سماج کے سفاک بھیڑیے
- تحریر علی اصغر عباس
- جمعہ 15 / ستمبر / 2023
اباجی بتایا کرتے تھے کہ انہوں نے شادی کے بعد سات روپے سکہ رائج الوقت کے مطابق ایک گائے خریدی جس کے ساتھ چار مہینے کا بچھڑا بھی تھا اور وہ صبح شام کا ملا کر پانچ چھ سیر دودھ دیا کرتی تھی۔
حاجی اللہ بخش آٹے کی اڑھائی من کی بوری گھر پہنچا دیتا تھا،جس کی قیمت یہی کوئی آٹھ روپے چار آنے ہوتی تھی۔ماں جی، ناجی بھائی کو پونے کے کونے میں چونی باندھ کے چوبارے کے نیچے قصائی کی دکان پر بھیجتی تھیں، قصاب ایک پاؤ صاف ستھرا گوشت پورا پاؤ تول کر دیتا اور ساتھ والی سبزی کی دکان سے آدھا سیر ٹینڈے جن کے ساتھ باقی دھنیا وغیرہ لے کر دے دیتا،جنہیں ماں جی چوبارے سے ٹوکری لٹکا کر لے لیتی تھیں۔
ابا جی کی یہ کہانی پاکستان بننے سے پہلے کی ہے جو ہم نے اپنے بچپن میں سنی تھی جب گوشت چار روپے سیر ہوچکا تھا اور آٹے کی بوری یہی کوئی پندرہ سے پچیس روپے کے درمیان آتی تھی۔صدیق گجر چار آنے کی گڑوی دودھ جھاگ مار کر دیتا تھااور شفیع قصاب گوشت چار روپے سیر دیتا تھا جس نے جنگ کے زمانے میں گوشت چار روپے سے چھ روپے کردیا تو اباجی نے اسے کہا کہ او شریف آدمی آٹھ آنے روپیہ کی بجائے سیدھا دو روپے بڑھا دیئے؟ تو وہ ہنس کر بولا میاں جی گوشت دس روپے سیر بھی ہوگیا تو لوگوں نے تب بھی کھانا ہے۔ اور آج قصاب 2700 روپے کلو بھی اپنی مرضی کے گوشت کا پیس کاٹ کر تول کے صاف کرتاہے جو گاہک کو تین ہزار روپے کلو میں پڑتا ہے اور وہ اعتراض بھی نہیں کرسکتا کہ قصاب چھری ٹوکے سے مسلح ہوتا ہے اور گاہک خالی ہاتھ جو ظاہر ہےمسلح شخص کا مقابلہ تو نہیں کرسکتا ناں۔
یہ خالی ہاتھ والا بندہ گنتی کے چند سفید پوش عوامی لوگوں میں سے ایک ہوتا ہےکیونکہ حالات کے دھارے میں بہہ کر سفید پوش لوگوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے اب غربت کی لکیر کے نیچے کھسکتی ہوئی قابل رحم حالت کا شکار ہوچکی ہے۔ ماہرین معاشیات کا مفروضہ ہے کہ درمیانے درجے کے لوگوں کی کثیر تعداد اب غریب غربا میں شامل ہوچکی ہے، جبکہ متمول لوگوں کی معقول تعداد ثروت مند ہونے کے باعث خوشحال طبقے میں شمار ہونے لگی ہے۔ اور جس روز متوسط طبقے کے سارے درجے اوپر نیچے ہوکر اس طبقے کا مکمل خاتمہ ہوگیا تو تب ملک میں طبقاتی لحاظ سے صرف دو درجے ہی باقی بچیں گے، بہت امیر یا بہت ہی غریب۔یہی ایک ایسے انقلاب کا نقطہ آغاز ہوگا جس میں واقعتا ً تاج اچھالے جائیں گے اور تخت گرائے جائیں گے۔البتہ خلقِ خدا کے راج کرنے کی باری آنے میں دیر ہے،بہت دیر ۔ہاں اندھیر نہیں کہ یہ تو ابھی سے بہت مچا ہوا ہے، اتناکہ اب خود اندھیر مچانے والوں کے اپنے ہی گروہ سے اس ظلم و ستم کے خلاف آوازیں اُٹھنے لگی ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہی لوگوں کے پیدا کردہ حالات اس نہج پہ لانے والوں کی ستم رانی سے اندازہ ہونے لگا ہے ”وہ بھوک ہے کہ اعضاکہیں اعضاء کو نہ کھالیں“۔
بجلی،پٹرول،گیس،اور چینی آٹے کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں جن بے بس لوگوں کو اجتماعی خودکشیوں پر ابھار رہی ہیں۔ اگر انہیں ہوش ربا نرخوں نے گھر بار کا سامان بیچنے والوں کو قیمتی اشیا سے بھری دکانوں اور سامان تعیش سے بھرے گھروں میں داد عیش دینے والوں کو سزا دینے کا خیال سجھا دیا تو پھر کیا ہو گا؟ یہ بات مال داروں کے پھینکے ہوئے ٹکڑوں پہ پلنے والے نام نہاد دانشوروں کے دولے شاہی چوہوں کے دماغوں میں کبھی نہیں آئے گی۔ جن دماغوں میں یہ بات گھر کرے گی ان کے شکم خالی ہوں گے اور کون نہیں جانتا کہ ایسے لوگ گنتی کا پہاڑا پڑھتے ہوئے 2+2 کا جواب چار نہیں دیتے بلکہ چار روٹیاں ہی کہتے ہیں۔ یہ چار روٹیا ں جس کے پاس ہوں گی وہ اگر ان میں سے تین روٹیاں تین خالی پیٹ والوں کے ساتھ مل بانٹ کر نہیں کھائے گا تو پھر لوگ بھوکے بھیڑیوں والی کہانی بھول جائیں گے۔
بھوکے بھیڑیئے جو دائرے میں بیٹھے اس کمزور بھیڑیئے کی آنکھ جھپکنے کے منتظر ہوتے ہیں جو نیند سے مغلوب ہونے کی کوشش میں ناکام رہتا ہے نتیجتا ً اپنے ہی ساتھیوں کی شکم سیری کا سامان بن جاتا ہے۔معاشی حالات نے لوگوں کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہے۔ اب بھوکے گروہ میں سے جوبھی نیند سے مغلوب ہوکر آنکھ جھپکے گا اس کی آنکھ روز حشر ہی کھلے گی۔حشر،جو اب نہ اٹھا تو پھر تاقیامت نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے کہ شادی کے بینڈ باجے والے صور اسرافیل پھونکنے لگیں قیامت کی گھڑیاں گننے کی بجائے،بھوکوں کے لئے روٹیاں گننا شروع کرلی جائیں۔