنے آپ کو نیچا کریں گے۔ مہاتما گاندھی جدید ہند کی آن بان اور شان اور پہچان ہیں۔

دہلی سے اترپردیش تک علم کی روشنی پھیلانے والے سرسید جو بھارتی دلکشی کی تمثیل ایک خوبصورت دلہن سے دیتے ہوئے ہندو مسلم کو اس کی دو چمکتی آنکھیں قرار دیتے تھے۔ ایک دفعہ خبر آئی تھی کہ بھارت میں نریندرامودی کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ وہ سرسید کا نیا جنم ہیں تو درویش کو بڑی خوشی ہوئی۔ لیکن آج وہ عالمی سطح پر امن و شانتی اور ترقی و خوشحالی کو بڑھاوا دینے کے لیے جو کاوشیں کررہے ہیں اور پوری دنیا میں اپنی جنم بھومی بھارت ماتا کا نام جس طرح روشن کررہے ہیں، اس کے کارن درویش کی دعا ہے کہ وہ اگلا چناؤ بھاری اکثریت سے جیتیں تاکہ انہیں ایک ارب چالیس کروڑ عوام کی خدمت کا مزید موقع مل سکے۔ اور وہ بالآخر بی جے پی کے مہاتما گاندھی ثابت ہوں۔

بھارتی قیادت میں درویش کو اٹل بہاری واجپائی بطور پردھان منتری سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں اور آج نریندرا مودی اپنی قوم کی جو خدمت کررہے ہیں، عالمی سطح پر اُن کی پہچان ایک نئے گاندھی کی ابھررہی ہے۔ بشرطیکہ اگر راہول یا سونیا جی اس بات کا بُرا نہ منائیں اور بی جے پی والے بھی زیادہ غصہ نہ دکھائیں۔ اتنی بڑی کامیابیوں پر ہماری شبھ کامنائیں مودی جی اور اُن کی انڈین نیشن کے لیے ہیں۔